بند کریں
صحت صحت کی خبریںچاکلیٹ کھانے والوں کی دماغی کارکردگی بہترہوتی ہے‘ چاکلیٹ کا انسان
کے دماغ کی علمی قابلیتوں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 26/02/2016 - 16:22:26 وقت اشاعت: 26/02/2016 - 15:23:17 وقت اشاعت: 26/02/2016 - 14:15:18 وقت اشاعت: 25/02/2016 - 16:23:49 وقت اشاعت: 25/02/2016 - 15:04:56 وقت اشاعت: 25/02/2016 - 12:11:06 وقت اشاعت: 24/02/2016 - 16:49:29 وقت اشاعت: 24/02/2016 - 16:26:51 وقت اشاعت: 24/02/2016 - 14:42:29 وقت اشاعت: 24/02/2016 - 14:24:03 وقت اشاعت: 24/02/2016 - 14:16:37

چاکلیٹ کھانے والوں کی دماغی کارکردگی بہترہوتی ہے‘ چاکلیٹ کا انسان

کے دماغ کی علمی قابلیتوں کے ساتھ مثبت تعلق ہے۔تحقیق دانوں کا دعوی

لندن(ا ردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔25فروری۔2016ء)محققین نے چاکلیٹ کو دماغی کارکردگی کے لیے مفید قراردیا ہے۔تحقیق کے دوران سامنے آیا ہے کہ چاکلیٹ کھانے کا انسان کے دماغ کی علمی قابلیتوں کے ساتھ مثبت تعلق ہے۔تحقیق دانوں نے کہا کہ یہ پہلا مطالعہ ہے، جس میں دیکھا گیا ہے کہ چاکلیٹ کھانے کا انسانی دماغ کے افعال پر کیا اثر تھا، انھوں نے اندازہ لگایا ہے کہ چاکلیٹ کو باقاعدگی سے کھانے سے دماغی کارکردگی بہتر ہوئی تھی۔

محققین نے اپنے سائنسی پرچے میں لکھا کہ اس سے پہلے کے مطالعوں میں کوکو کی پھلیوں وہ پھل جس سے چاکلیٹ بنتا ہے میں موجود فلیون تھری آئل نامی کیمیائی جز کو دل کی اچھی صحت کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے لیکن انسانی معرفت کے حوالے سے چاکلیٹ کے اثرات کے بارے میں اب تک زیادہ جانا نہیں گیا ہے۔ یونیورسٹی آف ساو¿تھ ویلز، مین یونیورسٹی اور لکسمبرگ انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سے منسلک تحقیق دانوں کی ایک ٹیم کی طرف سے نیویارک سے تعلق رکھنے والے 23 سے 98 برس کے لگ بھگ ایک ہزار افراد کے ایک مطالعے پر نظر ڈالی گئی ہے، جس میں شرکاءکی غذائی کھپت کو دل کی بیماری کے خطرے کے عوامل کے لیے ناپا گیا تھا۔

محققین نے شرکاءسے ایک غذائی سوالنامہ بھرنے کے لیے کہا تھا جس میں انھوں نے اپنے روزمرہ کے کھانوں، پھل، اسنیک اور مشروبات کی کھپت کا ریکارڈ درج کیا۔جب شرکاءکی غذائی کھپت کو علمی قابلیتوں کے ساتھ ملا کر دیکھا گیا تو محققین کو پتا چلا کہ چاکلیٹ کا زیادہ استعمال بہتر علمی کارکردگی کو ظاہر کر رہا تھا۔شرکاءکی علمی قابلیتوں کی پیمائش کے لیے محققین نے دماغی آزمائشوں کے ٹیسٹ کی ایک سیریز تیار کی تھی جس میں باقاعدگی سے چاکلیٹ کھانے والے افراد نے بصری یاداشت ،تنظیمی ورکنگ یاداشت کے ٹیسٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ چاکلیٹ میں شامل کوکو فلیونوئڈز دماغی افعال کی بہتری کا باعث بنتے ہیں۔سائنس دان سترہویں صدی سے چاکلیٹ کا تعلق دل کی صحت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں اور عصر حاضر کے زیادہ ٹھوس سائنسی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ چاکلیٹ کا استعمال دوران خون کے نظام اور صحت مند زندگی کے لیے اہم ہے۔خاص طور پر ڈارک چاکلیٹ کے بارے میں طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک ڈارک چاکلیٹ کا مسلسل استعمال، دل کے دورے، ہارٹ فیل، فالج کے خطرات سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

چاکلیٹ کو عرصہ دارز سے بخار میں کمی ،بچوں میں اسہال کے علاج ،نیند اور دانت کی صفائی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔اگرچہ تحقیق میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ کونسی چاکلیٹ علمی قابلیتوں کو بہتر بنانے میں مدد کرتی ہے۔ لیکن قیاس ہے کہ اس کے لیے سائنس دان سفید چاکلیٹ کو مسترد کرتے ہیں۔البتہ دودھ کی چاکلیٹ اور ڈارک چاکلیٹ کو دماغ متحرک کرنے اور دماغی افعال کے ساتھ منسلک پایا گیا ہے، بالخصوص محققین ڈارک چاکلیٹ کو ترجیح دیتے ہیں جس میں کوکو فلاوا نول کی اعلی مقدار ہے،جو فلیونو ائڈزکے گروپ میں سے ہے۔

کوکو کی پھلیوں میں قدرتی طور پر فلاوا نول نامی کیمائی مادہ کی بھرپور مقدرا پائی جاتی ہے۔یہ کفین اور تھیوبرومائن مرکبات کا مجموعہ ہے۔ اسی طرح سبز قہوہ ،بلیو بیریز اور سرخ وائن میں فلاوانول موجود ہے لیکن، کوکو کے علاوہ دنیا کے کسی بھی دوسرے کھانے کی چیز میں فلاوا نول کا اتنا منفرد امتزاج نہیں ملتا ہے۔

25/02/2016 - 12:11:06 :وقت اشاعت