بند کریں
صحت صحت کی خبریںزیکا وائرس کے خدشات کے باوجود اولمپک کھیلوں کو منسوخ یا دوسری جگہ منتقل کرنے کی ضرورت نہیں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 13/05/2016 - 13:24:54 وقت اشاعت: 13/05/2016 - 12:57:52 وقت اشاعت: 12/05/2016 - 16:23:33 وقت اشاعت: 12/05/2016 - 16:13:21 وقت اشاعت: 12/05/2016 - 13:38:45 وقت اشاعت: 12/05/2016 - 12:14:38 وقت اشاعت: 12/05/2016 - 11:10:50 وقت اشاعت: 11/05/2016 - 15:29:36 وقت اشاعت: 11/05/2016 - 14:40:49 وقت اشاعت: 11/05/2016 - 14:37:38 وقت اشاعت: 11/05/2016 - 14:37:38

زیکا وائرس کے خدشات کے باوجود اولمپک کھیلوں کو منسوخ یا دوسری جگہ منتقل کرنے کی ضرورت نہیں ، انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی

ریوڈی جنیرو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 مئی۔2016ء)انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کا کہنا ہے کہ برازیل کے شہر ریو میں زیکا وائرس کے خدشات کے باوجود اولمپک کھیلوں کو منسوخ کرنے، اس میں تاخیر کرنے یا انھیں دوسری جگہ منتقل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ادھر انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی ( آئی او سی) کے میڈیکل ڈائریکٹر رچرڈ بجٹ کا کہنا ہے کہ وہ صورت حال کی قریب سے نگرانی کرتے رہیں گے۔

ڈاکٹر بجٹ نے یہ بات کینیڈا کے معروف ڈاکٹر پروفیسر عامر عطارن کی اس بات کے جواب میں کہی ہے جس میں انھوں نے اولمپک گیمز کو منتقل کرنے یا منسوخ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔پروفیسر عطارن کا کہنا ہے کہ اولمپک گیمز کے دوران بڑی تعداد میں لوگوں کی برازیل آمد سے زیکا وائرس کے مزید پھیلنے کا خدشہ بڑھ جائیگا۔ایک انٹرویو میں پروفیسر عطارن نے کہا: ’اگر آئی او سی اور عالمی ادار ہ صحت کا دل اتنا بڑا نہیں ہے کہ وہ ایسے بچوں کی پیدائش کو روکنے کے لیے گیمز کو موخر کر سکیں جن کے تاحیات معذور ہونے کا خطرہ ہے تو پھر تو وہ دنیا کے سفاک ترین اداروں میں سے ایک ہیں۔

‘ان کا مزید کہنا تھا: ’میں تو صرف اس میں تھوڑی سی تاخیر کی بات اس لیے کر رہا ہوں تاکہ مستقل طور پر معذور بچوں کی پیدائش کو روکا جا سکے۔‘صحت عامہ کے ماہر ڈاکٹر عطارن کا موقف ہے کہ آئی او سی زیکا وائرس کے بارے میں جن باتوں کا اعتراف کرنا چاہتی ہے وہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ ڈاکٹر عامر عطارن کا مزید کہنا تھا کہ برازیل کا شہر ریو ڈی جنیرو لوگوں کی توقعات سے کہیں زیادہ زیکا وائرس سے متاثر ہے اور اگر ایک مسافر بھی اس وائرس سے متاثر ہوکر دوسرے علاقے میں چلا گیا تو بس اسی سے دنیا بھر میں اس کے پھیلنے کی ابتدا ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کھیل پروگرام کے مطابق کروائے گئے تو یہ خاص طور پر بھارت، نائجیریا اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے لیے اچھی بات نہیں ہوگئے جن کے پاس زیکا سے نمٹنے کے لیے برازیل جیسی سہولیات نہیں ہیں۔لیکن ڈاکٹر عطارن کے موقف سے او آئی سی، عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او اور کئی دیگر عالمی ماہرین متفق نہیں ہیں جن کا کہنا ہے کہ پانچ اگست سے 21 اگست کے دوران ہونے والے کھیل اس سے بہت متاثر نہیں ہوں گے۔

اس سے متعلق ڈاکٹر بجٹ نے ایک بیان میں کہا ’ڈبلیو ایچ او کی جانب سے یہ واضح بیان کہ سفری اور تجارتی پابندی کی ضرورت نہیں، کا مطلب صاف ہے کہ ریو گیمز کو منسوخ کرنے، اس میں تاخیر یا موخر کرنے اور انھیں منتقل کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا: ’آئی او سی صورت حال پر قریب سے نظر رکھے گئے اور ڈبلیو ایچ او کے ساتھ مل کر کام کرے گئے ، اور ہمیں اعتماد ہے جیسا کہ ماہرین نے ہمیں مشورہ دیا ہے کہ آئندہ تین ماہ کے اندر حالات خاصے بہتر ہو جائیں گے۔

‘آئی او سی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک دوسرے بیان میں کہا گیا ہے کہ مچھروں کو نشانہ بنانے اور انھیں نہ پنپنے دینے کے منصوبے پر عمل جاری رہیگا۔امکان ہے کہ ریو اولمپک کے دوران دنیا بھر سے تقریباً پانچ لاکھ لوگ برازیل کا سفر کریں گے۔

12/05/2016 - 12:14:38 :وقت اشاعت