بند کریں
صحت صحت کی خبریںپاکستان میں مرد سگریٹ نوش کی شرح 32 فیصد خواتین میں 7.5 فیصد طلباء میں 18 سے 27 فیصد اور طالبات ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 03/06/2008 - 15:21:00 وقت اشاعت: 03/06/2008 - 11:25:13 وقت اشاعت: 02/06/2008 - 22:21:23 وقت اشاعت: 01/06/2008 - 12:09:59 وقت اشاعت: 01/06/2008 - 11:56:35 وقت اشاعت: 30/05/2008 - 16:26:34 وقت اشاعت: 30/05/2008 - 15:22:49 وقت اشاعت: 30/05/2008 - 13:07:15 وقت اشاعت: 28/05/2008 - 17:47:17 وقت اشاعت: 27/05/2008 - 19:40:46 وقت اشاعت: 27/05/2008 - 18:09:23

پاکستان میں مرد سگریٹ نوش کی شرح 32 فیصد خواتین میں 7.5 فیصد طلباء میں 18 سے 27 فیصد اور طالبات 1.7 کی شرح سے سگریٹ استعمال کررہی ہیں‘ملک میں تمباکو نوشی کے مکمل خاتمے کیلئے معاشرے کے ہر باشعور شہری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے،ڈاکٹر ارشد جاوید

پشاور(اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین30مئی2008 )پاکستان چیسٹ سوسائٹی نے حکومت کی جانب سے تمباکو نوشی کے خاتمے کی کوششوں کو بے بنیادقرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت وقتی فائدے کی خاطر عوام کی صحت سے کھیل رہی ہیں جبکہ ملک میں تمباکو نوشی کے مکمل خاتمے کیلئے معاشرے کے ہر باشعور شہری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے، پاکستان کے نوجوان نسل میں تمباکو نوشی کا رجحان بڑھ رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ طالبات بھی سگریٹ نوشی کی جانب مائل ہورہی ہیں اور اس سے سرطان جیسی مہلک بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

ان خیالات کااظہار پاکستان چیسٹ سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر ارشد جاوید اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مختیار زمان نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر ارشد جاوید نے کہا کہ دنیا بھر میں 31 مئی کو تمباکو نوشی کے خاتمے کا دن منایا جاتا ہے اور اس سلسلے میں دنیا بھر میں واک  تقاریب منعقد کی جاتی ہیں تاکہ تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے حوالے سے لو گوں میں شعور بیدار کیا جاسکے - ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ارشد جاوید نے بتایا کہ پاکستان میں سالانہ ساٹھ ہزار سے ایک لاکھ تک اموات سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتی ہیں اور روزانہ ایک ہزار نئے افراد سگریٹ نوشی کی طرف مائل ہورہے ہیں انہوں نے کہاکہ تعلیم یافتہ افرا د میں سگریٹ نوشی اور شیشے کا استعمال فیشن بڑھتا جارہا ہے جبکہ صوبہ سرحد میں کم تعلیم یافتہ طبقہ نسوار استعمال کررہا ہے انہوں نے کہا کہ سرحد میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق 48 فیصد خواتین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے نسوار کا استعمال علاج کے طور پر کیا جبکہ 26 فیصد خواتین نے شوہروں کے کہنے پر نسوار کا استعمال شروع کیا انہوں نے کہاکہ پاکستان میں مرد سگریٹ نوش حضرات کی شرح 32 فیصد خواتین میں 7.5 فیصد طلباء میں 18 سے 27 فیصد اور طالبات 1.7 کی شرح سے سگریٹ استعمال کررہی ہیں اس موقع پر ٹی بی سپیشلسٹ ڈاکٹر عبدالغفور نے کہا کہ سگریٹ نوش حضرات میں ٹی بی کی شرح عام لوگوں کے مقابلے میں چار فیصد زیادہ ہے اسی طرح سگریٹ نوش ٹی بی کے مریضو ں کے علاج میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں ڈاکٹر ارشد جاوید نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت سگریٹ نوشی کے خاتمے کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھا رہی اور اٹھائیس بلین روپے کی وجہ سے جو حکومت کو ٹیکسوں کی مد میں ملتے ہیں منافقت سے کام لے رہی ہیں انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں 45 تمباکو کے کارخانوں میں 43 کارخانے سرحد میں ہیں جن سے 80 ہزار افراد کا روزگار وابستہ ہیں- قبل ازیں پاکستان چیسٹ سوسائٹی کے اراکین  طلباء و طالبات نے 31 مئی کے حوالے سے ایڈورڈ کالج سے پشاور پریس کلب تک واک کیا واک میں شریک افراد نے تمباکونوشی کے خاتمے کیلئے کوششیں کرنے اور لوگوں میں شعور پیدا کرنے کے حوالے سے بینر اٹھا رکھے تھے-
30/05/2008 - 16:26:34 :وقت اشاعت