بند کریں
صحت صحت کی خبریںامریکی ماہرین نے جسم میں خون کی گردش دکھانے والا کیمرہ تیار کر لیا

صحت خبریں

وقت اشاعت: 28/01/2016 - 16:20:59 وقت اشاعت: 28/01/2016 - 15:26:37 وقت اشاعت: 28/01/2016 - 15:14:25 وقت اشاعت: 28/01/2016 - 14:03:33 وقت اشاعت: 28/01/2016 - 13:56:33 وقت اشاعت: 28/01/2016 - 13:35:31 وقت اشاعت: 28/01/2016 - 13:29:35 وقت اشاعت: 28/01/2016 - 12:59:23 وقت اشاعت: 28/01/2016 - 12:42:50 وقت اشاعت: 28/01/2016 - 11:55:47 وقت اشاعت: 28/01/2016 - 11:11:11

امریکی ماہرین نے جسم میں خون کی گردش دکھانے والا کیمرہ تیار کر لیا

کیلی فورنیا ۔28 جنوری (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔28 جنوری۔2016ء) امریکی ماہرین نے ایسا کیمرہ اور امیجنگ نظام تیار کیا ہے جو جلد کی گہرائی میں جھانک کر خون کے بہا کو دکھاتا ہے۔ یونیورسٹی آف واٹرلو کے ماہرین کی جانب سے نے یہ کیمرہ سسٹم بنایا گیا ہے جسے ہیمو ڈائنامک امیجنگ سسٹم کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے خون، رگوں اور دل کے امراض کی پیشگوئی بھی ممکن ہوسکے گی۔

یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پرانے نظاموں کے ذریعے صرف ایک جگہ (نبض) سے ہی خون کو نوٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ یہ سسٹم ورچول سسٹم کی طرح کام کرتا ہے اور جسم کے پورے نظام میں خون کی گردش پر نظر رکھتا ہے اور اس کے ذریعے بدن کے قریبا ہر نقطے پر خون کا دبا بھی نوٹ کیا جا سکتا ہے جو کمپیوٹر پروگرام میں جا کر جسم کے خونی نظام کی مکمل تصویر فراہم کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس نظام کے ذریعے بوڑھے افراد میں خون کے دبا سے وابستہ امراض کی بروقت اور وقت سے قبل پیش گوئی کی جا سکتی ہے، اسی طرح چھوٹے بچوں کی نگہداشت اور جلنے والے امراض کے زخم ٹھیک کرنے میں بھی مدد ملے گی، یہ سسٹم حقیقی وقت میں لگاتار خون کے بہا اور پریشر کو نوٹ کرتا ہے، اگر کہیں خون کے بہاؤ میں رکاوٹ ہو گی تو اس کی فوری نشاندہی ممکن ہو سکتی ہے۔

ہیمو ڈائنامک امیجنگ سسٹم کی تیاری میں کئی ٹیکنالوجیز استعمال کی گئی ہیں جن میں امیجنگ، کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور دیگر علوم شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ نظام ایکس رے اور الٹراسانڈ سے بھی محفوظ ہے جس میں جلد پر آنے والی روشنی میں تبدیلی سے خون کے بہا ؤکو نوٹ کیا جا سکتا ہے۔ اب اگر خون کی کسی نالی میں کوئی رکاوٹ ہے تو اس کی نشاندہی بھی آسانی سے ہو جاتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس نظام کو مزید بہتر بنا کر بدن میں خون کے دبا اور امراضِ قلب کا پتا بھی لگایا جا سکتا ہے۔

28/01/2016 - 13:35:31 :وقت اشاعت