بند کریں
صحت صحت کی خبریںجاپانی سفیر کا اسلام آباد میں پولیو تدارک کے لیے جاری مہم کا معائناتی دورہ

صحت خبریں

وقت اشاعت: 28/09/2016 - 12:13:52 وقت اشاعت: 28/09/2016 - 12:13:52 وقت اشاعت: 28/09/2016 - 11:35:13 وقت اشاعت: 28/09/2016 - 11:12:01 وقت اشاعت: 27/09/2016 - 16:45:34 وقت اشاعت: 27/09/2016 - 16:10:55 وقت اشاعت: 27/09/2016 - 15:13:49 وقت اشاعت: 27/09/2016 - 14:30:13 وقت اشاعت: 27/09/2016 - 14:06:01 وقت اشاعت: 27/09/2016 - 14:04:35 وقت اشاعت: 24/09/2016 - 16:33:32

جاپانی سفیر کا اسلام آباد میں پولیو تدارک کے لیے جاری مہم کا معائناتی دورہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔27 ستمبر۔2016ء )پاکستان میں تعینات جاپان کے سفیر تاکاشی کورائی نے یہاں وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں روٹری شفاء کمیونٹی مرکز صحت کا دورہ کیا جہاں انہوں نے قومی سطح پر شروع ہونے والی حفاظتی ٹیکوں اور بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے لیے قطرے پلانے کی مہم کا معائنہ کیا۔ روٹری شفاء کمیونٹی مرکز صحت کے دورہ کے دوران تاکاشی کورائی نے پولیو کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں حاصل ہونے والی نمایاں کامیابیوں کو خوب سراہا۔

انہوں نے ملک سے پولیو کے موذی وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے بین الاقوامی دنیا کو حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون کی اہمیت پر بھر پور زور دیا۔ جاپانی سفیر کا کہنا تھا، جاپان دنیا سے پولیو کے موذی وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت (پاکستان) کے ساتھ بھر پور تعاون جاری رکھے گا۔ ملک بھر میں پولیو سے بچاؤ کے لیے پانچ سال سے کم عمر کے شیر خوار 3 کروڑ 69 لاکھ 17 ہزار 5 سو 51 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔

پاکستان نے گذشتہ سال سے اب تک کے عرصے میں پولیو وائرس کو متاثرہ علاقوں تک محدود کرتے ہوئے دیگر جگہوں میں مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کئے ہیں جس کے نتیجے میں گراں قدر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ پولیو تدارک پروگرام میں مربوط حکمت عملی اپناتے ہوئے تمام تر توانائی زیادہ سے زیادہ علاقوں میں ویکسینیشن کی فراہمی کی بجائے پولیو کے قطرے پینے سے محروم رہ جانے والے بچوں تک رسائی اور انہیں بیماریوں سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین کی فراہمی یقینی بنانے کی حوصلہ افزاء تبدیلی کے باعث مثبت تنائج برآمد ہو رہے ہیں۔

پولیو مہم کے دوران بچوں تک عدم رسائی اور ایسے بچے جو کسی وجہ سے پولیو ویکسین کی فراہمی سے محروم رہ گئے ہیں کے ریکارڈ کے مطابق سال 2016 میں 4 فیصد تک نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ترتیب دئے گئے موجودہ نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان کا بنیادی مقصد پولیو ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کو تعداد کے اعداد و شمار کو صفر کی حدتک لانا ہے۔ پاکستان میں موذی پولیو وائرس کے کیسسز کی تعداد میں82 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

گذشتہ سالوں کے موازنہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سال 2014 میں پولیو کے تشخیص شدہ کیسز کی تعداد 306 تھی جو سال 2015 میں کم ہو کر صرف 54 رہ گئی جبکہ سال 2016 میں ان کیسسز کی تعداد مزید کمی متوقع ہے۔ اگست 2016 تک صرف پولیو کے 14 کیسسز کی تشخیص ہوئی جو گذشتہ سال کے مماثلتی عرصے کے مقابلے میں 63 فیصد کم ہے۔ حکومت جاپان صف اول کے ان مالی امداد کے اداروں میں سے ایک ہے جو سال 1996 سے حکومت پاکستان کو پولیو تدارک کے پروگرام میں بھر پور تکنیکی و مالی تعاون فراہم کر رہی ہے۔

محتاط اعداد و شمار کے مطابق جاپان حکومت پولیو ویکسین کے قطروں اور ٹیکوں کی خریداری اور ویکسین کو محفوظ اور قابل استعمال بناتے ہوئے کولڈ چین کے نظام کی فراہمی کے لیے اب تک پاکستان کو 212.5 ملین ڈالر (22.6 )ارب جاپانی ین) کا مالی تعاون فراہم کر چکی ہے۔
27/09/2016 - 16:10:55 :وقت اشاعت