چین میں دوروزہ بچی کے گرد ے کا نوسالہ لڑکی کو منتقلی کا کامیاب آپریشن

چانگ شا ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 جنوری۔2016ء)ایک دو روزہ بچی کے گردوں کے دیرینہ خرابی کی وجہ سے قریب المرگ لڑکی کو منتقل کیے گئے ہیں اس طرح وہ چین میں انسانی اعضاء کا عطیہ دینے والی سب سے کم عمر نوشیرخوار بن گئی ہے ، یہ بچی دماغی مرض خون اور آکسیجن پیدائش کے وقت خون میں آکسیجن کی کم مقدار اور پھیپھڑوں کے انفیکشن کی وجہ سے ہلاک ہو گئی تھی اور اس کے والدین نے اسے” ایک اور طریقے سے دنیا میں رہنے کے لیے “ اس کے گردے عطیہ دینے کا فیصلہ کیا ، وسطی جنوبی یونیورسٹی کے سیکنڈ ژیانگ ژا کے ہسپتال کے ڈاکٹر چار سینٹی میٹر سے کم لمبے گردے وسطی چین کے صوبہ ہنان کی چانگ شا کاوئنٹی سے تعلق رکھنے والی ایک نو سالہ لڑکی ہوانگ ژنگ (یہ اس کا اصلی نام نہیں ہے )تبدیل کرنے میں ناکام ہو گئے ، ہوانگ کو جس وقت وہ چھوٹی بچی تھی گردے کی تکلیف لا حق تھی جس کی وجہ سے اس کی نشوونما متاثر ہوئی تھی ، آپریشن کے بعد نو سالہ لڑکی نے کہا ”میں انتہائی خوش ہوں اور سکول جانا چاہتی ہوں “یہ آپریشن ہسپتال کے شعبہ تبدیلی اعضاء کے ڈائریکٹر پینگ لونگ کائی کی قیادت میں کیا گیا ، پینگ کے مطابق آپریشن کی پیچیدگی اور خون کی چھوٹی نسوں کی وجہ سے چھوٹی عمر کے مریضوں کو تبدیلی گردہ کے آپریشن ایک چیلنج ہے ، پینگ نے کہا کہ آئندہ تین ماہ میں گوانگ کے اندر گردے بڑھنا شروع ہو جائیں گے ۔

Your Thoughts and Comments