بند کریں
صحت صحت کی خبریںدنیا کے 2ارب سے زائد افراد موٹاپے اور زیادہ وزن کی وجہ سے امراض قلب کا شکار
چین کی 20فیصد آبادی ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 05/02/2016 - 15:10:40 وقت اشاعت: 05/02/2016 - 13:03:12 وقت اشاعت: 05/02/2016 - 13:02:19 وقت اشاعت: 05/02/2016 - 12:49:53 وقت اشاعت: 04/02/2016 - 16:30:58 وقت اشاعت: 04/02/2016 - 15:15:18 وقت اشاعت: 04/02/2016 - 15:03:47 وقت اشاعت: 04/02/2016 - 13:59:52 وقت اشاعت: 04/02/2016 - 13:54:04 وقت اشاعت: 04/02/2016 - 12:26:03 وقت اشاعت: 04/02/2016 - 12:09:21

دنیا کے 2ارب سے زائد افراد موٹاپے اور زیادہ وزن کی وجہ سے امراض قلب کا شکار

چین کی 20فیصد آبادی غیرمتحرک طرز زندگی اور بازار سے پیزاو برگر کھانے کے نتیجہ میں موٹاپے کا شکار ہوکر مختلف امراض کا آسان ہدف بن جائیگی،ڈاکٹر نعیم اسلم

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔04 فروری۔2016ء) دنیا کی 7ارب انسانی آبادی میں سے 2ارب سے زائد افراد موٹاپے اور زیادہ وزن کی وجہ سے امراض قلب کا شکار ہوسکتے ہیں جنہیں فوری طور پر روزانہ 30منٹ کی سیر اور ایک متحرک طرز زندگی کی طرف آنا ہوگا۔چار سال بعد امریکہ کی نصف جبکہ چین کی 20فیصد آبادی غیرمتحرک طرز زندگی اور بازار سے پیزاو برگر کھانے کے نتیجہ میں موٹاپے کا شکار ہوکر مختلف امراض کا آسان ہدف بن جائیگی۔

ایک مرد کی کمر 40جبکہ خاتون کی 35انچ سے کم ہونی چاہئے ۔ یہ باتیں نامور معالج قلب اور پنجاب میڈیکل کالج میں شعبہ ا مراض قلب کے سربراہ ڈاکٹر نعیم اسلم نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے نیو سینٹ ہال میں منعقدہ خصوصی لیکچر سے خطاب میں بتائیں۔ ڈاکٹر نعیم اسلم نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ ہفتے میں 5دن 30منٹ روزانہ سیرکو یقینی بناتے ہوئے متحرک طرز زندگی کومعمول بنائیں تاکہ خود کو ہر سال موٹاپے کے نتیجہ میں مختلف امراض کا شکار ہوکر موت کے منہ میں جانیوالے 32لاکھ افراد میں شمولیت سے بچا سکیں۔

انہوں نے خبردار کیاکہ سکولوں میں جسمانی صحت کی محدود سرگرمیاں و مواقع ‘ بیڈ روم میں روزانہ اڑھائی گھنٹے تک ٹیلی ویژن یا کمپیوٹر میں مصروفیت اور گھر بیٹھے کھانا کھا کر آرام کرنیوالے افراد میں شوگر سمیت دوسری جان لیوا امراض کے امکانات 30فیصد زائد ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک مرد کی کمر 40جبکہ خاتون کی 35انچ سے کم ہے تو اس کا نہ تو زیادہ وزن ہوگا اور نہ ہی وہ موٹاپے کی تعریف میں آئیگاتاہم مذکورہ پیمانے سے زیادہ کمروالے افرادکواپنی فکر کرنی چاہئے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اعدادو شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دنیا میں 60فیصد افراد بہت کم متحرک زندگی گزار رہے ہیں جس کی وجہ سے انہیں صحت کے جملہ مسائل درپیش ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔ ڈاکٹر نعیم اسلم نے کہا کہ پانچ سال سے کم عمر جن بچوں کو بچپن میں ضرورت سے زائد کاربوہائیڈریٹس ‘ کیلوریز‘ وٹامن اور پروٹین فراہم کی جاتی ہے ان میں محدود جسمانی سرگرمیوں کی وجہ سے موٹاپے کا شکار ہونے کے زیادہ امکان ہے۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقراراحمد خاں نے کہا کہ یونیورسٹی میں ہیومن نیوٹریشن و ڈائی ٹیٹکس ڈگری پروگرام کے آغاز اور طلبہ و اساتذہ کی کلاسز و پریکٹیکل کیلئے وسیع کیمپس اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں ویمن سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر جلد شروع کر دی جائیگی جبکہ سپورٹس کوٹہ پر داخل ہونیوالے نوجوانوں کی روزانہ گراؤنڈز میں حاضری یقینی بنا دی گئی ہے جس سے ان کی جسمانی صحت بہترہورہی ہے۔

ڈین کلیہ فوڈ نیوٹریشن و ہوم سائنس ڈاکٹر مسعود صادق بٹ نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان بھی فاسٹ فوڈز کے استعمال اور غیرمتحرک طرز زندگی کی طرف آ رہے ہیں جس کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں لہٰذا ان کی زندگی میں جسمانی صحت کی سرگرمیوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ یونیورسٹی میں اپنی تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کیلئے پیدل چلنے کو رواج دیا جائے تاکہ وزن میں اضافے اور موٹاپے کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔

04/02/2016 - 15:15:18 :وقت اشاعت