بند کریں
صحت صحت کی خبریںدہشت گردی قومی مسئلہ ہے سیاسی جماعتیں اورعلماء کرام سمیت تمام طبقوں کو اس کے خلاف ملکر کام ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 04/02/2008 - 14:17:58 وقت اشاعت: 03/02/2008 - 12:40:37 وقت اشاعت: 02/02/2008 - 17:56:26 وقت اشاعت: 01/02/2008 - 15:49:06 وقت اشاعت: 31/01/2008 - 16:35:22 وقت اشاعت: 31/01/2008 - 12:55:32 وقت اشاعت: 31/01/2008 - 12:20:12 وقت اشاعت: 29/01/2008 - 16:10:58 وقت اشاعت: 29/01/2008 - 14:45:00 وقت اشاعت: 27/01/2008 - 18:23:26 وقت اشاعت: 27/01/2008 - 13:02:49

دہشت گردی قومی مسئلہ ہے سیاسی جماعتیں اورعلماء کرام سمیت تمام طبقوں کو اس کے خلاف ملکر کام کرنا ہو گا۔وزیر داخلہ۔۔۔ایم ایم اے نے امریکہ مخالف جذبات سے فائدہ اٹھایا اب بھی اسی کوشش میں ہے‘انٹرویو

اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین31 جنوری2008 )نگران وفاقی وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر)حامد نواز خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی قومی مسئلہ ہے سیاسی جماعتیں اور علماء کرام سمیت تمام طبقوں کو اس کے خلاف ملکر کام کرنا ہو گا-دہشت گردی کے واقعات میں بیرونی ہاتھ بھی ملوث ہے ایم ایم اے نے امریکہ مخالف جذبات سے فائدہ اٹھایا اور اب بھی اسی کوشش میں ہے-ایک نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر ہم انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خطرات کا جائزہ لیں تو وہ مختلف نوعیت کے ہیں خودکش حملہ آور موجود ہیں انہیں سہولت دینے والے اور مواد فراہم کرنے والے بھی موجود ہیں ان دہشت گردوں کے پیچھے ہم غیر ملکی ہاتھ بھی دیکھتے ہیں سابق وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ خود حملوں سے متاثر ہوئے ہیں دہشت گرد ملک کے دشمن ہیں فوج یا سکیورٹی فورسز کے نہیں-ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ ضیاء الحق حکومت کے دوران افغان جنگ سے مسائل کا آغاز ہوا اس وقت طالبان کے حوالے سے عوام میں بہتر امیج سامنے لایا گیا ضیاء حکومت کے بعد آنے والی حکومتیں بھی اس مسئلے پر کچھ نہ کر سکیں اس کے بعد نائن الیون کا واقعہ ہوا اور پرویز مشرف کی پہلی حکومت تھی جس نے ان کے خلاف ایکشن لیا-سیاسی جماعتوں کیلئے اس مسئلے سے الگ رہنا آسان ہے لیکن جب وہ حکومت میں آئیں گی تو انہیں اس مسئلے کا سامنا کرنا ہو گا- سیاسی جماعتیں اس مسئلے سے فائدہ اٹھا رہی ہیں متحدہ مجلس عمل نے امریکہ مخالف جذبات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کامیابی حاصل کی-ایم ایم اے کاامریکہ مخالف ووٹ بنک اب بھی موجود ہے یہ تاثر دیا گیا کہ حکومت نے امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں اور امریکی حمایت کا فیصلہ جلدی میں کیا گیا-اس مسئلے کو سیاسی بنا دیا گیا ہے اور یہ اس حکومت کا مسئلہ نہیں ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ کس طرح دہشت گردی جن کے واپس بوتلوں میں بند کیا جا سکتا ہے اور یہ بات تو یقینی ہے کہ جن بوتل میں جانے سے پرتشدد رد عمل کا مظاہرہ کرے گا-انہو ں نے کہا کہ اس مسئلے سے کثیر جہتی پالیسی کے ذریعے نمٹا جا سکتا ہے جس میں فوجی آپریشن ‘اصلاحاتی پروگرام اور بات چیت شامل ہیں-دہشت گردی کے ذریعے صرف امریکیوں کو نہیں بلکہ سب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے-ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم لوکل سسٹم کے ذریعے عوام کو مطمئن کر سکتے ہیں مذہبی رہنماؤں کو بھی خودکش حملوں کے حوالے سے قوم کو آگاہ کرنا چاہئے یہ ایک قومی مسئلہ ہے اور میڈیا بہتر قومی خدمت کر سکتا ہے-اس لعنت کو ختم کئے بغیر مکمل امن قائم نہیں ہو سکتا-
31/01/2008 - 12:55:32 :وقت اشاعت