بند کریں
صحت صحت کی خبریںکانگو وائرس سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیرہی موثر ذریعہ ہے‘ڈاکٹر اسرار الحق طور

صحت خبریں

وقت اشاعت: 15/09/2016 - 15:32:40 وقت اشاعت: 15/09/2016 - 15:09:06 وقت اشاعت: 15/09/2016 - 15:09:06 وقت اشاعت: 15/09/2016 - 14:33:22 وقت اشاعت: 12/09/2016 - 16:48:07 وقت اشاعت: 12/09/2016 - 15:18:20 وقت اشاعت: 12/09/2016 - 14:36:00 وقت اشاعت: 12/09/2016 - 14:25:49 وقت اشاعت: 12/09/2016 - 13:38:00 وقت اشاعت: 11/09/2016 - 13:41:50 وقت اشاعت: 10/09/2016 - 16:50:18

کانگو وائرس سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیرہی موثر ذریعہ ہے‘ڈاکٹر اسرار الحق طور

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 ستمبر۔2016ء) جنرل ہسپتال کے ایسویسی ایٹ پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر اسرار الحق طور نے کہا کہ عید الاضحی کے موقع پر قصاب اور دیگر افراد کو ذبح شدہ جانور کے خون اور دیگر آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کے لئے بھی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے تا کہ ہاتھ اور جسم کے دیگر حصے خون آلود نہ ہوں ،جو کہ کانگو وائرس کی منتقلی کا سبب بن سکتے ہیں،یہ ایک انتہائی خطر ناک بیماری ہے جس کی شرح اموات بھی بہت زیادہ ہیں، اگرچہ پاکستان اور پنجاب میں کانگو وائرس کے مریض بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں تاہم ہر سال عید الاضحی کے موقع پر بڑے پیمانے پر قربانی کے جانوروں کی نقل و حمل کی وجہ سے اس بیماری کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس مہلک بیماری سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیرہی موثر ذریعہ ہے۔

سوموار کے روز اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگو بخاربھیڑ بکریوں، مویشیوں اور اونٹ کی جلد میں پرورش پانے والے چیچڑ کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔اس چیچڑ کے کاٹنے سے جانوروں کے ساتھ انسان بھی متاثرہوتے ہیں۔ یہ چیچڑ اگر کسی انسان کو کاٹ لے تو مریض کانگو بخار میں مبتلا ہو جاتاہے۔ یہ وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے۔ عام طور پر اس بیماری سے مویشی پال حضرات، جانوروں کو ہینڈل کرنے اور مویشیوں منڈیوں میں کام کرنے والے بیوپاری اور ورکر متاثر ہوتے ہیں۔

تو ہسپتالو ں میں کانگو بخار میں مبتلا مریضوں کا علاج معالجہ کرنے والے ڈاکٹر ز، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف انتہائی رسک پر ہوتا ہے اور ذرا سی بے احتیاطی سے یہ وائرس با آسانی دوسرے شخص میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کانگو وائرس میں مبتلا مریض کو تیز بخار کے ساتھ سر میں شدید درد، متلی، پیٹ اور پٹھوں میں بھی درد ہوتاہے اور مریض کے مسوڑوں، منہ، ناک اور مقعد سے خون رسناشروع ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر اسرار الحق طور نے کہا کہ قربانی کے وقت غیر ضروری لوگوں کو وہاں موجود نہ ہونا اشد ضروری ہے جبکہ عوام کو چاہئے کہ وہ قربانی کا گوشت فوری نہ پکائیں، جتنا ضروری ہو، اتنا پکایا جائے، تاکہ فریز کئے گئے کھانے میں بیکٹیریا نہ پھیل سکے۔ یہی نہیں قربانی کے جانور کی آلائشیں پلاسٹک کے بیگز میں دال کر کسی مناسب جگہ پر پھینکیں جائیں۔ عوام محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کریں اور وہ اس سلسلہ میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں تا کہ اس موذی بیماری سے بچا جا سکے۔
12/09/2016 - 15:18:20 :وقت اشاعت