بند کریں
صحت صحت کی خبریںچکوال میں ڈاکٹر کی مبینہ غفلت سے بچے کی ہلاکت‘ عدالت عظمیٰ کی سیکرٹری صحت کو ڈاکٹرز کی پرائیویٹ ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 29/09/2006 - 14:26:32 وقت اشاعت: 29/09/2006 - 14:10:51 وقت اشاعت: 29/09/2006 - 14:04:01 وقت اشاعت: 29/09/2006 - 12:34:27 وقت اشاعت: 28/09/2006 - 19:12:48 وقت اشاعت: 28/09/2006 - 19:01:41 وقت اشاعت: 28/09/2006 - 16:36:28 وقت اشاعت: 28/09/2006 - 16:21:38 وقت اشاعت: 28/09/2006 - 15:51:36 وقت اشاعت: 26/09/2006 - 20:54:54 وقت اشاعت: 26/09/2006 - 12:55:58

چکوال میں ڈاکٹر کی مبینہ غفلت سے بچے کی ہلاکت‘ عدالت عظمیٰ کی سیکرٹری صحت کو ڈاکٹرز کی پرائیویٹ پریکٹس کے حوالے سے وضع کردہ پالیسی کی تفصیلی رپورٹ 9 اکتوبر تک پیش کرنے کی ہدایت

اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین28ستمبر2006 ) عدالت عظمیٰ نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال میں ڈاکٹر عامر کی پیشہ وارانہ غفلت سے فوت ہونے والے بچے کے والد کی درخواست پر ڈاکٹر بابر اعوان ایڈووکیٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی مرتب کردہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں عدالت کو بتائے کہ ملزم کے خلاف کون کون سے مقدمات درج کئے جاسکتے ہیں 9اکتوبر تک سیکرٹری صحت ڈاکٹرز کی پرائیویٹ پریکٹس کے حوالے سے وضع کردہ پالیسی کی تفصیلی رپورٹ عدالت عظمیٰ کو پیش کرے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری‘ جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس سید سعید اشعد پر مشتمل تین رکنی بینچ نے گزشتہ روز چکوال کے رہائشی محمد اظہر عباس کی درخواست کی سماعت کی چیف جسٹس نے ڈاکٹر بابر اعوان کو ہدایت کی کہ وہ ڈاکٹر کی غفلت کے حوالے سے درخواست کی سماعت میں عدالت کی معاونت کرے پولیس اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خادم حسین قیصر ان کے ساتھ تعاون کریں گے چیف جسٹس نے کہا کہ اظہر عباس نامی چکوال کے رہائشی کا بیٹا حمزہ بیمار ہوا وہ اسے ڈی ایچ کیو چکوال لے گیا ہسپتال میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر عامر اسے اپنے گھر میں قائم کردہ پرائیویٹ کلینک میں لے جانے کے لئے کہا مذکورہ شخص اپنے بیٹے کو اس کے پرائیویٹ کلینک لے گیا جہاں بغیر کسی ٹیسٹوں اور تشخیص کے مذکورہ ڈاکٹر نے بچے کو مختلف انجیکشن لگائے اور چلا گیا انجیکشن لگانے کے ساتھ ہی بچے کی حالت خراب ہونا شروع ہوگئی دوبارہ ڈاکٹر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے آنے سے معذوری ظاہر کردی بعد ازاں بچہ فوت ہوگیا اس حوالے سے میڈیا میں خبریں چھپیں بعد ازاں بچے کے والد نے سپریم کورٹ میں تحریری درخواست دی جس پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چکوال کو اس معاملے کی انکوائری کرنے کا حکم دیا گیا جس نے اپنی انکوائری میں مذکورہ ڈاکٹر محمد عامر کی پیشہ وارانہ غفلت اور غلط رویے کو بچے کی موت کا ذمہ دار قرار دیا چیف جسٹس نے کہا کہ مذکورہ ڈاکٹر عامر کے خلاف یہ ایک شکایت نہیں ہے کئی او ردرجنوں شکایات موجود ہیں کیس درج ہونے چاہئیں چیف جسٹس نے ڈاکٹر بابر اعوان کو چار مرحلوں کے حوالے سے جائزہ لینے کی ہدایت کی ایک تو قتل کا کیس بنتا ہے سول مقدمہ بھی بن سکتا ہے محکمہ صحت کی پالیسی کی خلاف ورزی بھی ہوسکتی ہے کریمنل مقدمہ بھی درج ہوسکتا ہے ان کا جائزہ لے کر نو اکتوبر کو اس حوالے سے رپورٹ پیش کریں ملزم کی طرف سے قاضي محمد امین ایڈووکیٹ‘ بچے کا والد محمد اظہر عباس ڈی پی او چکوال پیش ہوئے۔

28/09/2006 - 19:01:41 :وقت اشاعت