راولپنڈی،3یونین کونسلوں میں ڈینگی لاروا کی موجودگی کا انکشاف

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔23 مئی۔2016ء)ضلعی انتظامیہ،محکمہ صحت اورٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشن (ٹی ایم اے)راول ٹاؤن سمیت متعلقہ محکموں کی مبینہ نااہلی و عدم دلچسپی سے شہر کے3یونین کونسلوں میں ڈینگی لاروا کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جبکہ مختلف محکموں کے اشتراک سے جاری انسداد ڈینگی راولپنڈی سے ڈینگی مہم محض تشہیری مہم ، بند کمروں کے اجلاسوں اور فائلوں تک محدود ہو کر رہ گئی جس سے شہر میں ڈینگی بخار پھیلنے کے امکانات بڑھ گئے جبکہ ٹی ایم اے راول ٹاؤن ، کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی اور محکمہ صحت شہر بھر میں تاحال کسی جگہ بھی انسداد ڈینگی سپرے نہ کر سکا ذرائع کے مطابق یونین کونسل 31میں واقع قبرستان ملکاں ،یونین کونسل 32میں واقع قبرستان فاروقیہ اوریونین کونسل 43میں واقع پی اے ایف قبرستان میں ڈینگی لاروا کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے اس حوالے سے رپورٹ کمشنر راولپنڈی اور ڈی سی او راولپنڈی کو بھجوا دی گئی ہے تاہم اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی کے پاس تاحال انسداد ڈینگی سپرے یا کیڑے مار و جراثیم کش ادویات ہی میسر نہیں جبکہ ٹی ایم اے راول ٹاؤن کے پاس محدود مقدار میں موجود سٹاک بھی انتہائی غیر معیاری اور زائد المیعادہے ذرائع کے مطابق ٹی ایم اے راول ٹاؤن کو رواں سال یکم جنوری کو دیئے گئے ہدف کے باوجود تاحال صرف61میں سے29قبرستانوں کی صفائی ہوسکی ہے جبکہ 32قبرستان تاحال ڈینگی مچھر کی افزائش کے لئے محفوظ جگہ کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں یہی پوزیشن شہر کے پارکوں کی ہے جہاں پر صحت و صفائی کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے مچھروں کی بہتات ہے جبکہ انسداد ڈینگی مہم میں خصوصی طور پربنائے گئے ا ہداف میں تاحال کسی جگہ بھی سپرے نہیں ہو سکا یاد رہے کہ رواں سال یکم جنوری سے شروع ہونے والی انسداد ڈینگی مہم کے تحت صرف ٹی ایم اے راول ٹاؤن کو شہر کے 237بڑے گوداموں ،14خستہ حال کھنڈر نما عمارتوں ،61قبرستانوں ،73سروس سٹیشنوں ،324ورکشاپوں،53شادی ہالوں اور61زیر تعمیر عمارتوں میں صحت و صفائی اور چیکنگ کے لئے راول ٹاؤن کو 4مختلف سیکٹروں میں تقسیم کر کے تما م ٹاؤن افسران کو خصوصی ہدف دیا گیا تھالیکن 5ماہ گزرنے کے باوجود 50فیصد اہداف بھی حاصل نہیں ہو سکے لیکن ٹی ایم اے افسران نے اپنے دفاتر میں بیٹھ کر ہی تمام معاملات کلیئر کر دیئے جبکہ گزشتہ سال ٹی ایم اے راول ٹاؤن کی انسداد ڈینگی مہم کی صرف تشہیر پر60لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔

Your Thoughts and Comments