بند کریں
صحت صحت کی خبریںاقوام متحدہ کے رکن ممالک نے ایڈز کے حوالے سے نئے اعلامیہ کی منظوری دیدی

صحت خبریں

وقت اشاعت: 10/06/2016 - 22:41:11 وقت اشاعت: 10/06/2016 - 16:54:30 وقت اشاعت: 10/06/2016 - 16:46:10 وقت اشاعت: 10/06/2016 - 16:30:52 وقت اشاعت: 09/06/2016 - 16:08:00 وقت اشاعت: 09/06/2016 - 14:00:46 وقت اشاعت: 09/06/2016 - 13:05:54 وقت اشاعت: 08/06/2016 - 18:23:33 وقت اشاعت: 08/06/2016 - 16:23:09 وقت اشاعت: 08/06/2016 - 15:01:53 وقت اشاعت: 08/06/2016 - 14:12:22

اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے ایڈز کے حوالے سے نئے اعلامیہ کی منظوری دیدی

اقوام متحدہ ۔ 09جون (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 جون۔2016ء) اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے مہلک مرض ایڈز کے حوالے سے ایک نئے اعلامیہ کی منظوری دی ہے جس کے مطابق آئندہ 5سال کے دوران دنیا بھر میں اس مرض پر کنٹرول کی پیش رفت کی متعین اہداف کے ساتھ مانیٹرنگ کی جائیگی اور 2030ء تک اس کے عالمی وبا کی صورت اختیار کرنے کے خطرے کا خاتمہ کر دیا جائیگا۔

اس حوالے سے عالمی ادارہ کے زیر اہتمام منعقدہ اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ادارہ کے سربراہ بانکی مون نے کہا کہ ہمارے پاس آئندہ پانچ سال کے دوران ایڈز کے عالمی وباء کی صورت اختیار کرنے کے خطرے کا خاتمہ کرنے کا سنہری موقع ہے ۔ اس عرصہ کے دوران ٹھوس اقدامات نہ کئے گئے تو یہ مرض کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کیلئے وباء کی صورت میں سامنے آسکتا ہے ۔

اجلاس میں دنیا بھر سے سربراہان مملکت و حکومت ، ایڈز میں مبتلا افراد ، ڈاکٹروں اور ایڈز کے خاتمے کیلئے کام کرنے والی تنظیموں نے شرکت کی جبکہ پاکستان کی نمائندگی پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت درشن پنچھی کی قیادت میں 4رکن وفد نے کی ۔ وفد کے دیگر ارکان میں ڈائریکٹر نیشنل ایڈز پروگرام ڈاکٹر عبدالبصیر خان اچکزئی ، بلوچستان کے سیکرٹری صحت عمر بلوچ اور ایک سول سوسائٹی کا نمائندہ شامل ہے ۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں بانکی مون نے کہا کہ 10سال قبل جب وہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بنے تو ایڈز کے صرف ایک تہائی مریضوں کو اس کے علاج تک رسائی حاصل تھی۔ ادویات سستی ہونے اور زیادہ فنڈز فراہم کئے جانے کے نتیجہ میں اب تقریباً پونے دو کروڑ افراد کو ایڈز کے علاج تک رسائی حاصل ہے ۔ ایڈز کا خاتمہ پائیدار ترقی کے اہداف 2030ء میں شامل کئے اورموثر اقدامات کے نتیجہ میں اس مرض میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد میں گزشتہ 15سال کے دوران 35فیصد کمی آئی ہے ۔

آرمینیا ، بیلا روس ، کیوبا اور تھائی لینڈ میں اس مرض کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے ۔ ایڈز پر کنٹرول میں کامیابیوں میں اس مرض میں مبتلا افراد کے مثبت رویوں کا بھی اہم کردار ہے ۔ بانکی مون نے کہا کہ دنیا بھر سے 2030ء تک اس مرض کے خاتمہ کیلئے آئندہ پانچ سال کے دوران انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے دنیا بھر کے ممالک کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ایڈز کے خاتمے کیلئے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایڈز کی ملٹی سیکٹر ، ملٹی ایکٹر طرزعمل اپنائیں۔ اس موقع پر جنرل اسمبلی کے صدر موکنز لکٹاف ،یو این ایڈز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیکل سٹریب ، جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کے پوتے نڈایا منڈیلا اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

09/06/2016 - 14:00:46 :وقت اشاعت