بند کریں
صحت صحت کی خبریںسجاول کے قریب واقع لاڑشوگر ملز اور دیوان شوگر ملز نے تاحال چھوٹے کاشتکاروں کو ادائیگی نہیں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 16/08/2008 - 15:25:15 وقت اشاعت: 16/08/2008 - 14:14:40 وقت اشاعت: 15/08/2008 - 15:31:58 وقت اشاعت: 15/08/2008 - 15:19:10 وقت اشاعت: 13/08/2008 - 16:33:43 وقت اشاعت: 13/08/2008 - 14:24:42 وقت اشاعت: 12/08/2008 - 14:47:52 وقت اشاعت: 10/08/2008 - 20:59:36 وقت اشاعت: 10/08/2008 - 15:38:33 وقت اشاعت: 10/08/2008 - 11:51:51 وقت اشاعت: 08/08/2008 - 23:08:54

سجاول کے قریب واقع لاڑشوگر ملز اور دیوان شوگر ملز نے تاحال چھوٹے کاشتکاروں کو ادائیگی نہیں کی

سجاول(اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین13 اگست2008 )سجاول کے قریب واقع لاڑشوگر ملز اور دیوان شوگر ملز نے تاحال چھوٹے کاشتکاروں کو ادائیگی نہیں کی ہے۔کروڑوں روپے کی رقم بلاک ہونے سے کاشتکار معاشی بدحالی کا شکار ہیں ۔کاشتکار رہنما عبدالغفور کھٹی حاجی عبدالعزیز سومرو اور دیگر نے بتایا کہ مذکورہ شوگر ملز نے مڈل مین کی معرفت کیش کوڈ میں خریدے گئے گنے کی رقم دو روپے من منافع کے حساب سے ان دلالوں کو کروڑوں روپے کی ادائیگی کردی ہے جبکہ زمینداری کوڈ میں جن کاشتکاروں نے ملز کو گنا سپلائی کیا انہیں تاحال مکمل ادائیگی نہیں کی ہے تقریباً نصف ارب روپے کی رقم چھوٹے کاشتکاروں کو نہیں مل سکی ہے جس سے وہ پریشان ہیں۔

جبکہ کھاد کی بلیک مارکیٹنگ اور کہیں سے ادھار نہ ملنے سے کاشتکار کوئی فصل کرنے کے قابل نہیں بلکہ انہیں کھانے کے لالے پڑے ہیں ۔جبکہ شوگر ملز میں پڑی ہوئی چینی کو بھی فروخت نہیں کیاجارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ شوگر ملز مالکان نے کاشتکاروں کی رقم ادانہ کرنے کو کائی مضبوط عذر بھی پیش نہیں کرسکے ہیں۔لہٰذا ان شوگر ملز کو ڈفالٹر اور کنگال قرار دیکر نیلام کرایا جائے۔انہوں نے کہا کہ گنے کی رقم نہ ملنے اور کھاد کے مصنوعی بحران اور بلیک مارکیٹنگ سے چاول کی بوائی میں دیر ہورہی ہے۔اور آئندہ چاول کی فصل میں بھی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ملی بھگت کے باعث مقامی کاشتکار گنے کی فصل ختم کرنے پر مجبور ہیں جبکہ اب چاول بھی مفقود ہوں گے۔
13/08/2008 - 14:24:42 :وقت اشاعت