بند کریں
صحت صحت کی خبریںپاکستان کے 112 اضلاع میں سے 89 میں غذائی قلت کی وجہ سے بیماریاں بڑھ رہی ہیں، ڈیلی ٹائمز

صحت خبریں

وقت اشاعت: 13/01/2008 - 16:54:17 وقت اشاعت: 13/01/2008 - 14:09:26 وقت اشاعت: 12/01/2008 - 12:12:21 وقت اشاعت: 11/01/2008 - 16:22:50 وقت اشاعت: 08/01/2008 - 17:14:18 وقت اشاعت: 07/01/2008 - 14:58:53 وقت اشاعت: 06/01/2008 - 16:26:16 وقت اشاعت: 04/01/2008 - 13:23:00 وقت اشاعت: 03/01/2008 - 13:13:36 وقت اشاعت: 02/01/2008 - 17:51:01 وقت اشاعت: 01/01/2008 - 12:29:02

پاکستان کے 112 اضلاع میں سے 89 میں غذائی قلت کی وجہ سے بیماریاں بڑھ رہی ہیں، ڈیلی ٹائمز

ملتان(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔7جنوری۔2008ء) پاکستان کے 112 اضلاع میں سے 89 میں غذائی قلت کی وجہ سے بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق ورلڈ فوڈ پروگرام کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے شہری علاقوں میں آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ خوراک کے مسائل تیزی سے بڑھے ہیں جبکہ غربت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 39 اضلاع میں خوراک کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔

31 میں صرف خراب 19 میں ان سے صورتحال بہتر ہے۔ 15 اضلاع میں حالات نارمل جبکہ 8 میں خوراک کی سپلائی بہتر طریقے سے جاری ہے۔ حکومتی ادارے لوگوں کے مسائل پر توجہ نہیں دیتے جس کی وجہ سے عام شہری کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے ذمہ داروں نے مزید بتایا کہ خوراک کی کمی سے لوگخطرناک بیماریوں کا شکار ہوئے ہیں۔ انہیں وہ خوراک نہیں ملتی جس سے وہ صحت مند رہ سکیں۔

اس کے علاوہ صوبہ پنجاب میں گندم کی پیداوار دوسرے صوبوں کی نسبت بہتر ہے اس لیے یہاں خوراک کے مسائل کم دوسرے صوبوں میں زیادہ ہیں۔ 2006-07ء میں پاکستان میں اچھی پیداوار ہوئی اور کسی بھی صوبہ میں خوراک کی قلت نہیں ہوئی۔ دوسرے ممالک سے چینی، خشک دودھ، سبزیوں کا منگوانا اگرچہ حکومتوں کا فرض ہے مگر قیمتوں میں کنٹرول نہ ہونے کے برابر ہے۔

خوراک کے حوالے سے 39 اضلاع میں صورتحال انتہائی خراب ہے جس میں لوئرویر، گودار، موتنگ، کرک، لسبیلہ، جعفر آباد، اپڑیر، تربت، ژوب، بولان، نوابزادہ، کوہلو،قلات، لودھراں، وہاڑی، شکار پور، پنجگور، قلعہ عبداللہ، نوشہروفیروز، زیارت، پشین، دیامیر، بارکھان، سبی، شمالی وزیرستان، خضدار، راجن پور، جھل مگسی، عمر کوٹ، میر پور خاص، لورالائی، گانچھی اور تھرپارکرشامل ہیں۔

خوراک کی سپلائی اور صورتحال کے حوالے سے دوسری کیٹیگری میں 31 اضلاع میں کوٹلی، بنوں، کوہاٹ، قلعہ سیف اللہ، بہاولپور، بہاولنگر، لیہ، اوکاڑہ، پاکپتن، چارسدہ، خانیوال، سانگھڑ، مالاکنڈ، گلگت، جیکب آباد، مانسہرہ، فاران، سوہنتی، لکی، دادو، سکردو، ہنگو، بھیر، ڈیرہ اسماعیل خان، چترال، کرم ایجنسی، بھکر، منڈی بہاء الدین، ٹانک، شزر، سنگھ شامل ہیں۔

تیسری کیٹیگری میں شامل اضلاع میں جہاں لوگوں کو خوراک مل تو رہی ہے مگر صورتحال اتنی اچھی نہیں ہے مظفر آباد، گھوٹکی، ٹھٹھہ، سرگودھا، چکوال، گوجرانوالہ، لاڑکانہ، جھنگ، مظفر گڑھ، خیر پور، باغ، سکھر، اولا کوٹ، ایبٹ آباد اور اٹک ہیں جبکہ نارمل اضلاع میں شامل درج ذیل شہر ہیں جہاں لوگوں کو خوراک مل رہی ہے ان میں لاہور، ہری پور، صوابی، راولپنڈی، کوئٹہ، رحیم یار خان، حیدر آباد، میانوالی، سوات، پشاور، مردان، ڈی جی خان، نوشہرہ، ملتان اور ساہیوال ہیں۔

اس کے علاوہ اسلام آباد، سیالکوٹ، شیخوپورہ، کراچی، قصور، میر پور، جہلم اور فیصل آباد وہ اضلاع ہیں جہاں لوگوں کو بہتر انداز میں خوراک میسر ہے۔ غربت کی وجہ سے لوگ 3وقت دال روٹی یا معمولی خوراک پر گزارہ کرتے ہیں۔ وٹامنز، آئرن، پروٹین اور دیگر غذائی اجزاء استعمال نہ کرنے کی وجہ سے پاکستانیوں کا معیار صحت انتہائی گر گیا۔ پینے کے صاف پانی کی قلت، ماحولیاتی آلودگی اور اس پر لوگوں میں قوت مدافعت نہ ہونے کی وجہ سے لوگ بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ علاج معالجے کی ناکافی سہولیات اور غربت کی وجہ سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔

مالی مسائل نے لوگوں کی سوچ کو محدود کر کے رکھ دیا جبکہ معاشرے میں ناامیدی کی فضا پیدا کر دی۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ لوگوں کی آمدنی میں اضافہ کر کے معیار زندگی کو بلند کیا جا سکتا ہے۔
07/01/2008 - 14:58:53 :وقت اشاعت