بند کریں
صحت صحت کی خبریںمالی سال 2008-09کا 2010ارب روپے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیاگیا ، جی ڈی پی کی شرح میں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 19/06/2008 - 11:45:18 وقت اشاعت: 18/06/2008 - 14:57:49 وقت اشاعت: 16/06/2008 - 14:27:24 وقت اشاعت: 14/06/2008 - 14:54:01 وقت اشاعت: 13/06/2008 - 16:15:44 وقت اشاعت: 11/06/2008 - 22:25:41 وقت اشاعت: 11/06/2008 - 18:40:55 وقت اشاعت: 10/06/2008 - 20:22:54 وقت اشاعت: 10/06/2008 - 20:12:48 وقت اشاعت: 10/06/2008 - 12:54:45 وقت اشاعت: 09/06/2008 - 18:08:58

مالی سال 2008-09کا 2010ارب روپے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیاگیا ، جی ڈی پی کی شرح میں 5.5فیصد اضافہ، افراط زر بارہ فیصد، مالیاتی خسارہ 4.7اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 6فیصد تک لانے کا ہدف مقرر،وفاقی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بیس فیصد اضافے، ڈی اے پی کھاد پر سبسڈی 470سے بڑھا کر ایک ہزار روپے فی بیگ، چاول کے بیج کی درآمد پر دس فیصد کسٹم ڈیوٹی کے خاتمے، سلائی مشین کی در آمد پر ڈیوٹی 5سے بڑھا کر 20فیصد، کال سنٹروں کے آلات پر ڈیوٹی کی شرح پانچ فیصد اور سیلز ٹیکس کی چھوٹ، سی این جی بسوں اور انرجی سیور بلب پر ڈیوٹی کی چھوٹ،ہر مستحق گھرانے کو ایک ہزار روپے ماہانہ امداد، غیر ترقیاتی اخراجات منجمد، سرکاری اداروں میں کاروں، ائیر کنڈیشنرز کی خریداری پر پابندی، وزیر اعظم سیکرٹریٹ، قومی اسمبلی اور سینٹ سمیت نیب کے بجٹ اور سبسڈیز میں کٹوتی، بیماری، حادثہ، زلزلہ یاد ہشت گردی میں معذور سرکاری ملازمین کو پنشن کی مکمل مراعات دینے کیلئے دس سال سروس کی شرط ختم، سپریم کورٹ کے ججوں کی آسامیاں سولہ سے بڑھا کر 29کر نے، خوشبویات، کراکری، فرنیچر، ایئر کنڈیشنر، ریفریجریٹرز،بسکٹ چاکلیٹ اور سگریٹ پر ڈیوٹی میں دس سے پندرہ فیصد اضافے سیمنٹ پر ایکسائز ڈیوٹی میں 150روپے فی میٹر ک ٹن بڑھانے اور انکم ٹیکس میں 35استثنیٰ واپس لینے کا اعلان

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11جون۔2008ء)حکومت نے آئندہ مالی سال 2008-09کا 2010ارب روپے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے جس کے تحت جی ڈی پی کی شرح میں 5.5فیصد اضافہ، افراط زر بارہ فیصد رکھنے، جی ڈی پی کے تناسب سے سرمایہ کاری کی سطح پچیس فیصد، مالیاتی خسارہ 4.7اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 6فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور وفاقی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بیس فیصد اضافے، ڈی اے پی کھاد پر سبسڈی 470سے بڑھا کر ایک ہزار روپے فی بیگ کر نے، چاول کے بیج کی در آمد پر دس فیصد کسٹم ڈیوٹی کے خاتمے، سلائی مشین کی در آمد پر ڈیوٹی 5سے بڑھا کر 20فیصد، کال سنٹروں کے آلات پر ڈیوٹی کی شرح پانچ فیصد اور سیلز ٹیکس کی چھوٹ، سی این جی بسوں پر ڈیوٹی کی مکمل چھوٹ، انرجی سیور بلب پر ڈیوٹی کی چھوٹ، دیہی اور پسماندہ علاقوں میں قائم ہونے والی صنعتوں پر پہلے سال دس فیصد فرسودگی اور 90فیصد اضافی الاؤنس، ہر مستحق گھرانے کو ایک ہزار روپے ماہانہ امداد، کم لاگت گھروں کی فراہمی کیلئے دو ارب روپے کے فنڈ کے قیام، غیر ترقیاتی اخراجات منجمد، سرکاری اداروں میں کاروں، ائیر کنڈیشنرز کی خریداری پر پابندی، وزیر اعظم سیکرٹریٹ، قومی اسمبلی اور سینٹ سمیت نیب کے بجٹ اور سبسڈیز میں کٹوتی، بیماری، حادثہ، زلزلہ یاد ہشت گردی میں معذور سرکاری ملازمین کو پنشن کی مکمل مراعات دینے کیلئے دس سال سروس کی شرط ختم، سپریم کورٹ کے ججوں کی آسامیاں سولہ سے بڑھا کر 29کر نے، خوشبویات، کراکری، فرنیچر، ایئر کنڈیشنر، ریفریجریٹرز،بسکٹ چاکلیٹ اور سگریٹ پر ڈیوٹی میں دس سے پندرہ فیصد اضافے اٹھارہ سو سی سی سے بڑے انجن والی گاڑیوں پر ڈیوٹی میں دس فیصد اضافے، سیلز ٹیکس کی شرح پندرہ سے بڑھا کر سولہ فیصد، ٹیلی کام کے شعبے پر سیلز ٹیکس سولہ سے بڑھا کر 21فیصد، سیمنٹ پر ایکسائز ڈیوٹی میں 150روپے فی میٹر ک ٹن بڑھانے اور ان کم ٹیکس میں 35استثنیٰ واپس لینے کا اعلان کر دیا گیا ہے ۔

بدھ کو وفاقی وزیر خزانہ و اقتصادی امور سید نوید قمر نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا انہوں نے کہاکہ ہم ایک مدت بعد پھر اس ایوان میں بجٹ پیش کر نے کیلئے آئے ہیں بارہ سال قبل جب ہم نے بجٹ پیش کیا تھا یقینی طور پر وہ اور بجٹ تھا اور سماج تھا اور ایوان تھا اور مختلف پاکستان تھا بجٹ کا اتنا بڑا سائز تو نہیں تھا لیکن اتنے بڑے خسارے بھی نہیں تھے اس سماج کی اتنی بڑی آبادی تو نہیں تھی مگر سماج میں اتنی غربت بھوک ننگ، بے روز گاری اور بیماری بھی نہیں تھی اتنا بڑا ایوان تو نہیں تھا لیکن اس ایوان کو اتنے گھمبیر مسائل کا سامنا بھی نہیں تھا یقینا پاکستان تو وہی ہے لیکن اتنے بڑے خطرات اور بحرانوں کے بھنور بھی تو نہ تھے ۔

ہم نے لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں کا خاتمہ کر کے ملک کے حوالے کیا تھا مگر آج پھر نہ صرف پورا ملک بلکہ لوگوں کی تقدیریں اور امیدیں بھی اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہیں یہ زرعی ملک تھا جس کو قحط زدہ کر کے ہمارے حوالے کیا گیا ہے امن وامان کے چھوٹے موٹے مسائل تو تھے مگر دہشت گردوں کے آگے اتنی بے بسی تو نہ تھی کہ جس سے معصوم اور بے گناہ لوگوں کی زندگیاں عذاب جائیں ہر شہر میں موت اترے اور ہر گھر پر خوف کا پہرہ ہو اور تو اور ہماری بہادر قائد محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو اس ملک کے عوام سے چھین کر ان کی روحوں کو چھلنی اور ان کے احساس کو بھی زخمی کر دیا گیا ہو اور پوری دنیا سے ان کی آس اور امید چھین لی گئی ہو ۔

انہوں نے کہاکہ ہوسکتا ہے کہ اتنے وسائل نہ ہوں مگر اس قدربھیانک مسائل بھی نہیں تھے یہ تو ہوسکتا ہے کہ معاشی ڈھانچہ اتنا بڑا نہ ہو مگر اس قدر کھوکھلا اور دیمک زدہ ڈھانچہ بھی نہیں تھا جو کسی بھی ہلکی سی جنبش سے ٹوٹ کر بکھر نے کے قریب ہو ۔ زندگی تو تھی مگر اتنی بے رونق اور مشکل نہ تھی کہ لوگ زندگی کو ہی بوجھ سمجھیں جمہوریت تھی اسقدر آمریت کے پنجوں میں جکڑا ہوا ملک نہ تھا جس میں سانس لینا بھی مشکل ہو ۔

نوید قمر نے کہاکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ہمیں اقتدار دیا گیا ایک ٹوٹا پھوٹا بحرانوں میں گھرا، اندھیروں میں ڈوبا، تباہ حال خطرات میں گھرا،غربت زدہ،قحط زدہ، دہشت زدہ، نا انصافیوں میں قید، زخموں سے چور پاکستان ہمارے حوالے کیا گیا ہمارے قائد شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے خون کے چراغ جلا کر اس ملک میں اور اس ملک کے غریبوں کے گھروں میں روشنی کی ہے ہم ایک بار پھر اس چیلنج کو قبول کرتے ہیں اور قوم سے عہد کرتے ہیں کہ اس ملک کو بھنور ضرور نکالیں گے میرا صرف ہنر تھا کہ خون جگر، نذر میں نے کیا مجھ سے جوبن پڑا “ انہوں نے کہاکہ اس سے قبل کہ میں اس ایوان کے غور وخوض کیلئے بجٹ کی مخصوص تجاویز پیش کروں ضرور ہو گا کہ میں ورثے میں ملنے والی معیشت اور رواں مالی سال میں جاری بجٹ کے حالات کے بنیادی خدو خال پر روشنی ڈالو ں اس سے میرے ساتھیوں کو ہمیں درپیش معاشی حالات سمجھنے میں مدد ملے گی ہمیں ورثے میں ملنے والی معیشت گیارہ ستمبر 2001 کے واقعات سے پیدا ہونے والے حالات پر قائم تھی معاشی ترقی ہو ئی مگر وہ دیر پا ثابت نہ ہو سکی مغرب سے سرمائے کی ایک بڑی مقدار نکال کر ترقی پذیر ممالک کو منتقل کی گئی منتقلیوں کے غیر رسمی چینجلز بند کر دیئے گئے جس کے نتیجے میں بنکاری معمول کے چینلز کے ذریعے تر سیلات کا بہت بڑا بہاؤ آیا پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے حلیفوں سے قابل ذکر امداد حاصل ہوئی غیر ملکی سر مائے کے بہاؤ میں قابل ذکر اضافے سے ملک کو زر مبادلہ کے ذخائر کے ساتھ ساتھ در آمدات کے لئے زیادہ طلب کی بلند سطح قائم رکھنے میں مدد ملی معیشت کے حجم میں نمایاں اضافہ ہوا اور بلند شرح نمو حاصل ہوئی تاہم زیادہ تر شرح نمو کاروں، ٹی وی، سیٹ،ریفریجریٹرز، ائیر کنڈیشنر ز اور موبائل فون وغیرہ جیسی اشیاء کے استعمال میں اضافے کی صورت میں ہوئی دیر پار بنیادوں پر بلند شرح نمو میں مدد دینے کیلئے صنعت، بنیادی ڈھانچے اور زراعت میں اس تناسب سے سرمایہ کاری نہیں کی گئی ترقی اور لازم انفراسٹرکچر کے درمیان اس فرق کی عکاسی اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ ہمارے پاس اس طرح کی دیر پار اشیاء استعمال کیلئے بجلی ہی نہیں ہے اسی طرح موٹر کارو ں میں اضافے کے مطابق شہری سڑکوں میں توسیع نہیں کی گئی انہوں نے کہاکہ نو مارچ 2007 کو عدالتی بحران شروع ہونے کے بعد ملک کو کئی صدموں کا سامنا کر نا پڑفا جس سے ترقی کمزور بنیاد سامنے آ گئی اس کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے اور بڑے پیمانے پر خوراک کی قلت کے شاکس آئے ان بحرانوں کے باوجود حکومت بے عملی کا شکار رہی اور ان چیلنجوں کا سامنا کر نے کیلئے در کار تکلیف دہ فیصلوں میں سیاسی مصلحت کی بنا پر تاخیر کی اس لئے کہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات سر پر تھے موجودہ بجٹ نے ان بحرانوں سے منسلک تمام خرابیوں کا سامنا کیا ہے یہ خرابیاں اس قدر ہیں کہ ان سے گزشتہ چار برسوں کے دور ان معیشت کو حاصل ہو نے والے ثمرات ضائع ہونے کا اندیشہ ہے انہوں نے کہاکہ دوران سال پیش آنے والے غیر مواق واقعات پر فوری نظر ڈالنے سے ہمیں معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لینے میں مدد ملے گی 2007-08میں معیشت گزشتہ سال کے 7.2فیصد کے ہدف اور 6.8فیصد کی حقیقی شرح نمو کے مقابلے میں 5.8فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی مینو فیکچرنگ اور زراعت دونوں شعبوں میں ہدف سے کم بالترتیب 5.4اور 1.5فیصد ترقی ہوئی انہوں نے کہاکہ افراط زر کی شرح گزشتہ سال کی 7.8فیصد کے مقابلے میں گیارہ فیصد ہے موجودہ حکومت کی مربوط کوششوں کے باوجود رواں سال کیلئے بجٹ خسارے کا تخمینہ جی ڈی پی کے چار فیصد ہدف کے مقابلے میں سات فیصد ہے بجٹ میں سبسڈیز کی مد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا جو بڑی حد تک اس بھاری خسارے کا سبب بنا 407ارب روپے کی ان سبسڈیز میں پٹرولیم کیلئے 175ارب ر وپے بجل ی کے لئے 133ارب روپے، گندم کیلئے 40ارب روپے ٹیکسائل و کھاد کے لئے 48ارب روپے شامل ہیں جبکہ سبسڈی کی مدد میں بجٹ میں صرف 114ارب روپے رکھے گئے تھے غیر معمولی مالیاتی خسارے کے باعث ادائیگیوں کے توازن کو بھی بے مثال خسارے کے سامنا ہے حساب جاریہ کے خسارے کا تخمینہ 11.9ارب ڈالر یا جی ڈی پی کا سات فیصد ہے زر مبادلہ کے ذخائر جو کہ اکتوبر 2007 میں 16.5ارب ڈالر تھے کم ہو کر اپریل 2008تک 12.3ارب ڈالر رہ گئے اس سے شرح مبادلہ پر اثر پڑا جولائی 2007 سے اپریل 2008 تک تقریبا 6.4 فیصد کم ہو گئی ہے انہوں نے کہاکہ زیادہ تر خسارہ سٹیٹ بینک سے قرضے حاصل کر کے پورا کر نا پڑا جس کا مطلب ہے کہ مزید نوٹ چھاپے گئے مرکزی بینک سے کم سے کم مئی 2008 ء تک 551 ارب روپے کے قرضے حاصل کئے گئے جس کی ملکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی نوٹوں کی اس چھپائی کا مطلب سمجھنا مشکل نہیں ہے بغیر پیداوار کے سر مایے میں اضافے سے صرف قیمتوں میں اضافہ ہونا تھا جو کہ ہم دیکھ رہے ہیں ہمیں اس عمل کو روکنا ہوگا بصور ت دیگر افراط زر کی شرح موجودہ شرح سے بھی کہیں زیادہ ہو جائے گی اور جیسا کہ میں نے کہا افراط زر کی یہ شرح پہلے ہی ملک کی تاریخ میں بلند ترین سطح ہے انہوں نے کہاکہ مالی سال 2008-09کا بجٹ ایک دیر پا منصوبے کا حصہ ہے جس پر موجودہ حکومت کا م کررہی ہے اور جسے جلد ہی حتمی شکل دے دی جائے گی اسی طرح ہم بجٹ کا اعلان کرتے ہوئے ایک طویل مدتی جائزہ لے رہے ہیں آئندہ سال کے دور ان پیش آنے والے مجموعی اقتصادی حالات کے حوالہ سے ہم مفروضات پرروشنی ڈالنامفید ہو گا جو بجٹ پر اثر انداز ہونگے ان میں سال 2008-09کے دور ان مجموعی قومی پیداوار کی شرح میں 5.5فیصد اضافہ، افراط زر کو بارہ فیصد تک محدو د کر نا، جی ڈی پی کے تناسب سے مجموعی سر مایہ کاری کی سطح پچیس فیصد رکھنا، مالیاتی خسارہ 4.7فیصد تک محدود کر نا،حساب جاریہ کے خسارے کو کم کر کے جی ڈی پی کے چھ فیصد تک لانا جون 2009کے آخر تک زر مبادلہ کے ذخائر بارہ ارب تک لانا شامل ہیں انہوں نے کہاکہ سرکاری شعبے کی سر مایہ کاری ترقی کا ایک اہم محرک ہے اگر چہ حالیہ برسوں میں نجی شعبے کے مقابلے میں اس میں کمی آئی ہے مگر یہ ایک خوش آئند پہلو ہے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ نجی شعبہ ا قتصادی ترقی کا زیادہ بوجھ برداشت کرے قومی اقتصادی کونسل نے مالی سال 2008-09کے لئے 549.7ارب روپے کی ترقیاتی منصوبے کی منظوری دی ہے جو 2007-08کیلئے بجٹ کے ہدف 520ارب روپے سے پانچ فیصد زیادہ ہیں نوید قمر نے کہاکہ ہم بجٹ 2008-09 کے لئے مندرجہ ذیل بنیادی اہداف مقرر کررہے ہیں اقتصادی استحکام بحال کر نے کیلئے مالیاتی خسارہ میں نمایاں کمی کر نا، سبسڈیز کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانا جاریہ اکاؤنٹ کے خسارے میں کمی غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو کم از کم بارہ ارب ڈالر کی سطح پر لے جانا نقد رقوم کی فراہمی کے متعین پروگرام کے ذریعے کمزور طبقوں کو تحفظ فراہم کر نا اور ان کی آمدنی میں اضافہ کرنا زراعت اور مینو فیکچرنگ کے شعبوں کی پیداوار اور مقابلے کی صلاحیت میں اضافہ کر نے پر توجہ مرکوز کر نا حکومت کی طرف سے اقتصادی نمو سر مایہ کاری اور نجی شعبہ کو قائدانہ کر دار دینے کے عزم کے اعلان کے ذریعے سرمایہ کاروں کااعتما د بحال نمو کی رفتار تیز کر نے کیلئے ساز گار ڈھانچے کی فراہمی میں حاثل بنیادی رکاوٹیں دور کر نا سماجی اعشاریوں میں حقیقی تبدیلی لانے کیلئے اس شعبہ کے لئے مختص فنڈز میں اضافہ کر نا، کم لاگت کے گھروں کی تعداد میں نمایاں ااضافہ کر نا تاکہ گھروں کی ضرورت اور ان کی فراہمی میں خاص طورپر سے کم آمدنی والے طبقوں کیلئے فرق کو کم سے کم کیا جائے مالی سال 2008-09کیلئے بجٹ کا تخمینہ رواں سال 2007-08کے بجٹ کی کار کردگی کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے رواں سال کے نظر ثانی شدہ مالیاتی خسارے سات فیصد کے مقابلے میں آئندہ مالی سال 2--8-09 بجٹ خسارے کا تخمینہ مجموعی ملکی پیداوار کا 4.7فیصد ہے اس سے نمایاں مالیاتی ردو بدل اور سرکاری مالیات میں استحکام ظاہر ہوتا ہے ہمارے لئے یہ اہداف کا تعین محصولات جمع کر نے کے نظام میں بہتری اور اخراجات پر کنٹرو ل کے اقدامات کے ذریعے ممکن ہوا فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے محصولات کے 2007-08کے لئے نظر ثانی شدہ تخمینے 1000ارب روپے سے بڑھ کر 2008-09کے لئے 1250ارب روپے ہو جائیں گے یہ اضافہ پچیس فیصد کے برابر ہے قدرتی نمو اور بجٹ میں تجویز کر دہ صو ابدیدی کوششیں ہمیں محصولات کی وصولی میں معقول اضافے کی توقع کی بنیاد فراہم کریں گے آئندہ سال وفاقی اخراجات کا تخمینہ 1493ارب روپے ہے جبکہ 2007-08کے لئے نظر ثانی شدہ تخمینہ 1516ارب روپے تھا ہم مالیاتی نظم وضبط کیلئے مجوزہ اقدامات کی بنیاد پر اخراجات جاریہ میں مزید بچت کی کوشش کریں گے حکومت نیشنل فنانس کمیشن دوبارہ تشکیل دے گی اور صوبوں کی جانب سے این ایف سی کے ارکان کی نزمزدگی موصول ہو تے ہی کمیشن کااجلاس طلب کرے گی صوبوں کو گرانٹ سمیت رقوم کی منتقلی کا اندازہ رواں سال کے لئے نظر ثانی شدہ تخمینے 490ار ب روپے کے مقابلے میں 2008-09 میں 606ارب روپے ہے یہ اضافہ چوبیس فیصد ہے متوقع آمدنی اور اخراجات ظاہر کرتے ہیں کہ صوبوں کے کیش بیلنس میں ان کے پی ایس ڈی پی کے لئے صوبوں کے اپنے حصے اور فاضل اخراجات پورے کر نے کے بعد 79ارب روپے کا اضافہ ہوگا انہوں نے کہاکہ مذکورہ بالا اندازوں کی بنیاد پر ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ آئندہ بجٹ معیشت کو مستحکم کر نے مالیاتی نظم و ضبط کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ معاشی بحالی میں بھی معاون ثابت ہوگا ہماری کامیابی کا پیمانہ مالیاتی مارکیٹ کے اعتماد میں مزید کمی کے عمل کے رکنے میں ہے ا ور مقامی اوربیرونی سرمایہ کاروں کی طرف سے سر مایہ کاری میں مزید اضافے سے ہوگا انہوں نے کہا کہ اس امر کا دستاویز ثبوت بکثرت موجود ہے پاکستان میں گزشتہ دہائی کے دور ان آمدنی کی تقسیم بتدریج خراب ہوئی اس عرصے کے دور ان حاصل ہونے والی دولت مساویانہ طورپر تقسیم نہیں ہوئی اگرچہ بیشتر افراط زر میں بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کا نتیجہ ہے اور قیمتوں میں مطلوبہ اضافے کا بڑا حصہ اب بھی منتقل کیا جانا باقی ہے کمزور طبقات اور مقررہ آمدنی والے گروپوں کو در پیش حالات کم سے کم غیر مستحکم اور زیادہ سے زیادہ ناقابل بر داشت سطح پر ہیں ہم غریبوں کی حالت زار سے الگ تھلگ رہنے کے متحمل نہیں ہوسکتے ہمارے پاس اب بھی اقدامات کا وقت ہے اس سے قبل کہ وہ ریاست کی جانب سے اپنی زندگیوں میں کسی نتیجہ خیز کر دار سے مایوس ہو جائیں ان کے مطالبات کو پورا کر نا ہماری ذمہ داری ہے ہمیں ان لوگوں کو بڑھتی ہوئی قیمتوں اورحقیقی آمدنیوں میں کمی کی مشکلات سے دو رکر نا چاہیے پاکستان پیپلز پارٹی کے بانیوں نے سماجی انصاف کو جمہوریت کیلئے اپنی جدو جہد کا بنیادی اصول بنایا اسی طرح ہم بھی ان گروپوں کے لئے اپنی ذمہ داری کو پورا کر نے کیلئے پر عزم ہیں اور موجودہ بجٹ اس مسئلے کا حل پیش کرے گا انہوں نے کہاکہ جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ بڑھتی ہوئی اور دیر پا نمو کیلئے در کار کے اہم منصوبوں میں نہ تو سر کاری شعبے میں سرمایہ کاری کی گئی اور نہ ہی نجے شعبے میں اس کی حوصلہ افزائی کی گئی مثال کے طورپر بجلی کے شعبے میں ملک اپنی تاریخ کی بد ترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا کررہا ہے بجلی کی طلب اوررسد میں فرق تقریبا 4500میگا واٹ ہے میں اس نکتے کو اجاگر کر نا چاہوں گا کہ یہ فرق اس حقیقت کے باوجود پڑا کہ باوجود گزشتہ دہائی میں نجی شعبے سے چھ ہزار پانچ سو میگا واٹ اضافہ کیا گیا جو تمام پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنی انرجی پالیسی 1994 کے تحت منظور کی تھی یہ آئی پی پی ایس جو ہمارے لئے مفید وسیلہ ثابت ہوئے کو بلا جواز بد نام کیا گیا اور ان پر تنقید کی گئی حالانکہ انر جی پالیسی 1994 کے تحت دی گئی مراعا ت کے تحت سسٹم میں اضافی گیس قابل ذکر مقدار میں شامل کی گئی لیکن اب اس وقت طلب اور رسد کے درمیان فرق 1.5ارب مکعب فٹ ہے اور اگر سسٹم میں اضافی فراہمی کے اہم ذرائع شامل نہ کئے گئے تو اس فرق میں مزید تیزی سے اضافہ ہوگا ہمیں مقامی ذرائع کے ساتھ ساتھ بیرو ن ملک سے در آمد اور سرحد پار پائپ لائنوں کے ذریعے گیس کی فراہمی میں اضافہ کر نا ہوگا اپنی موجودہ سہولیات کے بہتر استعمال کی خاطر بجلی کے شعبے کو گیس کی فراہمی ترجیحی بنیاد پر بڑھانی ہوگی انہوں نے کہاکہ جب ہم نے اقتدار سنبھالا قوم کو لوڈشیڈنگ کا مسئلہ درپیش تھا ہم نے صورتحا ل کا جائزہ لیا اور عوام کے ساتھ ساتھ صنعت وزراعت کے شعبوں کو بجلی کی قلت سے چھٹکارہ دلانے کیلئے مختصر درمیان اور طویل مدت کے مختلف اقدامات کررہے ہیں ان اقدامات میں بجلی کے استعمال میں بچت، موجودہ پیداوار ی صلاحیت کے مطابق بجلی کی پیداوار اور اس کا باکفایت استعمال شامل ہے جس سے پندرہ سو میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی ہم قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ ان اقدامات کے ذریعے لوڈشیڈنگ میں بڑ ی حد تک کمی ہو جائے گی ٹیکسٹائل کی صنعت کیلئے چوبیس گھنٹے مسلسل بجلی کی فراہمی جاری رہے گی جبکہ آٹے اور گھی کی ملوں کو روزنہ اٹھارہ گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی زرعی ٹیوب ویلوں کو ہر رات دس گھنٹے مسلسل بجلی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ رعایتی نرخوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں پانی کی دستیابی اب ملک کو درپیش ایک حقیقی مسئلہ ہے پانی ذخیرہ کر نے کی گنجائش میں توسیع کی اس سے پہلے اس قدر ضرورت نہ تھی تاہم پانی کا باکفایت استعمال بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے اس لئے پانی ذخیرہ کر نے کی گنجائش میں اضافہ کر نے کے ساتھ ساتھ پانی کے باکفایت استعمال پر سنجیدہ سے توجہ دینے کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ زراعت ہماری معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن گزشتہ آٹھ سال کے دور ان اسے نظر انداز کیا گیا کسانوں کیلئے ریلیف اور ترغیب کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے کے لئے مراعات کو یقینی بنانے کے لئے مختلف اقدامات اور سمتوں کا تعین کیا جارہا ہے تاکہ زرعچی شعبہ قومی معیشت میں اہم کر دار ادا کر سکے ان اقدمات کی تفصیل اس طرح ہے گندم کی امدادی قیمت پانچ سو دس روپے فی چالیس کلو گرام سے بڑھا کر چھ سو پچیس روپے کر نا، عالمی قیمتوں اور پیداواری لاگت کو مد نظر رکھتے ہوئے بوائی کے آئندہ سیزن سے پہلے یعنی اگست ستمبر میں گندم کی آئندہ فصل کے لئے امدادی قیمت پر نظر ثانی کر نا ملک بھر میں ڈیموں کی تعمیر،آبپاشی کے نظاموں کی بحالی، نکاسی آب کے نظام میں بہتری اور نہروں اور کھالوں کو پختہ کر نے کے ذریعے آبی وسائل کے باکفایت استعمال اور دستیابی میں بہتری لانے کیلئے پی ایس ڈی پی میں 75ارب روپے کی فراہمی،زرعی پیداوار کے اعلیٰ معیار کو قائم رکھنے اور اس کی برآمد میں سہولت پیدا کر نے کیلئے ملک بھر میں کولڈ چین قائم کی جائے گی قابل کاشت رقبے میں اضافہ اور بہتری کیلئے غیر ملکی تعاون سے بلڈوزروں کی در آمد کے انتظامات کر نا ڈی اے پی فصلوں کی پیداوار میں اضافے کیلئے نہایت اہم کھاد ہے بین الاقوامی سطح پر اس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ اس اہم کھاد کے استعمال حوصلہ شکنی کا باعث ہے اور زرعی پیداوار کو بری طرح متاثر کررہا ہے حکومت ڈی اے پی کھاد پر سبسڈی کو دوگنے سے زیادہ کرتے ہوئے 470روپے فی بیگ سے بڑھا کر ہزار روپے فی بیگ کررہی ہے دیگر کھادوں پر سبسڈی کی فراہمی بھی جاری رہے گی کھادوں پر سبسڈی کی مد میں مختص رقم پچیس ارب روپے سے بڑھا کر 32 ارب روپے کر دی گئی ہے کھادوں اورزرعی ادویات کی در آمد اور اندرون ملک فروخت پر سیلز ٹیکس سے چھوٹ تاکہ کسانوں کو یہ اشیاء سستے داموں فراہم ہوسکیں کھادوں اور زرعی ادویات پر ڈیوٹی کے مکمل خاتمے سے بجٹ پر چھ ارب روپے کا بوجھ پڑے گا صنعتی اور دیگر شعبوں کے مقابلے میں زرعی شعبہ میں قرضوں کی فراہمی محدود ہے اگلے مالی سال کے دور ان زرعی شعبے کو قرضوں کی مد میں پہلے ہی ایک سو تیس ارب روپے فراہم کئے گئے ہیں ہم زرعی ترقیاتی بینک کو بھی مزید فعال بنا رہے ہیں اور اس کے دائر ہ کار میں اضافہ کریں گے انہوں نے کہاکہ مذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ ساتھ زرعی شعبہ کو مالیاتی ا قدامات کے ذریعے مزید مراعات اور سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی یہ اقدامات درج ذیل ہیں ملک میں چاول کی صحت مند اور معیاری پیداوار کو یقینی بنانے کیلئے چاول کے بیج کی در آمد پر دس فیصد کسٹم ڈیوٹی ختم کی جارہی ہے غلے کو جہاز سے اتارنے اور ذخیرہ کر نے کیلئے استعمال ہونے والے ایسی مشینیں اور آلات جو مقامی طورپر تیار نہیں کئے جاتے، ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ کرنے کی مقامی سطح پر تیار ہونے کی شرط کو ختم کردیا گیا ہے ، فصلوں کی انشورنس کے پریمیئم پر عائد پانچ فیصد ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز ، ان اقدامات سے فصلوں کی پیداوار بڑھے گی اور عام آدمی کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا ، ”لائیو سٹاک اینڈ ڈیری“ مویشی اور دودھ دیہی آبادی کی آمدنی اور روزگار کا ایک بڑا ذریعہ ہے ، پاکستان دنیا بھر میں دودھ پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے ، اس استعداد سے پوری طرح اسفتادہ نہیں کیا گیا ، اس شعبہ کی حوصلہ افزائی کیلئے سفید انقلاب کیلئے وزیر اعظم کے خصوصی اقدام کے تحت اس شعبہ کیلئے پی ایس ڈی پی کے ذریعے 1.5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ، اس منصوبہ میں مویشیوں کی افزائش وپرورش ، گوشت کی پیداوار، مویشیوں کیلئے علاج معالجہ کی سہولت ، دودھ اکٹھا کرنے ، اسے محفوظ کرنے اوردیگر ڈیری مصنوعات کی پیداوار کو ترقی دینا ، جانوروں اورپودوں کی صحت کا معائنہ کرنے کیلئے سہولتوں کے مربوط قومی ادارے کا قیام اور پولٹری کے امراض کے لئے این اے آر سی کی مویشیوں کی صحت کی لیبارٹریوں کو اپ گریڈ کرنا شامل ہے ، ماہی پروری کے شعبہ میں ایکواکلچر اورجھینگے پالنا ، پاکستان کے مخصوص اقتصادی زونز کے سٹاک اسسمنٹ سروے پروگرام اور گوادر میں ماہی پروری کے تربیت کے منصوبہ جیسے اقدامات کئے جارہے ہیں ، جن کیلئے بجٹ میں 1.1 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ، کاشتکاروں کو معیاری بیج کی فراہمی کیلئے نیشنل کمرشل سیڈپروگرام تیار کیا جارہا ہے ، پاکستان میں بی ٹی کاٹن کی مختلف اقسام متعارف کروانے کیلئے مذاکرا ت کا تیزی سے آغاز کردیا گیا ہے ، اس سے کپاس کی پیداوار میں ہمارے کسانوں کی پیداوار کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد ملے گی ، زراعت کے شعبہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ پیداوار اورزیر کاشت رقبے میں اضافہ کیا جاسکے ، غیر ملکی سرمایہ کاروں کووسیع رقبے فراہم کئے جائیں گے ، تاکہ زراعت کے مقامی شعبے کو سرمایہ اور ٹیکنالوجی فراہم ہوسکے ۔

”صنعت اور مینوفیکچرنگ“ ہماری صنعت مقابلے کی صلاحیت کھو رہی ہے جس کی عکاسی ہماری ٹیکسٹائل مصنوعات میں کمی سے ہو رہی ہے ، طریقہ کار میں رکاوٹیں پاکستان میں تجارت کی لاگت میں اضافہ کررہی ہیں ، اسی طرح بجلی اور دیگر انفراسٹرکچر کی سہولتوں کی عدم فراہمی کی وجہ سے پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے ، جس سے ہماری مقابلے کی صلاحیت پر برا اثر پڑا ہے ، مقامی مینوفیکچرنگ کو مراعات دینے کیلئے متعدد مالیاتی اقدامات کئے جارہے ہیں ، جن کے تحت CKD/SKD سلائی مشین کی درآمد پر ڈیوٹی پانچ فیصد سے بیس فیصد کرنے کی تجویز ہے تاکہ مقامی صنعت کو جو سلائی مشین ے پرزہ جات تیارکرتی ہے ، تحفظ ملے اور یہ صنعت ترقی کرے ، صنعتوں کے خام مال اور پرزہ جات پر ڈیوٹی کی شرح ان کے استعمال کے مطابق زیرو فیصد ، پانچ فیصد اور دس فیصد کرنے کی تجویز ہے ، جس کا انحصار ان کی نوعیت اور ضروریات پر ہے ، گاڑیوں کی صنعت کے ٹیرف پر مبنی نظام کو مزید بہتر بنایا جارہاہے ، اس مقصد کیلئے پاکستان کسٹمز ٹیرف کی متعلقہ ٹیرف ہیڈنگ میں مناسب ردوبدل کرنے کی تجویز ہے ، (جہاں ضروری ہوا) کچھ ٹیرف لائنز کو ختم اور کچھ کو ایک دوسرے میں مدغم اور کچھ نئی ٹیرف لائنز بھی بنانے کی تجویز ہے ان تمام ٹیرف لائنز پر پندرہ فیصد اضافی ڈیوٹی کی شرح بھی لاگو رہے گی کیونکہ یہ تمام اشیاء مقامی طور پر تیار کی جارہی ہیں ۔

پی ٹی اے پالیسیز سٹیپل فائبر بنانے کا بہت اہم کیمیائی جز ہے تجویز یہ ہے کہ پی ٹی اے پر شرح کسٹمز ڈیوٹی پندرہ فیصد سے کم کر کے 7.5 فیصد کردی جائے اور پالیسٹر سٹیپل فائبر پر شرح ڈیوٹی 4.5 فیصد کردی جائے ، اس تجویز سے امید ہے کہ ہماری پارچہ جات کی صنعت کو بہت فائدہ ہوگا اور اس سے متعلقہ ملبوسات کی صنعت بھی فروغ پائے گی ، ادویات کی قیمتوں کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے اور مقامی صنعت کو مراعات دینے کیلئے تجویز ہے کہ ادویات سازی میں کام آنے والے کیمیائی اجزاء اور ان کی پیکنگ میں کام آنے والے اجزاء پر ڈیوٹی کی شرح دس فیصد سے کم کر کے پانچ فیصد کردی جائے ، اسی طرح اٹھارہ زندگی بچانے والی ادویات جو کینسر یا اسی طرح کے موذی امراض میں استعمال ہوتی ہیں ان پر ڈیوٹی بالکل ختم کرنے کی تجویز ہے ، کیلشیم کاربائڈ پر ڈیوٹی کی شرح پندرہ فیصد سے کم کر کے پانچ فیصد کرنے کی تجویز ہے ، کاسٹک سوڈا پر ڈیوٹی کی موجودہ شرح جو 5,000 روپے فی ٹن ہے کو چار ہزار روپے فی ٹن کرنے کی تجویز ہے ، پرنٹن سکرینز پر ڈیوٹی کی شرح پندرہ فیصد سے کم کر کے دس فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے جبکہ اس کے خام مال پر ڈیوٹی معاف کرنے کی تجویز ہے اس سے مقامی صنعت کی ترقی ہوگی ، بکرم پر درآمدی ڈیوٹی کی شرح فی الوقت پچیس فیصد ہے لہذا یہ تجویز ہے کہ ٹیکسٹائل مصنوعات کی قدروقیمت میں اضافے کیلئے کسٹمز ڈیوٹی کی شرح بکرم پر پچیس فیصد سے کم کر کے دس فیصد کردی جائے ، مال کے تیار کنندہ اور مال برآمد کرنے والوں کیلئے مال کے ایسے نمونے جس کو ویسے فروخت نہ کیا جاسکے ، اس کو درآمد کرنے کیلئے ایک طریقہ کار موجود ہے جس کے تحت ان نمونا جات کی مشروط درآمد کی اجازت ہے یہ تجویز ہے کہ ایسے سیمپل کی درآمد ہر قسم کے کارخانہ داروں کو دی جائے چاہے وہ براہ راست برآمد کنندگان ہوں یا بالواسطہ ، bitumen سڑکوں کی تعمیر میں استعمال ہوتاہے اس پر موجودہ شرح ڈیوٹی پانچ فیصد ختم کرنے کی تجویز ہے ، بیس آئل پر موجودہ ڈیوٹی کی شرح بیس فیصد سے کم کر کے دس فیصد کرنے کی تجویز ہے ، موجودہ ٹیرف کے مطابق کال سنٹرز میں استعمال ہونے والے آلات پر ڈیوٹی کی شرح پانچ فیصد ہے جبکہ ان پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ہے ، کال سنٹرز کے شعبے میں ترقی کی بہت گنجائش موجود ہے ، لہذا اس کو پرکشش بنانے کیلئے مزید مراعات کی ضرورت ہے ، کال سنٹرز کے دو اہم اجزاء میں وائس کارڈز اور ویسٹ ٹرمینلز پر دس فیصد ڈیوٹی لاگو ہوتی ہے بکہ ڈیجٹل کال ریکارڈ پر ڈیوٹی بیس فیصد ہے ، تجویز ہے کہ کال سنٹرز کے ان اجزاء پر ڈیوٹی کی شرح کم کر کے پانچ فیصد کردی جائے اور سیلز ٹیکس کی بھی چھوٹ دی جائے ، ہر طرح کی پولیسٹر فلم پر اس نوعیت کی دیگر اشیاء کی طرح بیس فیصد کی یکساں شرح کے حساب سے ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے ، سی این جی بسوں پر موجودہ شرح ڈیوٹی پندرہ فیصد ہے ، پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے اور ماحول کی بہتری کیلئے تجویز یہ ہے کہ fully CNG dedicated buses پر ڈیوٹی کی مکمل چھوٹ دی جائے ، بندرگاہ کے اخراجات میں کمی کیلئے تجویز ہے کہ dredger کی درآمد کو کسٹمز ڈیوٹی سے مستثنیٰ کیا جائے ، بجلی کے بحران کی وجہ سے عوام لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا ہیں ، ضروری ہے کہ بجلی کے موجودہ وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کیا جائے ، تاکہ بچت ہوسکے ، اس مقصد کیلئے انرجی سیور بلبز کی درآمد پر ڈیوٹی کی مکمل چھوٹ کی تجویز ہے اس طرح سولر انرجی کے نظام میں استعمال ہونے والے جنریٹرز اور ڈیپ سائیکل بیٹریز پر بھی ڈیوٹی کی مکمل چھوٹ کی تجویز ہے ، واپڈا کے زیر انتظام بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں فی الوقت بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ پانچ فیصد ڈیوٹی پر درآمد کرسکتی ہں ، ایک تجویز یہ ہے کہ ایسی کمپنیوں کو بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ ڈیوٹی کے بغیر منگوانے کی اجازت دی جائے ، ملک میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کیلئے انرجی سیور بلبز پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ کی تجویز ہے جس سے نہ صرف ان کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے بلکہ ان کا استعمال بڑھے گا اور ان کی فراہمی بھی یقین ہوگی ، اندازہ ہے کہ اس اقدام سے تقریبا ایک ہزار میگا واٹ بجلی کی بچت ہوگی ، مقامی صنعت میں سرمایہ کاری کیلئے گورنمنٹ کچھ مراعات دیتی ہے ان مراعات میں کچھ اشیاء خام مال ، پرزہ جات اور components پر ڈیوٹی نہیں لی جاتی بشرطیکہ یہ مقایم طور پر نہ بنتے ہوں ، تاہم مقامی طور پر نہ بننے کی شرط جو SRO-565(I)2006 میں عائد کی گئی تھی میں عائد کی گئی تھی اس کی وجہ سے سرمایہ کاری میں کچھ دشواریاں سامنے آئی ہیں لہذا یہ تجویز یہ کہ (سرمایہ کاری کو مزید پرکشش بنانے کیلئے ) SRO-565(I)2006 میں مقامی تیاری کی شرط کو ختم کردیا جائے ، تجویز ہے کہ ایسے مکمل پلانٹ جن کو (C&F) قیمت پچاس ملین ڈالر یا اس سے زیادہ ہو اور ان کو کوئی نیا صنعتی پراجیکٹ قائم کرنے کیلئے منگوایا جارہا ہو تو ان پر مقامی تیاری کی شرط لاگو نہ کی جائے اس تجویز سے افسروں کی صوابدید کم ہوگی اور سرمایہ کاری کیلئے اچھا ماحول میسر ہوگا ، ماضی میں صنعتی ترقی کیلئے ٹیکس ہالیڈے ، ٹیکس فری ، زونز اور انڈسٹریل اسٹیٹس جیسی مراعات نے دیہی اور پسماندہ علاقوں کو نظر انداز کیا ، اس لئے یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ مخصوص دیہی اور پس ماندہ علاقوں میں قائم ہونے والی صنعتوں پر پہلے سال میں دس فیصد فرسودگی الاؤنس کے علاوہ نوے فیصد اضافی الاؤنس دیا جائے ، اس اقدام سے ایسے علاقوں میں معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور جہالت اور غربت کو ختم کیا جاسکے گا اس کے ساتھ ہی بیرونی سرمایہ کاری کو مدنظر رکھتے ہوئے تجویز ہے کہ سٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ کمپنیوں کے حصص کی فروخت پر کیپٹل گین کی موجودہ چھوٹ کو مزید دو سال کیلئے جاری رکھا جائے ۔

یہ تجویز ہے کہ کاسٹک سوڈا فلیکس ، کاٹن لنٹر اور سیکونز پر بھی سیلز ٹیکس کو زیرو ریٹ کردیا جائے ، اس قدم سے اس شعبے میں financial liquidity بڑھے گی اور اس شعبے کے صنعتکاروں کو سیلز ٹیکس ریفنڈ کے بے جا جھنجھٹ سے نجات ملے گی ، یہ تجویز ہے کہ نان ریزیڈنٹس کاروباری افراد کے پاکستان کے مختلف تجارتی میلوں کے دوروں کے موقع پر سیلز ٹیکس میں چھوٹ کیلئے سیلز ٹیکس کے قانون میں موزوں ترمیم کی جائے ، موجودہ حکومت کی یہ شدید خواہش ہے کہ عام آدمی کو صحت کی سہولیات سستے داموں مہیا ہوں ، اس مقصد کے حصول کیلئے درآمد کردہ طبی آلات ، اوزار ، پرزہ جات ، ڈسپوزیبلز ، سرکاری ہسپتالوں اور خیراتی اداروں کے لئے عطیات پہلے ہی سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں ، لیکن ان اشیاء کی مقامی پیداوار پر سیلز ٹیکس عائد ہے جو کہ طبی سہولتوں کے اخراجات میں اضافے کا باعث بنتی ہے چنانچہ یہ تجویز ہے کہ مقامی تیار شدہ طبی آلات ، اوزار ، پرزہ جات ، reagents اورڈسپوزیبلز کی سرکاری ہسپتالوں اور پچاس بستروں تک کے خیراتی ہسپتال کو مقامی فراہمی سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ کردی جائے ، حکومت آزاد جموں وکشمیرفنڈز کی کمی کی وجہ سے اپنے ٹیکس گزاروں کو اس سیلز ٹیکس کے ریفنڈ کی اجازت نہیں دیتی جو کہ پاکستان میں ادا کیا گیا ہو ، آزاد جموں وکشمیر کے کاروباری طبقے کا یہ دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ انہیں پاکستان میں ادا شدہ سیلز ٹیکس کا ریفنڈ ادا کیا جائے ، اس دیرینہ مسئلہ کے حل کیلئے یہ تجویز ہے کہ آزاد جموں وکشمیر کے ٹیکس گزاروں کو پاکستان سے اشیاء کی فراہمی پر سیلز ٹیکس کا ریفنڈ ادا کیا جائے ، چنانچہ سیلز ٹیکس قانون میں ایک نئی دفعہ کا اضافہ کیا جارہاہے جس سے ایف بی آر کو ایسے ریفنڈ ادا کرنے کا اختیار حاصل ہو جائے گا ۔

مواصلاتی رابطوں ، سڑکوں ، ریلوے ، بندرگاہوں اور ٹرمینلز میں توسیع کی بھی اشد ضرورت ہے ، گوادر بندرگاہ بالائی ملک کو سامان کی ترسیل کیلئے ضروری سڑکیں نہ ہونے کے باعث ابھی تک کام شروع نہیں کرسکی ، ہمیں اس طرح کے حالات سے نمٹنا ہوگا کیونکہ ایسے منصوبوں پر بھاری ترقیاتی فنڈ خرچ کئے گئے ہیں ، مگر معیشت کو اتنے بڑے منصوبے سے ابھی تک کوئی ثمر حاصل نہیں ہوا ، مندرجہ بالا پہلو خاص طور پر انفراسٹرکچر کی کمی ہماری نمو کو محدود کررہے ہیں ، ہم نے ترقیاتی بجٹ کیلئے منظور شدہ منصوبوں کی موجودہ پائپ لائن کا تفصیلی جائزہ لیا ہے ، ہم نے تقریبا تین سو ارب روپے کی مالیت کے منصوبے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، کیونکہ ان منصوبوں سے معشت کو برائے نام فائدہ پہنچا ہے ، اس جائزے کی تفصیلات الگ فراہم کی جائیں گی ، تاہم میں یہ کہنا چاہوں گا کہ جو ترقیاتی منصوبہ ہم قوم کو پیش کررہے ہیں وہ ہماری ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے جو اقتصادی حقائق کے ساتھ ساتھ عوام کی امنگوں پر مبنی ہے ، بین الاقوامی مسابقتی ماحول اور تیزی سے بدلتے حلاتا میں مینو فیکچرنگ کے شعبہ کی دیر پا ترقی کو یقینی بنانے کیلئے پاکستان کو اہم سٹرٹیجک فیصلے کرنے ہیں اس کیلئے سطحی تبدیلیوں کی بجائے بڑے پیمانے پربنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے اس مقصد کیلئے ہمیں محض پیداوار کی بجائے ٹیکنالوج یاور علم پر مبنی صنعت سازی کے عمل کے تصور کو اپنانا ہوگا اور اپنی توجہ معیار اور مقدار پر مرکوز کرتے ہوئے نجی شعبے میں مقابلے کی صلاحیت رکھنے والی مربوط صنعت تشکیل دینا ہوگی ، درآمدی متبادل کی خامیوں کو برآمدات پر مبنی حکمت عملی سے بدلنا ہوگا، حکومت سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان اس طرح مطابقت پیدا کررہی ہے کہ دونوں شعبے ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکیں ، نجی اور سرکاری شعبے کی شراکت کو فروغ دینے کیلئے آپریشنل فریم ورک اور پالیسی بتدریج تشکیل دی جارہی ہے ، وزارت صنعت وپیداوار نے پاکستان کو تیز رفتاری سے صنعتی ملک بنانے کیلئے جامع حکمت عملی کی تشکیل اور اس پر عملدرآمد میں قائدانہ کردار اداکرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد ملک کی بین الاقوامی سطح پر مقابلے کی صلاحیت اور روزگار کے مواقع میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنا ہے ، حکومت سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرنے کیلئے متعدد اقدامات کررہی ہے اس سلسلہ میں سب سے موثر اقدام صنعتی سٹیٹس کا قیام اور انفراسٹرکچر کے حوالہ سے متعلقہ سہولتیں فراہم کرنا ہے ، بلوچستان میں ایکسپورٹ پراسیسنگ زونز کے قیام کیلئے ایک ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے تاکہ گوادر بندرگاہ کے آس پاس پیداواری اور ترقیاتی سرگرمیوں میں مدد دی جاسکے ، حطار میں چائنا پاک اکنامک زون خوشحال گڑھ صوبہ سرحد میں تعمیر نو مواقع زونز کیلئے صنعتی اسٹیٹ اور صوبہ سرحد میں صنعتوں کی بحالی اور ان کو جدید بنانے کے اقدامات بھی شامل ہیں ، جہاں صنعتی ترقی کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ نجی وسرکاری شعبہ کی شراکت کے ذریعے صوبہ سرحد میں ٹیکسٹائل سٹی ، گارمنٹس سٹی اور ماربل اینڈ گرینائٹ سٹی جیسے خصوصی زونز کے قیام پر بھی غور جاری ہے ، جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ بجلی ، گیس ، ریلوے اور شاہراؤں جیسے اہم شعبوں میں سامنے آنے والی نمایاں قلت کا اثر شرح نمو میں کمی کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے ، اس سے پہلے کہ ہمیں مزید نقصان ہو ان بنیادی وسائل میں اضافے کے اقدامات ضروری ہیں چنانچہ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے وافر فنڈز مختص کئے گئے ہیں ۔

”بجلی کا شعبہ “ :۔ حکومت بجلی کی طلب ورسد میں فرق دور کرنے کو اولین ترجیح دے رہی ہے کیونکہ یہ فرق معیشت کو بری طرح متاثر کررہا ہے ، اس کی زیادہ ذمہ داری پرائیوٹ سیکٹر پر عائد ہوتی ہے کیونکہ 1994ء کی انرجی پالیسی کے تحت سرکاری شعبہ کی ذمہ داری کو امدادی ڈھانچے ، پالیسی سازی اور ریگولیشن تک محدود کردیا گیا تھا تاہم صورتحال کی نزاکت کے پیش نظر سرکاری شعبہ میں محدود اور عارضی مدت کیلئے سرمایہ کاری کی اجازت دی گئی ، جس کی بنیاد اس تصور پر تھی کہ اس سرمایہ کو جس قدر جلد ممکن ہو ، واپس نکال لیا جائیگا ، بجلی کے شعبہ کے متعدد منصوبوں کیلئے 66 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ، ان میں بجلی کی پیداوار ، ترسیل ، فراہمی اور متبادل توانائی کے کئی ذیلی شعبے شامل ہیں ، اندازہ ہے کہ آئندہ سال کے آغاز تک بجلی کی پیداوار میں 2200 میگا واٹ کا اضافہ ہو جائے گا اور ہمیں موجودہ صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ، ”سڑکیں اورشاہراہیں“ مواصلاتی رابطے اقتصادی ترقی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں ، ملک میں سڑکوں کے نیٹ ورک میں تیز رفتار توسیع کیلئے بجٹ میں 37 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ان میں قابل ذکر مکران کوسٹل ہائی وے ، اسلام آباد ، پشاورموٹروے ، ایم ون کراچی ناردرن بائی پاس ، انڈس ہائی وے ، نوشکی دالبندین روڈ ، مانسہرہ ناران - جھل کھڈ - چلاس روڈ ، لواری ٹنل ایکسس روڈز ، قراقرم ہائی وے کی توسیع ، بہتری اور بحالی ، حسن ابدال ، مانسہرہ ایبٹ آباد ایکسپریس وے اور فیصل آباد ، خانیوال ایکسپریس وے سمیت ساٹھ منصوبے شامل ہیں ۔

”مخصوص علاقوں کی ترقی کا پروگرام“ آزاد کشمیر شمالی علاقہ جات اور فاٹا جیسے مخصوص علاقوں کے ترقیاتی پروگراموں کیلئے مختص رقم 21.2 ارب روپے سے بڑھا کر 26.2 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے جو چوبیس فیصد اضافہ کے برار ہے یہ پروگرام ملک کے کم ترقی یافتہ علاقوں کی مساوی بنیاد پر ترقی کو یقینی بنائے گا ۔ ”انسانی ترقی اور غربت میں کمی“ جمہوری حکومت کی معاشی پالیسی کا بنیادی جز انسانی ترقی اور غربت میں کمی ہوگا اس حوالے سے ہم ایک کثیر الجہتی حکمت عملی تیار کررہے ہیں، اول غربت میں کمی کیلئے مختص فنڈز میں اضافہ کیا جائے گا ، دوم کم آمدنی والے طبقوں کی آْمدنی بڑھانے کیلئے خصوصی پروگرام شروع کئے جائیں گے ، سوم علاقائی سطح پر کم لاگت کے مکانات کا ایک وسیع پروگرام شروع کیا جائے گا ، جس کا مقصد کم آمدنی والے طبقے کیلئے مکانات کی دستیابی میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہے ، ترقیاتی پروگرام کے اہم خدوخال اور سماجی تفاوت ختم کرنے کیلئے ہم اس بجٹ میں مندرجہ دیگر اقدامات کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں ۔

”تعلیم“ ہم نے تعلیم کیلئے ترقیاتی منصوبہ میں 24.6 ارب روپے مختص کرنا تجویزکیا ہے ، واضح رہے کہ وزارتوں کیلئے وفاقی پی ایس ڈی پی کا دس فیصد تعلیم کے شعبے کیلئے مختص ہے جو ایک معقول رقم ہے یہ بھی واضح رہے کہ تعلیم اور صحت پر زیادہ اخراجات صوبائی حکومتوں نے کرنا ہیں اور وفاقی حکومت بنیادی طور پر ان شعبوں میں معاون کردار ادا کرتی ہے ۔

” صحت “ ترقیاتی منصوبے میں شعبہ صحت کے پروگراموں کیلئے انیس ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ، بیماریوں سے بچاؤ کے پروگراموں پر عملدرآمد کے لئے بنیادی ذریعہ لیڈی ہیلتھ ورکرز LHWs ہیں یہ وہ پروگرام ہے جو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے 1994ء میں شروع کیا تھا اس وقت ایک لاکھ LHWs فیلڈ میں کام کررہی ہیں ، مگر تمام آبادی کی کوریج اب بھی نامکمل ہے ، اس پروگرام کو مزید وسعت دینے کیلئے حکومت دوران سال مزید ایک لاکھ LHWs بھرتی کرے گی ، یہاں میں اس بات کا خاص طور پر ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ ہم ایک سال میں LHWs کی تعداد بڑھا کر دو گنا کردینگے ، یہ اضافہ گزشتہ چودہ سال کے دوران بھرتی کی گئی ، LHWs کی کل تعداد کے برابر ہوگا ، بیماریوں سے بچاؤ کے متعدد پروگراموں ای پی آئی ، ایچ آئی وی ایڈز کنٹرول پروگرام ، نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام ، نابینا پن کے کنٹرول کا قومی پروگرام ، ہیپاٹائٹس پر کنٹرول ، زچہ وبچہ اور بچوں کی صحت کے پروگرام کو بہتر بنایا جائے ، علاج معالجہ کے ضروری بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

بستروں کا ہسپتال، بیماریوں کی تشخیص کا قومی منصوبہ اور بنیادی مراکز صحت کی اپ گریڈیشن جیسے منصوبے شامل ہیں ۔” پینے کا صاف پانی“ ملک کی غریب آبادی کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے حکومت پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا منصوبہ شروع کررہی ہے ، اس پروگرام کیلئے 2.2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ، جس کے تحت ملک بھر میں گاؤں کی سطح پر فلٹریشن پلانٹس لگائے جائیں گے ، یہ ایک طرف وفاقی اور صوبائی حکومت اور دوسری طرف صوبائی اور مقامی حکومتوں کے درمیان شراکتی پروگرام ہے ، پینے کے صاف پانی کے منصوبے سے عوام کی صحت پر بہتر اثر پڑے گا ، کیونکہ ہماری آبادی کی اکثریت پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہے ، پینے کے صاف پانی تک رسائی سے اس طرح کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں بڑی مدد ملے گی ۔

”بینظیر انکم سپورٹ پروگرام“ جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ اس بجٹ کا بنیادی مقصد کمزور طبقات کو قیمتوں میں اضافے سے پیدا ہونے والی مشکلات سے تحفظ فراہم کرنا ہے ، اس مقصد کیلئے حکومت ایک نیا پروگرام شروع کررہی ہے ، جس کا نام بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے اس پروگرام کے تحت ہم انتہائی غریب افراد کیلئے ابتدائی طور پر 34 ارب روپے فراہم کررہے ہیں ، جنہیں بڑھا کر پچاس ارب روپے کیا جائے گا، اس پروگرام کے اہم خدود خال درج ذیل ہیں ۔

ہر مستحق گھرانے کو ایک ہزار روپے ماہانہ امداد دی جائے گی ، ایسے گھرانوں کا چناؤ مقررہ طریقہ کار کے تحت نادرا کے کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا بیس کے ذریعے کیا جائے گا ، کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کے ساتھ ساتھ انگوٹھے کا نشان بھی حاصل کیا جائے گا، یہ رقم گھرانے کے سربراہ کو قریبی بنک یا ڈاکخانے کے ذریعے فراہم کی جائے گی ، جن لوگوں کے پاس شناختی کارڈ نہیں انہیں بلا معاوضہ کارڈ حاصل کرنے کی ترغیب دی جائے گی ، مستحق گھرانوں کو اس پروگرام میں شامل کرنے کیلئے اعدادوشمار کو مسلسل اپ گریڈ کیا جائے گا ، بینظیر کارڈ کے حامل شہریوں کو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ روزگار ان کے خاندان کے نوجوان لوگوں کیلئے ہنر مندی کی تربیت ، میڈیکل انشورنس اور فوڈ سبسڈی جیسی سہولتیں میہا کی جائیں گی ، غریبوں کی فلاح وبہبود کے مذکورہ اقدامات کے ساتھ ساتھ انہیں بیت المال جیسے جاری پروگرام کے ذریعے مدد فراہم کی جائے گی ، اس کے علاوہ انہیں یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے غذائی اشیاء کی رعایتی نرخوں پر فراہمی بھی جاری رہے گی ، یوٹیلٹی سٹورز کی تعداد بڑھا کر چھ ہزار کی جائے گی ۔

” پیپلز ورکس پروگرام“ کم آمدنی والے طبقوں کیلئے زندگی کی بنیادی ضروریات ، غربت کم کرنے اور معیار زندگی بہتر بنانے میں اہم کردار اداکرینگی ، اس طرح ہم ماضی کے چھوٹی ترقیاتی سکیموں کے پیپلز ورکس پروگرام کو بحال کررہے ہیں ۔ جو بجلی ، گیس ، کھیت سے منڈی تک سڑکوں اور پانی کی فراہمی جیسے بنیادی شعبوں کا احاطہ کرے گا ، میں اس ترقیاتی منصوبے کیلئے 28.4 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دیتا ہوں ، اس پروگرام کے تحت شروع کی جانے والی سکیموں کی نشاندہی منتخب عوامی نمائندے کریں گے ، اس پروگرام سے روزگار کے خاطر خواہ مواقع پیدا ہونگے اور اس طرح لوگوں کی آْمدنیوں میں اضافہ ہوگا ، ”انسانی وسائل کی ترقی کا کمیشن “ حکومت ایک کمیشن قائم کررہی ہے جو ملک میں بیروزگاری کی صورتحال کا جائزہ لے گی باقاعدگی کے ساتھ بے روزگاری کی شرح مانیٹر کرے گا اور اس کے کنٹرول کے لئے اقدامات تجویز کرے گا کمیشن وہ تمام پروگرام کوارڈینیٹ کرے گا جن کا مقصد روزگار فراہم کرنا بے روزگاروں کو ہنر سکھانا اور فنی تربیت وپیشہ وارانہ تعلیم کے لئے مواقع بڑھانا اور غذائی پروگراموں کے لئے کام کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کمیشن کی سرگرمیوں کے لئے وافر وسائل فراہم کئے جائیں گے۔

”نیشنل انٹرن شپ پروگرام“ یہ پروگرام گزشتہ سال ان نوجوانوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے شروع کیا گیا تھا جو سولہ سالہ تعلیم مکمل کرچکے ہیں توقع ہے کہ 2008-09ء کے دوران کم سے کم تیس ہزار پوسٹ گریجویٹ طلباء اس پروگرام سے مستفید ہوں گے انٹرن شپ پروگرام کے لئے بجٹ میں 1.6 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ”پیپلز روزگار پروگرام“ خودروزگاری کے مواقع پیدا کرنا روزگار پیدا کرنے کے کسی بھی پروگرام کا حصہ ہوگا اس مقصد کے لئے ہمیں انتظامات کرنے ہوں گے تاکہ بے روزگار افراد کو قرضوں تک رسائی حاصل ہوسکے جس سے وہ ایک مفید کاروبار شروع کرنے کے قابل ہوسکیں بے روزگار افراد کو چھوٹے پیمانے پر کاروبار شروع کرنے کے لئے قرضے دیئے جائیں گے نیشنل بنک کے زیراہتمام جاری خودروزگار سکیم کو تقویت دی جائے گی اور نئے کاروبار کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں گی ”ترقی نسواں“ کوئی قوم اپنی آبادی کے نصف حصے کو نظرانداز کرکے ترقی نہیں کرسکتی ہم ملک کی اقتصادی نمو میں خواتین کے حصے کے طور پر ان کے سماجی اور اقتصادی کردار پر یقین رکھتے ہیں حکومت نے تمام سرکاری محکموں میں مجموعی طور پر خواتین کا دس فیصد کوٹہ مقرر کرنے کی منظوری دی ہے اس سے فیصلہ سازی کے عمل میں ان کا کردار بڑھے گا محترمہ بے نظیر بھٹو نے فرسٹ وویمن بنک قائم کیا تھا ہم اس کی مدد جاری رکھیں گے اس کے علاوہ ہم خواتین کے کاروباری شعبہ میں آنے کے لئے خوشحالی بنک اور زرعی ترقیاتی بنک کی ان کو قرضے فراہم کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کریں گے معاشرے سے صنفی عدم توازن کے خاتمے کے عزم کے تحت حکومت اپنے Ppverty Reduction Strategy اور Development Framework Medium Term کے ذریعے وفاقی سطح پر Budgetry Process میں صنفی پہلو کو شامل کرنے کے عمل کا آغاز کیا ہے۔

”مائیکرو فنانس“ چھوٹے قرضے غریب لوگوں کی زندگی میں نہایت اہم کردارادا کرتے ہیں چھوٹے قرضے لینے والے شہریوں کی تعداد اڑھائی سے تین کروڑ کے درمیان ہے یہ بات قابل ذکر ہے کہ خواتین چھوٹے قرضے حاصل کرنے والوں کا 45 فیصد ہیں حکومت 2010ء تک مزید تیس لاکھ افراد کو چھوٹے قرضوں تک رسائی فراہم کرنے کی کوشش کرے گی اور چھوٹے قرضوں کا دائرہ کار دیہی علاقوں تک بڑھایا جائے گا ”کم لاگت کے گھروں کی فراہمی“ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے عوا
11/06/2008 - 22:25:41 :وقت اشاعت