بند کریں
صحت صحت کی خبریںچین میں سرطان کے امراض کی وجہ سے اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے ، عالمی ادارہ صحت

صحت خبریں

وقت اشاعت: 05/02/2016 - 13:02:19 وقت اشاعت: 05/02/2016 - 12:49:53 وقت اشاعت: 04/02/2016 - 16:30:58 وقت اشاعت: 04/02/2016 - 15:15:18 وقت اشاعت: 04/02/2016 - 15:03:47 وقت اشاعت: 04/02/2016 - 13:59:52 وقت اشاعت: 04/02/2016 - 13:54:04 وقت اشاعت: 04/02/2016 - 12:26:03 وقت اشاعت: 04/02/2016 - 12:09:21 وقت اشاعت: 03/02/2016 - 17:03:31 وقت اشاعت: 03/02/2016 - 16:16:04

چین میں سرطان کے امراض کی وجہ سے اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے ، عالمی ادارہ صحت

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔04 فروری۔2016ء)عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او ) نے چین کو سرطا ن کی وجہ سے اموات کی اس کی سب سے زیادہ شرح کے بارے میں خبردار کیا ہے اور چینی آبادی پر زور دیا ہے کہ سگریٹ نوشی ترک کر دیں اور زیادہ صحت مندانہ خوراکیں اور طرز بود و باش اپنائیں ۔عالمی یوم سرطان کے موقع پر گذشتہ روز جاری کیے جانے والے ایک اعلامیے میں عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ گذشتہ سال چین میں سرطان میں28لاکھ سے زیادہ افراد موت کی آغوش میں چلے گئے ہیں جبکہ اس قسم کی اموات کی یومیہ اوسط ساڑھے سات ہزار بنتی ہے ، چین میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے برنڈ ہارڈ سچ واٹ لینڈر نے کہا کہ اصل المیہ یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ کیس قابل علاج تھے ، سگریٹ نوشی ، شراب نوشی ، ناقص غذائیں اور جسمانی سرگرمی کا فقدان سرطان کے خطرات میں بہت زیادہ اضافے کا موجب ہیں ، چین میں سرطان کی وجہ سے ہونے والی تقریباً 30فیصد اموات پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ سے ہوتی ہیں ، سچ واٹ لینڈر نے کہا کہ چین میں 315ملین سے زیادہ سگریٹ نوش ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔

چین کے تقریباً تمام مردوں میں سے قریباً نصف سگریٹ پیتے ہیں ،غیر حیران کن طورپر پھیپھڑے کا سرطان مردوں میں تشخیص کی جانے والی سرطان کی انتہائی عام قسم ہے ۔قومی صحت اور خاندانی منصوبہ بند ی کمیشن ( این ایچ ایف پی سی ) کی جون کی ایک رپورٹ میں عالمی ادارہ صحت میں تجزیے کی حمایت کی ہے کہ اس میں کہا گیا ہے کہ چین میں تمام اموات کا 85فیصد سے زیادہ دیرینہ امراض کی وجہ سے ہوتی ہیں جن میں سرطان اور دیرینہ عمل تنفس کے مسائل سب سے نمایا ں وجوہ ہیں ۔

این ایچ ایف پی سی اس صورتحال کو سگریٹ نوشی زیادہ شراب نوشی ، ناکافی ایکسرسائز اور بہت زیادہ نمک اور چربی والی غذاؤں سے تعبیر کیا ہے ۔ سچ واٹ لینڈر نے سرطان کے بارے میں ناقابل کنٹرول سگریٹ نوشی کے وسیع تر قومی اثرات پر بھی زور دیا ہے ۔انہوں نے کہا”سرطان کسی فردواحد کا مسئلہ نہیں ہے یہ معیشت اور صحت عامہ کے نظام سمیت معاشرے کے تمام پہلوؤں میں سرایت کرتا ہے “ ۔

اس طبی ماہر نے تجویز پیش کی ہے کہ ملک کو صحت مندانہ طرز بودوباش کے بارے میں زیادہ سے زیادہ عوامی آگاہی جلد تشخیص کو فروغ دینے اور علاج معالجے کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ چین کی جاری صحت اصلاحات سے مسئلہ کو حل کرنے میں مدد ملنی چاہئے ۔چین صحت عامہ کے نیٹ ورک کی تشکیل نو اور کم ترقی یافتہ دیہی علاقوں میں سروسز کو بہتر بنارہا ہے جن میں دیہی خواتین میں چھاتی کا سرطان اور گردن کا سرطان کی مفت سکریننگ شامل ہے ۔

بیجنگ اور متعدد دوسرے شہروں نے عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کررکھی ہے ، گذشتہ ستمبر میں سرطان کے مرض میں مبتلا ایک کار ٹونسٹ کے بارے میں ہٹ چینی فلم ”گواوے مسٹر ٹومر“ میں اس کی ہیر وئن کو مڈ نائٹ آئل جلاتے جنک فوڈ کھاتے اور دباؤ میں کام کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو کہ چینی نوجوانوں میں عام پایا جاتا ہے ، یہ کردار اس خاتون کا تھا جو 20سال کی عمر میں ناسور کی وجہ سے ہلاک ہوتی ہے ۔

04/02/2016 - 13:59:52 :وقت اشاعت