بند کریں
صحت صحت کی خبریں ہارون آباد‘ضلع بھر میں غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ میٹرنٹی ہومز قائم سینکڑوں زچہ بچہ کی زند ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 21/01/2016 - 18:57:30 وقت اشاعت: 21/01/2016 - 16:45:33 وقت اشاعت: 21/01/2016 - 14:27:37 وقت اشاعت: 21/01/2016 - 13:17:00 وقت اشاعت: 21/01/2016 - 13:16:41 وقت اشاعت: 21/01/2016 - 13:12:33 وقت اشاعت: 21/01/2016 - 12:49:39 وقت اشاعت: 21/01/2016 - 12:14:06 وقت اشاعت: 20/01/2016 - 16:46:38 وقت اشاعت: 20/01/2016 - 13:30:55 وقت اشاعت: 20/01/2016 - 12:45:53

ہارون آباد‘ضلع بھر میں غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ میٹرنٹی ہومز قائم سینکڑوں زچہ بچہ کی زند گیاں داؤں پر لگنا معمول بن گیا

ہارون آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔21 جنوری۔2016ء ) ہارون آباد سمیت ضلع بھر میں غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ میٹرنٹی ہومز قائم سینکڑوں زچہ بچہ کی زند گیاں داؤں پر لگنا معمول بن گیا۔ اکثر وبیشتر ڈلیوری کے دوران قیمتی جانیں لقمہ اجل بن جاتی ہیں ۔مقامی انتظامیہ خاموش متاثرین سر اپا احتجاج ۔تفصیلات کے مطابق سماجی شخصیت ڈاکٹر نسیم اختر کیانی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہارون آباد سمیت ضلع بہاولنگر بھر میں غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ شدہ میٹرنٹی ہومز ز نے زچہ بچہ کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں ۔

گلی ،محلوں اور خاص طور پر دیہی علاقہ جات میں غیر میعاری میٹرنٹی ہومز کے سبب دوران آپریشن متعدد زچہ بچہ زندگی کی بازی ہا ر گئیں ۔ایسے سینٹروں کے خلاف محکمہ کی طرف سے کاروائی کرنے کی بجائے اعلیٰ آفیسران انکے سرپرست بن گئے ۔انہوں نے کہا کہ نان کوالیفائڈ ڈاکٹرز ،لیڈی ڈاکٹر ز اور دائیاں خواتین کی جانوں کے دشمن ہوگئے ۔اکثر پرائیویٹ ہسپتال ،میٹرنٹی ہومز میں صحت و صفائی کی حالت انتہائی ناقص ہے اور غیر میعاری سرجری کے آلات ہیں جبکہ اکثر پرائیویٹ ہسپتال اور میٹرنٹی ہومز پنجاب ہیلتھ کمیشن لاہور سے رجسٹرڈ شدہ بھی نہیں ہیں جس وجہ سے ان کے خلاف کوئی قانونی کاروائی عمل میں نہیں ہو پا رہی جس کے نتیجہ میں متاثرین دفتروں کے چکر لگا لگا خوار ہو رہے ہیں ۔

ڈاکٹر نسیم اختر کیانی نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ،چیف سیکرٹری پنجاب ،سیکرٹری صحت حکومت پنجاب اور ڈائریکٹر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ہارون آباد سمیت ضلع بہاولنگر بھر کے تمام پرائیویٹ ہسپتالز ،میٹرنٹی ہومز ،زچہ بچہ سنٹرز کو ہیلتھ کیئر کمیشن لاہور کے پاس رجسٹریشن کروانے کا پابند کیا جائے اور غفلت برتنے والوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے ۔

21/01/2016 - 13:12:33 :وقت اشاعت