سرطان سے بچاوٴ، بروقت تشخیص اور علاج کے لیے مسلم دنیاکو او آئی سی کے زیر اہتمام مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے، سیمینارز اور ورک شاپس کا انعقاد کیا جانا چاھیئے اور زرائع ابلاغ سے بھی مدد لینی چاھیئے،دنیا بھر میں سرطان سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہیم، زیادہ تر ہلاکتیں غریب اور متوسط آمدنی والے ملکوں میں ہوتی ہیں

خاتون اوّل محمودہ ممنون حسین کا 31 ویں اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر خواتین اوّل کے اجتماع سے خطاب

استنبول(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 اپریل۔2016ء) خاتون اوّل محمودہ ممنون حسین نے31 ویں اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر خواتین اوّل کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرطان سے بچاوٴ، بروقت تشخیص اور علاج کے لیے مسلم دنیاکو او آئی سی کے زیر اہتمام مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں سیمینارز اور ورک شاپس کا انعقاد کیا جانا چاھیئے اور زرائع ابلاغ سے بھی مدد لینی چاھیئے۔

خاتون اوّل محمودہ ممنون حسین نے کہا کہ دنیا بھر میں سرطان سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے انہوں نے کہا زیادہ تر ہلاکتیں غریب اور متوسط آمدنی والے ملکوں میں ہوتی ہیں۔پاکستان بھی ایک ترقی پزیر ملک ہونے کے ناطے اس مرض میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اگر حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کیا جائے تو اس مرض سے بہت حد تک بچا جا سکتا ہے۔

خاتون اوّل محمودہ ممنون حسین نے کہا کہ چالیس برس سے زائد خواتین میں سرطان کے مرض میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جوکہ نسل انسانی کے لیے چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو تشخیص سے نہیں گھبرانا چاہیے اس سلسلے میں آگاہی مہمات بھی چلانی چاھیں۔ خاتون اوّل محمودہ ممنون حسین نے کہا کہ حکومت پاکستان سرطان پر قابو پانے کے لیے بہت سے اقدامات کر رہی ہے۔

اس مرض کے علاج کے لیے بڑے ہسپتالوں میں کینسر کے شعبہ جات موجود ہیں اس کے علاوہ ریڈیو تھراپی کی سہولت میسر کرنے کے لیے ایٹمی انرجی سینٹرز ہسپتالوں کے ساتھ منسلک کر دیے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان نے جامع منصوبہ بندی تشکیل دینے کے لیے مریضوں کا ڈیٹا اکھٹا کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ اس مرض سے موٴ ثر طور پرنمٹا جا سکے۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے قانون سازی بھی کی گئی ہے۔ محترمہ محمودہ حسین نے کہا کہ اگر ہم یک جان ہو کر کام کریں تو کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔

Your Thoughts and Comments