بند کریں
صحت صحت کی خبریںسندھ کے مختلف اضلاع میں انسداد پولیو مہم کے نئے مرحلے کا آغاز

صحت خبریں

وقت اشاعت: 11/01/2016 - 14:54:38 وقت اشاعت: 11/01/2016 - 14:22:04 وقت اشاعت: 11/01/2016 - 13:06:40 وقت اشاعت: 11/01/2016 - 12:50:45 وقت اشاعت: 11/01/2016 - 12:43:22 وقت اشاعت: 11/01/2016 - 12:32:06 وقت اشاعت: 11/01/2016 - 12:32:04 وقت اشاعت: 11/01/2016 - 12:15:31 وقت اشاعت: 11/01/2016 - 11:09:20 وقت اشاعت: 09/01/2016 - 16:38:42 وقت اشاعت: 09/01/2016 - 16:23:50

سندھ کے مختلف اضلاع میں انسداد پولیو مہم کے نئے مرحلے کا آغاز

سکھر ۔ 11 جنوری (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 جنوری۔2016ء) رواں سال کیلئے سکھر، خیرپور اور گھوٹکی سمیت مختلف اضلاع میں انسداد پولیو مہم کے نئے مرحلے کا آغاز ہو گیا، 14 جنوری تک جاری رہنے والی پولیو مہم مرض کے خاتمے کے عزم کے ساتھ چلائی جا رہی ہے۔ ضلع سکھر میں انسداد پولیو مہم کے دوران ضلع کے 2 لاکھ 84 ہزار 148 بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، ہدف کے حصول کیلئے 675 موبائل ٹیمیں، 74 فکسڈ ٹیمیں اور 43 ٹرانزٹ پوائنٹس ترتیب دیئے گئے ہیں۔

ضلع خیرپور میں دوران مہم 4 لاکھ 39 ہزار 463 بچوں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جنہیں پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے، اس مقصد کیلئے 893 موبائل ٹیمیں، 136 فکسڈ ٹیمیں، 61 ٹرانزٹ پوائنٹ اور مہم کے دوران 2043 پولیو ورکرز اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر سکھر شہزاد فضل عباسی نے کہا ہے کہ پولیو مہم کے سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، جو اہلکار پولیو مہم کے دوران بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے میں لاپرواہی کا مظاہرہ کرے گا ان کو معطل کرکے ان کی تنخواہیں بند کی جائیں گی۔

ضلع گھوٹکی میں 14 جنوری تک جاری رہنے والی پولیو مہم کے دوران ضلع کے 3 لاکھ 48 ہزار 558 بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے مقررہ ہدف کیلئے 859 پولیو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر گھوٹکی محمد طاہر وٹو نے کہا ہے کہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، اس لئے والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے معصوم بچوں کو پولیو کے قطروں سے محروم نہ بنائیں کیوں کہ پولیو ایک خطرناک وائرس ہے جو بچوں کو زندگی بھر کے لئے مفلوج بنا دیتا ہے۔

11/01/2016 - 12:32:06 :وقت اشاعت