بند کریں
صحت صحت کی خبریںکراچی ،ڈاؤ یونیورسٹی میں سماعت سے محروم مزید13بچوں کے کامیاب کاکلیئر امپلانٹ آپریشن

صحت خبریں

وقت اشاعت: 30/10/2015 - 14:27:53 وقت اشاعت: 30/10/2015 - 11:19:26 وقت اشاعت: 30/10/2015 - 11:19:26 وقت اشاعت: 29/10/2015 - 12:11:36 وقت اشاعت: 28/10/2015 - 16:35:48 وقت اشاعت: 28/10/2015 - 16:19:03 وقت اشاعت: 28/10/2015 - 15:31:38 وقت اشاعت: 28/10/2015 - 14:23:59 وقت اشاعت: 28/10/2015 - 13:28:03 وقت اشاعت: 27/10/2015 - 17:08:33 وقت اشاعت: 27/10/2015 - 16:53:45

کراچی ،ڈاؤ یونیورسٹی میں سماعت سے محروم مزید13بچوں کے کامیاب کاکلیئر امپلانٹ آپریشن

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 28 اکتوبر۔2015ء) ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے گذشتہ ماہ اوجھا کیمپس میں کاکلیئر امپلانٹ ٹریننگ ورکشاپ کا انعقاد کیا جس میں ای این ٹی سرجن ، پوسٹ گریجوئیٹ ٹرینی اور جونیئر ڈاکٹروں کو کاکلیئر امپلانٹ کی تربیت دی گئی۔ یہ ٹریننگ ورکشاپ لیکچر اور سرجری پر مبنی تھی اور اس ورکشاپ کے دوران 13 مزیدسماعت سے محروم مریضوں کے کامیاب کاکلیئر امپلانٹ کیے گئے اور تمام آپریشن بغیر کسی پیچیدگیوں کے ساتھ مکمل ہوئے۔

ورکشاپ کا انعقاد ڈاؤ یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر اور کاکلیئر امپلانٹ کے ڈائریکٹرپروفیسر محمد عمر فاروق نے کیا۔ ان 13 کاکلیئر امپلانٹ آپریشن میں ایک پرانا مریض جسے پہلے امپلانٹ کیا گیا تھااس میں فنی خرابی کی موجودگی کی نشاندہی کے باعث دوبارہ آپریشن کی ذریعے متعلقہ مریض کے کاکلیئر امپلانٹ کی تنصیب کی گئی۔ان کاکلیئر امپلانٹ آپریشن سے پہلے تمام مریضوں کے سماعت سے متعلق تمام جدید ترین ٹیسٹ کروائے گئے جس کی روشنی میں سماعت سے محروم مریضوں کو کوکلیئر امپلانٹ کیلئے منتخب کیاگیا۔

بدھ کو ڈاؤ میڈیکل کالج، ڈاؤ یونیورسٹی میں ان تمام مریضوں کے کاکلیئر امپلانٹ کا سوئچ آن کیا گیا اور اس سلسلے میں ایک پریس بریفینگ کا بھی انعقاد کیا گیا جس کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر فاروق نے کی۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر فاروق نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایاکہ بفضل الله، تما م آپریشن کامیاب رہے اور ان مریضوں میں کسی قسم کی پیچیدگیاں رونما نہیں ہوئیں ۔


ڈاؤ یونیورسٹی میں اب تک 40 سماعت سے محروم مریضوں کے کامیاب کاکلیئر امپلانٹ کیے جاچکے ہیں اور یہ سلسلہ مرید جاری رہے گیا۔ان مریضوں کو اسپیچ تھراپی بھی کروائی جائیگی اور 2سال کے عرصے میں انکی بولنے اور سننے کی صلاحیات بحال ہوجائیگی۔انھوں نے مزید کہا کہ ایسے افراد جوپیدائشی جن کا سننا بند ہوگیا ہو یا پھر وائرل کی وجہ سے اس کے سننے کی صلاحیت ختم ہوگئی ہوتو ان میں ایک جدید آلہ لگایا جائے گا جس کے بعد سے ان کی سننے کی صلاحیت بحال ہوجائیگی ۔

وہ بچے جو پیدائشی طور پر سماعت سے محروم ہوتے ہیں اگر ان کو یہ آلہ لگایا جائے کو سماعت بحال ہوسکتی ہے۔ کلیئر ایمپلانٹ لگانے سے پہلے اور بعد میں مختلف ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ڈاؤ یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمید خان نے کاکلیئر امپلانٹ پروگرام کو جاری رکھنے کیلئے یونیورسٹی فنڈ سے ایک کڑور روپے عطیہ کیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم تمام مخیر حضرات کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے اس پروگرام میں معالی تعاون کیا۔ اس موقع پر منتظمین نے حکومت سندھ، محکمہ صحت اور مخیر خضرات سے اس پروگرام میں تعاون کی درخواست کی تاکہ مزید سماعت سے محروم بچوں کوکاکلیئر امپلانٹ لگایا جاسکے۔

28/10/2015 - 16:19:03 :وقت اشاعت