بند کریں
صحت صحت کی خبریںکانگو بخار سے بچنے کیلئے احتیاط ہی سب سے بہترین علاج ہے ‘ پرنسپل جنرل ہسپتال

صحت خبریں

وقت اشاعت: 29/08/2016 - 14:40:36 وقت اشاعت: 29/08/2016 - 13:53:08 وقت اشاعت: 29/08/2016 - 13:50:26 وقت اشاعت: 29/08/2016 - 11:38:13 وقت اشاعت: 28/08/2016 - 14:49:13 وقت اشاعت: 27/08/2016 - 16:16:16 وقت اشاعت: 27/08/2016 - 13:39:26 وقت اشاعت: 27/08/2016 - 13:16:02 وقت اشاعت: 26/08/2016 - 17:00:41 وقت اشاعت: 26/08/2016 - 16:59:27 وقت اشاعت: 26/08/2016 - 16:16:35

کانگو بخار سے بچنے کیلئے احتیاط ہی سب سے بہترین علاج ہے ‘ پرنسپل جنرل ہسپتال

لاہور( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔27 اگست ۔2016ء) پرنسپل پی جی ایم آئی و جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر غیاث النبی طیب نے کہا ہے کہ کانگو بخار موذی مرض ہے جس سے بچنے کے لئے احتیاط ہی سب سے بہترین علاج ہے، دنیا بھر میں اس مرض کے علاج معالجہ کے لئے تاحال کوئی ویکسیئن ایجاد نہیں ہوئی ، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ عید الالضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانور خریدتے وقت اس بات کا اطمینان کرلیں کہ جانور کے جسم پر چیچڑ تو موجود نہیں اور جانور پوری طرح صحت مند ہے، گلی محلوں اور دیگر مقامات سے جانوروں کی خریداری سے اجتناب کریں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے آڈیٹوریم میں کانگو بخار کے متعلق عوام میں شعور اجاگر کرنے اور بچاؤ کی تدابیرکے حوالے سے منعقدہ کلینیکل سمپوزیم کے شرکاء سے خطاب میں کیا۔ڈاکٹر عفت جاوید ، ڈاکٹر جاوید اصغر مگسی ، ڈاکٹر مہین قاسم اور ڈاکٹر سید رضی حیدر زیدی نے سمپوزیم میں کانگو وائرس کی وجوہات اور اس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں ، محفوظ رہنے کیلئے احتیاطی تدابیر اور طریقہ علاج کے بارے تفصیلا ً آگاہی دی۔

جبکہ تقریب میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں ، طبی ماہرین ، میڈیکل کے طلباء ، نرسنگ طالبات اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پروفیسر غیاث النبی طیب نے بتایا کہ کانگو فیور ایک وبائی مرض ہے۔ وائرس کا سائنسی نام ’کریمین ہیمریجک کانگو فیور‘ ہے جس کی 4 اقسام ہوتی ہیں۔ اگر کسی کو کانگو وائرس لگ جائے تو اس سے انفیکشن کے بعد جسم سے خون نکلنا شروع ہوجاتا ہے۔

خون بہنے کے سبب ہی مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے۔کانگو وائرس جانوروں کی کھال سے خون چوسنے والے’ٹکس‘ کے ذریعے پھیلاتا ہے۔ کانگو وائرس کے ٹکس (جانوروں میں پایا جانے والا چیچڑکا کیڑا)مختلف جانوروں مثلاًبھیڑ، بکریوں، بکرے، گائے، بھینسوں اور اونٹ کی جلد پر پائے جاتے ہیں۔ ٹکس جانور کی کھال سے چپک کر اس کا خون چوستا رہتا ہے۔ لیکن، جیسے ہی کوئی انسان مثلاً چرواہے ، قصاب یا عام لوگ اس جانور سے کنٹکٹ میں آتے ہیں یہ ٹکس انسانوں میں منتقل ہوجاتا ہے اور یوں کانگو وائرس جانور سے انسانوں اور ایک انسان سے دوسرے جانور میں منتقل ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگو وائرس کا مریض تیز بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اسے سردرد، متلی، قے، بھوک میں کمی، نقاہت، کمزوری اور غنودگی، منہ میں چھالے، اورآنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہے۔ تیز بخار سے جسم میں وائٹ سیلس کی تعداد انتہائی کم ہوجاتی ہے جس سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ مریض کے جسم سے خون نکلنے لگتا ہے اورکچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑے تک متاثر ہوجاتے ہیں، جبکہ جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا بروقت علاج سے 10دن کے بعد مریض صحت یاب ہو نے لگتا ہے اگر مرض شدت اختیار کر جائے تو انسان موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔طبی ماہرین نے کہا کہ مریضوں کا علاج کرنے والوں اور مریض کے تیمار داروں کو مکمل احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ ان تمام لوگوں کو ہلکے رنگ کے لباس اور گاوٴن پہننے چاہیں ۔ ہاتھوں پر دستانے اور منہ پر ماسک پہننا چاہیئے ۔

انہوں نے کہا چیچڑوں کو تلف کرنے کی ہر ممکن کو شش کی جائے اور مویشیوں کی رہائشی جگہوں پر کیڑے مار ادویات کا سپرے مناسب وقفے کے ساتھ کرتے رہیں نیز بچوں کو جانوروں سے کھیلنے اور گھمانے کے لئے لے جانے میں بہت احتیاط کریں۔ طبی ماہرین نے کہا کہ چند روز بعد عید الاضحی کی آمد آمد ہے۔ لہذا ان حالات میں اشد ضروری ہے کہ ہم اپنے ارد گرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے ساتھ ساتھ جانوروں کی خریداری، ان کی قربانی تک دیکھ بھال میں بہت زیادہ احتیاط برتیں۔ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔ جبکہ کانگو وائرس کی بابت اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بھی آگاہی دیں تاکہ اس وائرس کے بارے میں عوام میں پایا جانے والا خوف کم ہو اور وہ احتیاطی تدابیر پر زیادہ توجہ دے سکیں۔
27/08/2016 - 16:16:16 :وقت اشاعت