بند کریں
صحت صحت کی خبریں پاکستان میں پارکنسنز کے مریضوں کی تعداد 4سے 6لاکھ ہے ، مرض تیزی سے پھیل رہا ہے، دماغی و اعصابی ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 12/04/2016 - 13:58:23 وقت اشاعت: 11/04/2016 - 15:13:56 وقت اشاعت: 11/04/2016 - 15:13:56 وقت اشاعت: 09/04/2016 - 13:41:09 وقت اشاعت: 09/04/2016 - 13:04:33 وقت اشاعت: 08/04/2016 - 22:12:26 وقت اشاعت: 08/04/2016 - 19:18:10 وقت اشاعت: 08/04/2016 - 16:39:18 وقت اشاعت: 08/04/2016 - 14:57:10 وقت اشاعت: 08/04/2016 - 12:43:33 وقت اشاعت: 07/04/2016 - 16:52:46

پاکستان میں پارکنسنز کے مریضوں کی تعداد 4سے 6لاکھ ہے ، مرض تیزی سے پھیل رہا ہے، دماغی و اعصابی امراض ماہرین

خدشہ ہے 2030تک اس مرض میں مبتلا مریضوں کی تعداد دگنی ہوجائے گی، پریس کانفرنس سے خطاب

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔08 اپریل۔2016ء)دماغی و اعصابی امراض کے ماہرین نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے ذیلی ادارے کے مطابق پاکستان میں پارکنسنز کے مریضوں کی تعداد 4سے 6لاکھ ہے ، پاکستان میں پارکنسنز تیزی سے پھیل رہا ہے اور خدشہ ہے کہ 2030تک اس مرض میں مبتلا مریضوں کی تعداد دگنی ہوجائے گی، پاکستان میں رعشہ کے مرض میں مبتلا افراد زیادہ تر 60سال یا اس سے زائد عمر کے ہیں لیکن اس بیماری میں 40سے 50سال کی عمر کے افراد بھی مبتلا ہوجاتے ہیں لیکن پاکستان میں 40سال سے کم عمر اور 20سال سے زائد عمر کے افراد میں بھی یہ مرض دیکھا گیا ہے جو تشویش ناک بات ہے ۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان پارکنسنز اینڈ موومنٹ ڈِس آرڈر سوسائٹی کے صدر ڈاکٹڑ نادر علی سید ، نیورولوجی ایورینس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عبد المالک اور پارکنسنز سوسائٹی آف پاکستان کے صدر کے ہارون بشیرنے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر نادر علی سید کا کہنا تھا کہاس بیماری کی ابتدائی علامات میں چلنے پھرنے اور حرکات و سکنات میں چستی نہیں رہتی ،مریض سستی کا شکار ہوجاتا ہے ، سونگھنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے اور کسی بھی ایک ہاتھ میں رعشہ آجاتا ہے اور جسم میں اکڑن پن محسوس ہونے لگتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ پارکنسنز یا رعشہ کی بیماری کا مکمل علاج ابھی تک دریافت نہیں ہو سکا مگر اس بیماری کی مختلف علامات کا علاج کرکے مریضوں کو ایک صحت مند اورتوانا زندگی گزارنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے ۔ پارکنسنز ایک دماغی مرض ہے جو بہت ہی آہستگی سے بڑھتا ہے اور مریضوں میں اس کی علامات ظاہر ہونے میں کئی برس لگ جاتے ہیں اس کے مریض برسوں بغیر کسی واضح علامت کے زندہ رہتے ہیں اور مرض کی علامات اُدھیڑ عمری میں ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ پارکنسنز کی بیماری اُس وقت ہوتی ہے جب کسی شخص کا دماغ ڈوپامین ( Dopamine) نامی کیمیکل بنانا کم کر دیتا ہے ، ڈوپامین کی کمی سے کسی بھی شخص میں حرکات و سکنات اور تاثرات ظاہر کرنے کی صلاحیت ختم ہونا شروع ہوجاتی ہے اگرچہ یہ بیماری جان لیوا نہیں ہے مگر اس کے نتیجے میں ہونے والی پیچیدگیاں اکثر جان لیوا ثابت ہوتی ہیں بدقسمتی سے پاکستان میں رعشہ کی بیماری کے حوالے سے معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں اور نہ صرف عام لوگ بلکہ ڈاکٹرز بھی اس مرض کی علامات اور اس کی تشخیص کے طریقہ کار سے لاعلم ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پارکنسنز یا رعشہ کی بیماری میں مبتلا لوگوں کی صحیح تعداد کے متعلق مصدقہ اعداد و شمار موجود نہیں ہیں ، تاہم ایک اندازے کے مطابق ملک میں اس بیماری میں مبتلا لوگوں کی تعداد 6لاکھ سے زائد ہے ۔ جن میں سے اکثریت کو اپنے مرض کے متعلق کوئی آگہی نہیں ہے ۔ ڈاکٹر نادر علی سید نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں اکثر رعشہ کے مریضوں کی صحیح طور پر تشخیص نہیں ہو پاتی اور اس بیماری کی علامات کو بڑھاپے کا ایک مسئلہ سمجھا جاتا ہے ۔

اس مرض کے متعلق عوامی آگہی بہت ضروری ہے جس میں جلد تشخیص اور مریضوں کو عام انسانوں کی طرح زندگی گزارنے کے قابل بنایا جا سکے ۔ یہ ایک بیماری ہے جو کہ بڑھاپے کا ردعمل نہیں لیکن یہ ایک قابل علاج مرض ہے ، یہ ایک زندگی بھر رہنے والا مرض ہے اور تمام عمر اس کا علاج جاری رہتا ہے اور علاج کے نتیجے میں لوگ عام زندگی گزار سکتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں اوسط عمر بڑھ کر 60سے 65سال تک پہنچ گئی ہے ، عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ رعشہ کی وجہ سے اموات میں اضافہ ہو گیا ہے ۔

ساٹھ سے پیسنٹھ سال کی عمر کے لوگوں میں سے دو فیصد کو رعشہ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ، اس مرض کی تشخیص کے لیے کسی ٹیسٹ کی ضرورت نہیں بلکہ حرکات و سکنات سے باآسانی پتہ لگایا جا سکتا ہے ۔ڈاکٹر عبد المالک نے کہا کہ اس بیماری کے نتیجے میں پٹھے اکڑ جاتے ہیں اور حرکات و سکنات سست روی کا شکار ہوجاتی ہیں ۔اس کے علاج کے لیے دواؤں کے ساتھ ساتھ فزیو تھراپی اور تیماری داری بہت اہم ہوتی ہے اس کی دوائیاں با آسانی امرکیٹ میں موجود ہیں ۔

پاکستان میں رعشہ کے مریضوں پر مبنی سپورٹ گروپس بنانے کی ضرورت ہے اور ایسے گروپس ملک کے طول و عرض میں قائم کیے جانے چاہئیں ۔ ایسے گروپس اور رعشہ کے مریضوں کی تعلیم اور نارمل زندگی گزارنے کے لیے مدد کی اشد ضرورت ہے ،تاکہ وہ ایک خودمختار زندگی گزار سکیں ۔انہوں نے بتایا کہ ایشیاء میں رعشہ کے مریضوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جن کی اکثریت انڈیا ، پاکستان اور قریبی ممالک میں موجود ہے لیکن بڑھتی ہوئی غربت کے باعث یہ بیماری بہت حد تک نظر انداز کردی جاتی ہے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بیماری کے متعلق ڈاکٹروں اور معاشرے کے عام افراد میں آگہی پیدا کی جائے اور اس سلسلے میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بہت اہم کردارادا کرسکتے ہیں ،پاکستان پارکنسنز اینڈ موومنٹ ڈِس آرڈر سوسائٹی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے بھرپور طریقے سے کوشاں ہیں ، اس حضوالے سے نوجوان ڈاکٹروں ، نیورولوجسٹ اور اس بیماری میں مبتلا افراد کو مسلسل رہنمائی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

ڈاکٹر عبد المالک نے بتایا کہ پارکنسنز کے عالمی دن کے حوالے سے موومنٹ ڈس آرڈر سوسائٹی ، نیورولوجی ایویرنس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن ، پاکستان سوسائٹی آف نیورولوجی اور پاکستان پارکنسنز اینڈ موومنٹ ڈِس آرڈر سوسائٹی مرض کی آگہی کے لیے سیمینارز ، ورکشاپس اور واک منعقد کرتی رہتی ہے ۔

08/04/2016 - 22:12:26 :وقت اشاعت