بند کریں
صحت صحت کی خبریںالیکٹرانک سگریٹ بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے،عالمی ادارہ صحت

صحت خبریں

وقت اشاعت: 23/09/2008 - 12:39:26 وقت اشاعت: 22/09/2008 - 14:40:09 وقت اشاعت: 22/09/2008 - 13:15:17 وقت اشاعت: 22/09/2008 - 12:13:15 وقت اشاعت: 22/09/2008 - 12:11:40 وقت اشاعت: 21/09/2008 - 12:36:27 وقت اشاعت: 21/09/2008 - 12:26:04 وقت اشاعت: 20/09/2008 - 02:25:55 وقت اشاعت: 20/09/2008 - 01:26:59 وقت اشاعت: 19/09/2008 - 15:56:49 وقت اشاعت: 19/09/2008 - 15:56:49

الیکٹرانک سگریٹ بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے،عالمی ادارہ صحت

نیو یارک (اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین1 2ستمبر2008 )عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتا کہ الیکٹرانک سگریٹ ان تمباکو نوشوں کے لیے کوئی مفید نسخہ ہے جو تمباکونوشی ترک کرنا چاہتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ وہ الیکٹرانک سگریٹ بنانے والوں اوراسے فروخت کرنے والوں کے ان دعووں کی نہ تو تصدیق کرتا ہے اور نہ ہی تائیدکہ الیکٹران سگریٹ کے استعمال سے پھیپھڑوں میں نکوٹین کی ایک بہت کم مقدار داخل ہوتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اس بارے میں قطعی طورپر کوئی سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں کہ الیکڑانک سگریٹ نکوٹین کی کوئی جائز متبادل تھراپی ہے جس کی مدد سے لوگ تمباکو نوشی چھوڑ سکتے ہیں۔تمباکو نوشی کے خاتمے سے متعلق عالمی ادارہ صحت کے ادارے کے ڈائریکٹر ڈگلس بیٹچر نے کہا ہے کہ مارکیٹنگ کرنے والوں یہ غلط دعوے بند کردینے چاہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت سمجھتا ہے کہ الیکٹرانک سگریٹ بنانے والوں اور اسے فروخت کرنے والوں کے یہ دعوے سوفی صد غلط ہیں اور انہوں نے کہا کہ یہ بات بڑی تشویش کا باعث ہے کہ کچھ الیکٹرانک سگریٹ سازوں نے دنیا بھر میں عالمی ادارہ صحت کا نام استعمال کیا ہے۔

مثال کے طورپر انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر یا اپنی پیکنگ یا اپنے اشتہاروں میں عالمی ادارے کی توثیق کوشامل کیا ہے ۔ یہ بالکل غلط بات ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے الیکڑانک سگریٹ بنانے والی کچھ کمپنیوں کو خط بھیجا ہے کہ وہ اپنے کسی بھی مارکیٹنگ مواد پر موجود ڈبلیو ایچ او کا نام یا علامتی نشان ہٹا دیں۔واضح رہے کہ ہانگ کانگ میں قائم میں ایک چینی کمپنی نے 2004 میں الیکٹرانک سگریٹ ایجاد کی تھی۔

یہ ہانگ کانگ اور متعدد ملکوں میں فروخت ہورہی ہے جن میں برازیل ، کینیڈا ، فن لینڈ ، اسرائیل ، لبنان ، نیدرلینڈز ، سویڈن ، ترکی اور برطانیہ شامل ہیں۔اصل سگریٹ کی شکل کی سٹین لس اسٹیل کی بنی ہوئی اس سگریٹ میں سیال نکوٹین کو بھرنے کا ایک خانہ ہوتا ہے اور یہ سگریٹ بیٹری کی مدد سے کام کرتی ہے۔ بیٹری کو دوبارہ چارج کیا جاسکتا ہے۔ سگریٹ نوش اصل سگریٹ کی طرح اس کے کش لیتے ہیں لیکن وہ اسے جلاتے نہیں اور اس سے کوئی دھواں بھی پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک نفیس گرم بخارات پیدا کرتی ہے جو پھیپھڑوں میں چلے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر بیٹچر کہتے ہیں کہ اس بات کی تصدیق کے لیے کوئی سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں کہ الیکڑانک سگریٹ محفوظ اور موٴثر ہے۔الیکٹرانک سگریٹ سستا نہیں ہوتا۔ بیٹچر کہتے ہیں کہ بلغاریہ میں یہ سگریٹ ایک سو ڈالر میں آتی ہے اور نکوٹین کا دوبارہ بھرا جانے والا پیکٹ تقریباً 14 ڈالر کا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ سگریٹ دنیا بھر میں خصوصی طورپر انٹرنیٹ کے ذریعے فروخت کی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے سگریٹ بنانے والے کسی بھی ملک کے ضابطوں او رٹیکسوں سے بچ سکتے ہیں۔
21/09/2008 - 12:36:27 :وقت اشاعت