بند کریں
صحت صحت کی خبریںنیویارک میں ایڈز تیزی سے پھیل رہا ہے ،محکمہ صحت رپورٹ

صحت خبریں

وقت اشاعت: 06/09/2008 - 17:30:06 وقت اشاعت: 03/09/2008 - 13:11:51 وقت اشاعت: 02/09/2008 - 12:11:13 وقت اشاعت: 02/09/2008 - 10:54:07 وقت اشاعت: 01/09/2008 - 14:30:49 وقت اشاعت: 01/09/2008 - 12:27:50 وقت اشاعت: 30/08/2008 - 14:54:45 وقت اشاعت: 29/08/2008 - 20:42:12 وقت اشاعت: 28/08/2008 - 14:53:52 وقت اشاعت: 28/08/2008 - 14:44:20 وقت اشاعت: 27/08/2008 - 18:32:28

نیویارک میں ایڈز تیزی سے پھیل رہا ہے ،محکمہ صحت رپورٹ

نیو یارک (اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔1ستمبر 2008ء )امریکی محکمہ صحت کی طرف سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیویارک میں ایڈز کے پھیلنے کی رفتار امریکہ کے دوسرے حصوں کی نسبت تین گنا زیادہ ہے۔ محکمہ صحت نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ نیویارک شہر میں ایچ آئی وی وائرس کے سالانہ پھیلاوٴ کے بارے میں اب تک کا سب سے زیادہ مستند جائزہ ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2006ء میں نیویارک کے لگ بھگ 4800 شہری ایڈز پھیلانے والے وائرس ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے تھے ۔

جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک لاکھ افراد میں سے 72 افراد ایڈز کے نئے مریض تھے۔یہ تعداد قومی شرح کی نسبت دس گنا زیادہ ہے جس میں اس انفکشن کے نئے واقعات ایک لاکھ میں سے23 ہیں۔مجموعی طورپر نیویارک کے تقریباً ایک لاکھ افراد ایچ آئی وی پازیٹو ہیں۔ایچ آئی وی کے بچاوٴ اور کنٹرول کے لیے محکمہ صحت کی اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر مونیکا سوینی نے کہا ہے کہ نیویارک شہر کو ایک عرصے سے امریکہ میں وباوٴں کا مرکز خیال کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ شرح اس لیے زیادہ ہے کیونکہ نیویارک میں وہ گروپ بڑی تعداد میں موجود ہیں جنہیں یہ وائرس اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ یعنی دنیا کے کچھ حصوں سے آنے والے تارکین وطن اور ہم جنس پرست مرد۔انھوں نے کہا کہ ان کی تعداد نیویار ک میں بہت زیادہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے باقی حصوں کی نسبت نیویارک میں اس مرض کی شرح تین گنا زیادہ ہے۔

اس رپورٹ کے نتائج کی بنیاد بیماریوں کے کنٹرول اور بچاوٴ کے امریکی مرکز کی جانب سے تیارکردہ ایک نئے تشخیصی فارمولے پر رکھی گئی ہے جو یہ متعین کرتا ہے کہ لوگ اس وائرس کا نشانہ بننے کے 180 روز کے اندر کب اس بیماری میں مبتلا ہوگئے۔رپورٹ سے ظاہر ہوا ہے کہ ہم جنس پرست مردوں کا گروپ 2006ء میں سب سے زیادہ خطرے میں تھا اور اس انفیکشن کا نشانہ بننے والوں میں ان کی تعداد تین چوتھائی تھی۔جن دوسرے گروپوں میں اس کا خطرہ سب سے زیادہ تھا ان میں منشیات کو سرنج کے ذریعے استعمال کرنے والوں اور جسم فروشی کرنے والے شامل تھے۔
01/09/2008 - 12:27:50 :وقت اشاعت