بند کریں
صحت صحت کی خبریںماہرین صحت کی آمدہ موسم گرما کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت

صحت خبریں

وقت اشاعت: 14/04/2016 - 13:39:58 وقت اشاعت: 14/04/2016 - 11:11:49 وقت اشاعت: 13/04/2016 - 22:42:12 وقت اشاعت: 13/04/2016 - 22:15:25 وقت اشاعت: 13/04/2016 - 17:33:10 وقت اشاعت: 13/04/2016 - 16:42:30 وقت اشاعت: 13/04/2016 - 14:46:34 وقت اشاعت: 13/04/2016 - 13:44:31 وقت اشاعت: 12/04/2016 - 17:21:47 وقت اشاعت: 12/04/2016 - 16:40:21 وقت اشاعت: 12/04/2016 - 16:30:12

ماہرین صحت کی آمدہ موسم گرما کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت

اسلام آباد ۔ 13 اپریل (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 اپریل۔2016ء) ماہرین صحت نے آمدہ موسم گرما کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے ، وسط مئی میں شدید گرم موسم کی پیش گوئی ہے اورگرمی وسط جون تک جاری رہے گی ۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز( پمز) کے معروف ڈاکٹر وسیم خواجہ نے ”اے پی پی“ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ دن میں زیادہ پانی پئیں اور ٹھنڈے مشروبات کا استعمال کریں، بے جا گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور باہر نکلتے وقت دھوپ کا چشمہ اور سر کو ڈھانپ کر رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ کوشش کی جائے کہ خود کو ٹھنڈی جگہ پر رکھا جائے، حالیہ دنوں میں ملک کے بیشتر علاقوں میں گرمی میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا ہے، جنوبی پنجاب کے علاقوں میں درجہ حرارت 40ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید گرمی کا امکان ہے۔ پولی کلینک ہسپتال کے ڈاکٹر شریف استوری نے کہا کہ شہری گرمی سے بچنے کی کوشش کریں۔

انہوں نے بالخصوص کھلے آسمان تلے مزدوری کرنے والوں کو کہا کہ وہ سخت دھوپ کے دوران کام کرنے سے گریز کریں اور بوقت ضرورت کام کے دوران سر کو ڈھانپ کر رکھیں اور زیادہ سے زیادہ پانی اور ٹھنڈے مشروبات کا استعمال کریں۔ انہوں نے سخت موسمی حالات میں مزدوروں کے تحفظ کے لئے اقدامات کی ضرورت پر بھی زوردیا ۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں، کالجوں میں کھلے آسمان تلے اسمبلی یا کلاسوں کا اہتمام نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گرمی کے باعث انسانی جسم میں نمکیات میں کمی کے باعث بلڈپریشر اور شوگر کی مقدار میں کمی واقع ہو جاتی ہے اور مریض کی حالت خراب ہو جاتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ موثر احتیاطی تدابیر کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی شدید مرض کی صورت میں اپنے معالج سے رجوع کیا جائے۔

13/04/2016 - 16:42:30 :وقت اشاعت