بند کریں
صحت صحت کی خبریںپاکستان میں برڈ فلو وائرس آئیویان فلو کی انسان سے انسان کو منتقلی کی تصدیق ہوگئی

صحت خبریں

وقت اشاعت: 08/04/2008 - 13:46:09 وقت اشاعت: 07/04/2008 - 18:45:33 وقت اشاعت: 07/04/2008 - 17:55:45 وقت اشاعت: 07/04/2008 - 13:30:23 وقت اشاعت: 07/04/2008 - 13:30:23 وقت اشاعت: 04/04/2008 - 22:39:52 وقت اشاعت: 04/04/2008 - 15:43:15 وقت اشاعت: 04/04/2008 - 12:34:05 وقت اشاعت: 03/04/2008 - 18:08:47 وقت اشاعت: 03/04/2008 - 11:29:57 وقت اشاعت: 02/04/2008 - 17:05:24

پاکستان میں برڈ فلو وائرس آئیویان فلو کی انسان سے انسان کو منتقلی کی تصدیق ہوگئی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔4اپریل۔2008ء)پاکستان میں برڈ فلو وائرس آئیویان فلو کی انسان سے انسان کو منتقلی کی تصدیق ہوگئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے کیے جانے والے ٹیسٹ کے مطابق گذشتہ سال شمال مغربی پاکستان میں برڈ فلو سے ایک خاندان کے چند افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق علاقے میں برڈ فلو سے مزید اموات روکنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں پاکستان کے شمال مغربی اور جنوبی علاقوں میں گذشتہ سال برڈ فلو پھیلا تھا۔

مرض کی روک تھام کے لیے ہزاروں پرندوں کو ہلاک کیا گیا۔ جمعرات کو شمال مغربی شہر پشاور میں برڈ فلو سے ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی جس کے بعد ان ہلاک ہونے والوں کے نمونے ٹیسٹ کے لیے بھجوائے گئے تھے۔ پاکستان کے دو پولٹری فارمز میں وائرس خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں آ ئیویان فلو کے آئیوسولیشن وارڈ کے انچارچ ڈاکٹر مختار زمان آفریدی نے برطانوی خبررساں ادارے کو بتایا کہ پشاور میں پولٹری ورکر سے وائرس ان کے خاندان کے دیگر افراد کو منتقل ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پولٹری ورکر جن کا نام عالمی ادارہ صحت کی درخواست پر صیغہ راز میں رکھا گیا ہے کو گذشتہ سال 29 اکتوبر کو ہسپتال لایا گیا تھا۔ ڈاکٹر مختار زمان کے مطابق وہ اب مکمل صحت یاب ہیں لیکن 12 نومبر 2007 کو پولٹری ورکر کے بڑے بھائی کو اسی حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا جس میں وہی علامات تھیں اور وہ ایک ہفتے بعد جا ں بحق ہوگیا تھا۔ اکیس نومبر کو اسی پولٹری ورکر کے مزید دو بھائی برڈ فلو کا شکار ہوگئے جن میں سے ایک 28 نومبر2007 کو جاں بحق ہو گیا جبکہ دوسرا صحت یاب ہوگیا۔

پولٹری ورکر کے علاوہ دوسروں کا بیمار یا مردہ پولٹری سے کوئی براہ راست رابطہ نہیں تھا۔ عالمی ادارہ صحت نے لیے گئے نمونوں کا مصر اور امریکہ میں جینیاتی سیکونسنگ ٹیسٹ کیا جس میں انسان سے انسان سے مرض کی منتقلی کی تصدیق ہوگئی۔ تینوں کے نمونوں سے یہ تصدیق ہوگئی ہے کہ وہ ایچ فائیو این ون انفلوانزا وائرس سے متاثر تھے۔ عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ انسان سے انسان کو وائرس کی محدود پیمانے پر منتقلی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مرض کمیونٹی میں نہیں پھیلا جبکہ مستقبل میں اس کے خطرات کم کرنے کے لیے مناسب اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاکہ کسی کو وائرس منتقل نہ ہو۔ پاکستان کے 85 فیصد پولٹری فارمز شمال مغربی علاقوں میں ملک کے واقع ہیں۔
04/04/2008 - 22:39:52 :وقت اشاعت