بند کریں
صحت صحت کی خبریں جیکب آباد شہر میں پولیو کیس ظاہر، معصوم بچی پولیو مرض میں مبتلا نکلی، این آئی ایچ اسلام آباد ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 10/03/2016 - 17:19:06 وقت اشاعت: 10/03/2016 - 16:57:36 وقت اشاعت: 10/03/2016 - 16:57:36 وقت اشاعت: 10/03/2016 - 16:56:44 وقت اشاعت: 10/03/2016 - 15:22:09 وقت اشاعت: 10/03/2016 - 14:54:28 وقت اشاعت: 10/03/2016 - 14:00:25 وقت اشاعت: 10/03/2016 - 13:29:45 وقت اشاعت: 10/03/2016 - 12:56:46 وقت اشاعت: 10/03/2016 - 11:22:09 وقت اشاعت: 10/03/2016 - 11:21:16

جیکب آباد شہر میں پولیو کیس ظاہر، معصوم بچی پولیو مرض میں مبتلا نکلی، این آئی ایچ اسلام آباد نے تصدیق کر دی

معصوم بچی میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کے بعد سندھ حکومت اور ضلع انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی

جیکب آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 مارچ۔2016ء) جیکب آباد شہر میں پولیو کیس ظاہر، معصوم بچی پولیو مرض میں مبتلا نکلی، این آئی ایچ اسلام آباد نے تصدیق کر دی۔ تفصیلا ت کے مطابق: جیکب آباد کے بابو محلہ کے رہائشی محنت کش مبین رند کی 1سالہ معصوم بیٹی نور فاطمہ میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد نے کر دی ہے۔

معصوم بچی میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کے بعد سندھ حکومت اور ضلع انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق کے بعد ڈبلیو ایچ او کی ٹیم متاثرہ بچی کے گھر پہنچی اور بچی کے متعلق معلومات حاصل کی جبکہ اس حوالے سے ڈبلیو ایچ او کی ٹیم نے کوئی بھی موقف دینے سے انکار کر دیا معصوم بچی کے والد مبین رند نے صحافیوں کو بتایا کہ کچھ عرصہ قبل میری بچی کی ٹانگیں کمزور ہونا شروع ہوگئیں تو مقامی ڈاکٹر کو دکھایا تو اس نے بچی میں پولیو وائرس کا خدشہ ظاہر کیا تھا جس کے بعد محکمہ صحت کے حکام سے رابطہ کیا اور بچی کی ٹیسٹ اسلام آباد بھیجی گئی آج بچی میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی ہے جس کے بعد ہم پریشان ہیں میں غریب محنت کش ہوں بچی کا علاج نہیں کرا سکتا انہوں نے مطالبہ کیا کہ بچی کا سرکاری خرچ پر علاج کرایاجائے۔

متاثرہ بچی کے والد نے بتایا کہ پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم کبھی گھر نہیں آئی۔ واضح رہے کہ رواں سال سندھ میں پولیو وائرس کے دوسرے کیس کی نشاندہی ہوئی ہے جبکہ ایک سال قبل جیکب آباد کی سیوریج لائن میں بھی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد کی جانب سے پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی گئی تھی جیکب آباد کے مین ڈسپوزل نالے سے چار بار سیمپل لیے گئے تھے جس میں سے تین سیمپلز کی رپورٹ پازیٹیو آئی تھی ۔ سیوریج لائن میں پولیو وائرس کی موجودگی کے باوجود سندھ حکومت کی جانب سے کوئی بھی موثر اقدامات نہیں کیے گئے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر پولیو کے خلاف اقدامات نہ کیے گئے تو جیکب آباد میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

10/03/2016 - 14:54:28 :وقت اشاعت