نادار اور مستحق افراد کو مفت طبی امداد اور سہولیات فراہم کرنے کی حکومت قانونی طور پر پابند ہے‘ لاء کمیشن ۔صوبائی حکومت ان کی رجسٹریشن اور مراکز قائم کرنے کی ذمہ دار ہے‘ قانونی وضاحت جاری

اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین02 مارچ 2008 ) لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ قانونی طور پر نشہ کرنے والے افراد کی بحالی اور نادار و مسحق افراد کو مفت طبی امداد فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اس کیلئے ان افراد کی رجسٹریشن اور نشہ کی عادت چھڑوانے ان کی تعلیم‘دیکھ بھال اور ضروری ادویات کی فراہمی کیلئے حکومت حسب ضرورت مراکز قائم کرنے کی پابند ہے لاء کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والی قانونی وضاحت میں بتایا گیا ہے کہ نشہ ایک ایسی لعنت ہے کہ جس کے برے اثرات متعلقہ فرد یا خاندان کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں اور ایسے افراد نشے کی حالت میں سنگین جرائم بھی کر بیھٹتے ہیں لہذا نشے کی عادت سے بچنے کیلئے ہر باشعور فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی چیزوں سے دور رہے لیکن اگر کوئی شخص کسی بری صحبت میں بیٹھ کر نشہ کرنے لگ جائے اور روکنے کے باوجود بھی وہ باز نہ رہے تو ایسی صورت میں یہ ذمہ داری نہ صرف متعلقہ خاندان یا معاشرے کی ہے بلکہ حکومت کی بھی ذہ داری ہے کہ وہ ایسے افراد کی دیکھ بھال یا بحالی کیلئے ادارے قائم کرے اور ایسے افراد جو کہ ان اداروں کے اخراجات برداشت نہ کر سکتے ہوں تو ایسی صورت میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے نشے میں مبتلا افراد کو مفت طبی امداد مہیا کرے تاکہ ایسے افراد کو دوبارہ معاشرے کا فعال رکن بنایا جا سکے- لہذا اس مسئلے کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے نشہ آور اشیاء پر کنٹرول سے متعلق ایک جامع قانون نشہ آور اشیاء پر کنٹرول کا ایکٹ 1997ء نافذ کیا ہے جس کے ذریعے نشہ آور اشیاء کی کاشت تیاری اور نقل و حمل وغیرہ کو ممنوع قرا ردیا گیا ہے اور اس قانون کے احکام کی خلاف ورزی کی صورت میں مختلف سزائیں تجویز کی گئیں ہیں اور نشے کے عادی افراد کی دیکھ بھال اور بحالی کیلئے حکومت ایسے افراد کی رجسٹریشن کے ساتھ ساتھ دیگر اقدامات ضروری ہیں لاء کمیشن کے مطابق نشہ آور اشیاء پ رکنٹرول کے قنون کی دفعہ 52 کے تحت ہر صوبائی حکومت اپنے حلقہ اختیار میں نشہ کے عادی افراد کی دیکھ بھال اور بحالی کیلئے ان کور جسٹر کرے گی اور وفاقی حکومت وہ تمام اخراجات برداشت کرے گی جو پہلی مرتبہ نشے کی عادی افراد کی لازمی ترک نشہ کے سلسلے میں ہوں گے نشے کا عادی فرد رجسٹریشن کارڈ اپنے پاس رکھے گا اور پبلک اتھارٹی کے مطالبے پر اسے پیش کرے گی اور رجسٹریشن کارڈ ایک مقررہ فارم پر ہو گا-

Your Thoughts and Comments