پاکستان میں20 لاکھ افراد آنکھوں کی مختلف بیماریوں کا شکار ہیں جن میں سے 80 فیصد مریضوں کا علاج ممکن ہے مگر اسکے لئے مطلوبہ سہولیات موجود نہیں

الشفاء ٹرسٹ کے صدر جنرل (ر) حامد جاوید کی میڈیا کو بریفنگ

راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔19 اگست ۔2016ء )الشفاء ٹرسٹ کے صدر جنرل (ر) حامد جاوید نے کہا ہے کہ پاکستان میں بیس لاکھ افراد آنکھوں کی مختلف بیماریوں کا شکار ہیں جن میں سے اسی فیصد مریضوں کا علاج ممکن ہے مگر اسکے لئے مطلوبہ سہولت موجود نہیں۔صدر مملکت حال ہی میں اس خطے کے سب سے بڑے اور جدید ترین چلڈرن آئی ہاسپٹل کا افتتاح کر چکے ہیں اور یہ منصوبہ دو سال کے اندر مکمل ہو جائے گا۔

جنرل (ر) حامد جاوید نے یہ بات سینئیر صحافیوں اور کالم نگاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ انھوں نے کہا کہ بچوں کے ہسپتال کیلئے ڈاکٹروں اور سپورٹ سٹاف کی تربیت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تاکہ عوام کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ انھوں نے کہا کہ الشفاء نے امریکہ اور کینیڈا سے بھی آنکھوں کے عطیات وصول کرنا شروع کر دئیے ہیں اور ماہانہ ساٹھ مریضوں کو آپریشن کے زریعے بینائی لوٹائی جا رہی ہے جس میں سے بیس افراد کو مفت اور بیس کو رعائیتی قیمت پر یہ سہولت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ بیس ایسے مریضوں کا آئی ٹرانسپلانٹ آپریشن کیا جاتا ہے جو اسکی استطاعت رکھتے ہیں۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں چھوٹے مگر جدید ترین آئی تریٹمنٹ یونٹ لگانے کا منصوبہ بھی شروع کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو انکی دہلیز پر علاج معالجہ کی سہولت دی جا سکے۔ اس موقع پر ٹرسٹ کے ایگریکٹو ڈائریکٹر برگیڈئیر رضوان اصغر نے کہا کہ نومولود بچوں میں آنکھوں کی بیماریوں کی بڑی وجہ کزن میرج ہے۔ بچپن میں آنکھوں کی بیماری کا علاج آسان ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ مشکل ہوتا جاتا ہے۔

Your Thoughts and Comments