بند کریں
صحت صحت کی خبریںخوراک میں بار بی کیو گوشت کی زیادہ مقدار سے گردے کے سرطان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،سائنسدانوں کی ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 13/11/2015 - 11:51:30 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 16:33:21 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 16:27:58 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 14:17:42 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 14:00:52 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 13:20:52 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 13:21:44 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 13:08:50 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 13:07:40 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 13:00:43 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 12:56:15

خوراک میں بار بی کیو گوشت کی زیادہ مقدار سے گردے کے سرطان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،سائنسدانوں کی وارننگ

کھلے شعلوں اور تیز آنچ پر گوشت پکانے سے، گوشت کینسر کا باعث بننے والے مادوں کو پیدا کرتا ہے،نئی تحقیق

لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 نومبر۔2015ء)سائنس دانوں نے نئی تحقیق کے بعد خبردار کیا ہے کہ خوراک میں بار بی کیو گوشت کی زیادہ مقدار سے گردے کے سرطان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔امریکی ڈاکٹروں کی ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ اچھی طرح سے پکا ہوا گوشت گردے کے سرطان کا سبب بن سکتا ہے۔نئی تحقیق کے مطابق کھلے شعلوں اور تیز آنچ پر گوشت پکانے سے، گوشت کینسر کا باعث بننے والے مادوں کو پیدا کرتا ہے۔

واضح رہے کہ انسانی جسم میں سرطان کا باعث بننے والے مادوں یا دھاتوں کو 'کارسینو جینک' کہا جاتا ہے۔سائنسی جریدہ ’جرنل کینسر ‘ میں شائع ہونے والی تحقیق میں محققین نے لکھا کہ شعلوں پر اعلیٰ درجہ حرارت پر گوشت پکانے یا پھر تیز آنچ پر گوشت پکانے سے گوشت پر مشتمل نقصان دہ کیمیکلز میں اضافہ ہوتا ہے۔گردہ جسم سے غیر ضروری اور نقصان دہ کیمیائی عناصر کو فلٹر کرتا ہے لہذا سائنس دانوں نے اندازا لگایا ہے کہ گردہ جسم سے کینسر کا باعث بننے والے مادوں کو آزاد کرنے کی کوشش میں کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

تحقیق کاروں کی ٹیم نے واضح کیا ہے کہ جب گوشت گرل کیا جاتا ہے تو یہ کارسینوجینک مادوں پی ایچ ایل پی اور میل کیو ایکس کو پیدا کرتا ہے، جو انسانی جسم کی جینیات پر حملہ آور ہونے یا جسم میں خلیوں کے بننے اور ٹوٹنے کے عمل یا میٹا بولزم کو متاثر کرتے ہیں جس کا نتیجہ سرطان کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔محققین نے دریافت کیا کہ جو لوگ مخصوص جینیاتی تبدیلی رکھتے ہیں وہ بار بی کیو گوشت کھانے کے لیے زیادہ حساس تھے اور شعلوں پر پکائے جانے والے گوشت سے پیدا ہونے والے نقصان دہ مرکبات کے اثرات کے ساتھ گردے کے کینسر کے زیادہ خطرے سے دوچار تھے۔

یونیورسٹی آف ٹیکساس سے منسلک ڈاکٹر زیفینگ وو نے کہا کہ جب گوشت شعلے پر گرل کیا جاتا ہے یا تیز آنچ پر فرائی کرتے ہوئے سرخ کیا جاتا ہے تو یہ گردے کے کینسر کی ایک عام قسم رینل سیل کارسنوما کا سبب بن سکتا ہے۔


ایک مشاہدے کے دوران محققین کی ٹیم نے 659 شرکاء جو گردوں کے کینسر سیل کارسنوما میں مبتلا تھے ان کی کھانے کی عادتوں کا موازنہ 699 صحت مند افراد کی خوراک کے ساتھ کیا۔

تحقیق کے سینئر مصنف ڈاکٹر زیفینگ وو نے کہا کہ ہم نے گوشت کی کھپت اور بار بی کیو گوشت دونوں کے ساتھ کینسر کے بڑھے ہوئے خطرے کو منسلک پایا ہے۔تحقیق کے نتائج سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ گردے کے کینسر میں مبتلا مریضوں کی خوراک میں سرخ گوشت اور سفید گوشت کی مقدار صحت مند افراد کے مقابلے میں زیادہ تھی۔نتائج سے ظاہر ہوا کہ کیمیکل پی ایچ ایل پی کی اعلیٰ سطح نے گردے کے کینسر کے خطرے کو 54 فیصد بڑھایا تھا جبکہ کیمیکل میل کیو ایکس کی زیادہ مقدار نے کینسر کے خطرے کو دوگنا کیا۔

تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر اسٹیفنی میل کونین نے کہا کہ جین کے تجزیہ سے یہ پتا چلا کہ خاص طور آئی ٹی پی آرٹو نامی جین کی مختلف حالتوں کے ساتھ افراد پی ایچ ایل پی کیمیکل کے مضر اثرات کے لیے زیادہ حساس تھے۔ڈاکٹر زیفینگ وو نے سائنسی پیپر میں لکھا کہ ہمارے نتائج گوشت کی کم کھپت کی حمایت کرتے ہیں خاص طور پر عوامی صحت میں مداخلت کے طور پر سیل کارسنوما کینسر کے خطرے کو کم کرنے کے لیے کھلے شعلوں پر زیادہ درجہ حرارت پر پکائیجانے والے گوشت کم کھانے کی حمایت کرتے ہیں تاہم ڈاکٹر زیفنگ وو نے غذا میں سے مکمل طور پر گوشت کو خارج کرنے کے لیے نہیں کہا ہے بلکہ اعتدال کے ساتھ کھانے کی ہدایت کی ہے اور پھلوں اور سبزیوں پر مشتمل ایک متوازن غذا کھانے کا مشورہ دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب آپ گوشت کو پین میں فرائی کریں یا کھلے شعلوں پر گرل کریں تو اسے سرخ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔

12/11/2015 - 13:20:52 :وقت اشاعت