وفاقی دارالحکومت میں موجود ہسپتال و لیبارٹریاں ماحول آلودہ کرنے میں پیش پیش

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10دسمبر۔2015ء)وفاقی دارالحکومت میں موجود سرکاری و نجی ہسپتال ، لیبارٹریاں اور طبی سنٹر بھی ماحول کو آلودہ کرنے میں پیش پیش ہیں ، ہسپتالوں میں صفائی کا ناقص نظام اور فضلہ ٹھکانے نہ لگانے کی وجہ سے اسلام آباد کا ماحول خراب ہونے لگا ہے جبکہ اسلام آباد ماحولیاتی کمیشن نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہسپتال ، نجی کلینکس اور ڈسپنسریاں ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن رہی ہیں۔

آن لائن کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آلودگی کی بڑھتی ہوئی ایک وجہ سرکاری و نجی ہسپتال اور لیبارٹریوں سمیت چھوٹے بڑے 60سے زائد طبی مراکزبھی ہیں ، ہسپتالوں میں کلثوم انٹرنیشنل ، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، شفاء انٹرنیشنل ، اسلامک انٹرنیشنل ، سی ڈی اے ہسپتال ، کے آر ایل ، مریم ہسپتال ، سرف ہسپتال ، علی میڈیکل سنٹر ، سرف ہسپتال ، پنجاب سوشل میڈیکل ، سٹی لیب ، ایکسل لیب ، ڈائیگنوسٹک سنٹر، میڈیکسی ہسپتال، بائیوپاتھ بھی شامل ہیں۔

(جاری ہے)

یہ طبی ادارے اپنا فضلہ ٹھکانے لگانے کیلئے کوئی سائنسی طریقہ اختیار نہیں کرتے اور ایسے ہی کھلی جگہوں پر فضلہ پھینک دیا جاتا ہے جس سے بدبو ہوا میں پھیل جاتی ہے اور یہی فضلہ ہوا میں آلودگی کا باعث بنتا ہے ۔رپورٹ کے مطابق سرکاری و نجی ہسپتالوں میں سے صرف چند ہسپتالوں کے پاس فضلہ کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کا انتظار ہے جبکہ د یگر میں ایسا نہیں ہے ۔

دوسری جانب اسلام آباد میں قائم ماحولیاتی کمیشن نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہسپتالوں ، لیبارٹریوں اور طبی مراکز کا فضلہ کھلی جگہ پر پھینکنے اور انہیں سائنسی طریقے سے ٹھکانے نہ لگانے سے ماحول میں آلودگی پھیلتی ہے ۔کمیشن نے بتایا کہ وہ وزارت موسمیاتی تبدیلی کو ایک سال کے اندر گندگی و غلاظت کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لئے انسییزیٹر مشن نصب کر نے کے لئے اداروں کو احکامات جاری کرے ۔

کمیشن نے وفاقی دارالحکومت میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کو اسلام آباد میں قائم تمام سرکاری و نجی طبی مراکز اور لیبارٹریوں کو چھ دن کے اندر فارما سوٹیکل انفیکشنز ، ڈلیوری اور ہیومن ویسٹ کو ٹھکانے لگانے کے لئے ٹائم فریم دینے کی تجویز دی ہے۔واضح رہے کہ ماحولیاتی کمیشن اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر بنایا گیا تھا ۔

Your Thoughts and Comments