بند کریں
صحت صحت کی خبریںدماغی امراض سے متعلق ابہامات کو دور کیا جائے، ماہرین

صحت خبریں

وقت اشاعت: 08/10/2016 - 16:09:02 وقت اشاعت: 08/10/2016 - 15:07:43 وقت اشاعت: 08/10/2016 - 13:05:32 وقت اشاعت: 07/10/2016 - 14:52:16 وقت اشاعت: 07/10/2016 - 13:25:47 وقت اشاعت: 06/10/2016 - 18:16:08 وقت اشاعت: 06/10/2016 - 16:58:51 وقت اشاعت: 06/10/2016 - 16:13:26 وقت اشاعت: 06/10/2016 - 14:49:18 وقت اشاعت: 06/10/2016 - 12:44:05 وقت اشاعت: 06/10/2016 - 12:43:21

دماغی امراض سے متعلق ابہامات کو دور کیا جائے، ماہرین

کراچی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 6 اکتوبر- 2016ء)پاکستان میں دماغی امراض میں مبتلا افراد درست اور موزوں علاج کی تلاش نہیں کرتے بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کبھی ایک نارمل زندگی نہیں گزار سکیں گے۔ان خیالات کا اظہار ماہرین نے دماغی امراض کے عالمی دن سے متعلق پریس بریفنگ کے دوران کیا۔ملک میں آج بھی مرگی کے بارے میں بہت سی توہمات پائی جاتی ہیں ، رعشہ کی بیماری کو عمر کی ذیادتی کا اثر سمجھا جاتا ہے جبکہ ڈپریشن کی بیماری ہونے کی صورت میں ادویات نہیں لی جاتیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ ادویات اپنا عادی بنالیں گی اور ساری زندگی لینی پڑیں گی ۔

حالانکہ دماغی امراض قابل علاج ہیں اور پاکستان میں ان کا بہترین علاج کیا جاتا ہے ۔ ان خیالا ت کا اظہار جناح ہسپتال کے شعبہ طب نفسیات اور علوم رویہ جات کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر اقبال آفریدی اور آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ ڈاکٹر یحیی عامراور کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ ڈاکٹر شاہدمصطفی نے کراچی پریس کلب میں دماغی صحت کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ دماغی واعصابی بیماریوں میں مرگی دوسری بڑی اورعام بیماری ہے جس میں مریض کو دورے پڑتے اور جھٹکے لگتے ہیں ۔دنیا بھر میں اس کے مریضوں کی تعداد 5کروڑ ہے جن میں سے 50لاکھ ایسے ہیں جنہیں مہینے میں مرگی کے کئی دورے پڑتے ہیں ۔پوری زندگی میں مرگی ہونے کی شرح 2سے4فیصد ہے جبکہ زندگی بھر میں ایک دورے پڑ سکنے کی شرح 8فیصد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بچوں اور بوڑھوں میں زیادہ ہوتی ہے ۔

اس کے علاج کے لئے مریضوں کی ایک بڑی تعداد کو لمبے عرصے تک ادویات لینی پڑتی ہیں ۔اس دوران دیکھا جاتا ہے کہ مریضوں کو کتنے دورے پڑ تے ہیں ان کا دورانیہ کتنا ہوتا ہے وہ کس حد تک اسے برداشت کر سکتے ہیں ایک مریض کے لئے عموماً ایک گولی کافی ہوتی ہے لیکن کیفیت دیکھتے ہوئے مختلف ادویات بھی دی جاتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ رعشہ کی بیماری سینٹرل نروس سسٹم میں خلل کے باعث ہوتی ہے جو موٹر سسٹم کو متاثر کرتا ہے ۔

اس کی علامات میں جسم پر کپکپی اور لرزش طاری ہونا ، جسم اکڑنا ،اعضاء کی بے انتہا سست حرکت اور وضعی ناپائیداری شامل ہیں ۔اسے اعصابی بیماریوں میں سب سے شدید تصور کیا جاتا ہے جس سے معیار زندگی بھی متاثر ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اس کے مریضوں کی تعداد 70لاکھ سے ایک کروڑ کے درمیان ہے ۔65سال کے عمر کے ایک فیصد لوگوں کو یہ ہوتی ہے جبکہ 85سال کے 4سے5فیصد لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں ۔

پاکستان میں 2005تک اس بیماری کی شرح 0.08تھی جو 2030تک ڈبل ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاج کے طور پر بین الاقوامی رہنما اصول موجود ہیں اور پاکستان میں اس کی ادویات بھی دستیاب ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ڈپریشن دنیا بھر میں معذوری کی بڑی وجہ بنتا جارہا ہے اور دنیا بھرمیں بیماریوں میں اضافے کا باعث بھی بن گیا ہے ۔مردوں کے مقابلے میں خواتین میں اس کی شرح 50فیصد زیادہ ہے جبکہ ایک اندازے کے مطابق 50سے 85فیصد لوگوں کو ایک بار ہونے کے بعد دوبارہ ڈپریشن ہو جاتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ڈپریشن کے مریضوں کو دیگر امراض بھی لاحق ہوجاتے ہیں 40سے 65فیصد لوگ دل کے دورے ،10سے 27فیصد فالج، ہر 4میں سے ایک کینسر جبکہ 25فیصد کو ذیابطیس ہونے کے امکانا ت ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس کی ادویات آسانی سے میسر ہیں جنہیں عموماً 6ماہ کے عرصہ کے لئے دیا جاتا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ فزیو اور سائیکو تھراپی بھی کرائی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دماغی واعصابی امراض قابل علاج ہیں اس لئے عوام ان سے ڈرنے اور دور بھاگنے کے بجائے ڈاکٹروں سے رجوع کریں اور علاج کرواکر صحت مند زندگی گزاریں ۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں 10اکتوبر کو دماغی صحت کا عالمی دن منایا جائے گا۔

06/10/2016 - 18:16:08 :وقت اشاعت