بند کریں
صحت صحت کی خبریںپیپلز پارٹی کامنشور معاشرے کے کمزور طبقے کو بنیادی ضروریات زندگی دہلیز تک پہنچانا ہے،یوسف ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 11/11/2008 - 13:35:59 وقت اشاعت: 10/11/2008 - 12:39:02 وقت اشاعت: 10/11/2008 - 12:38:44 وقت اشاعت: 09/11/2008 - 18:28:30 وقت اشاعت: 09/11/2008 - 16:01:04 وقت اشاعت: 07/11/2008 - 21:12:28 وقت اشاعت: 07/11/2008 - 14:21:36 وقت اشاعت: 06/11/2008 - 19:44:57 وقت اشاعت: 05/11/2008 - 16:01:26 وقت اشاعت: 04/11/2008 - 18:23:11 وقت اشاعت: 03/11/2008 - 13:38:06

پیپلز پارٹی کامنشور معاشرے کے کمزور طبقے کو بنیادی ضروریات زندگی دہلیز تک پہنچانا ہے،یوسف رضا گیلانی،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر مرحلے پر شفاف بنائیں گے،ملک کی 15 فیصد آبادی مستفید ہو سکے گی، اجلاس سے خطاب

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔7نومبر۔2008ء )وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا مقصد معاشرے کے سماجی اور معاشی طور پر کمزور افراد کو مالی مدد فراہم کرنا ہے۔ حکومت نے اس مقصد کے لئے 2008-09 کے دوران 34 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے۔ جس سے ملک کی 15 فیصد آبادی مستفید ہو گی۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی جس میں عطیات دینے والے اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کامنشور معاشرے کے کمزور طبقے کو بنیادی ضروریات زندگی ان کی دہلیز تک پہنچانا ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کی غرض سے غریب خاندانوں کو یہ امداد گھرانے کی صرف خاتون رکن کو دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے طریقہ کار پر محتاط انداز میں غور کیا جا رہا ہے تاکہ ہر مرحلے پر اسے شفاف بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ درخواست دینے والوں کی شناخت کی تین ذرائع سے تصدیق کی جائے گی تاکہ صرف حقیقی مستحق افراد ہی یہ امداد حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی پروگرام کے تحت سیاسی امتیاز کے بغیر فنڈز فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جو صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت غریبوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے چھوٹے قرضوں کی فراہمی اور ہنر مندی کی تربیت پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹس پروگرام کے فنڈز کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے قانون سازی بھی کی جارہی ہے اورایسا اقدام قابل تعزیر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بعد ازاں اس پروگرام کو ہیلتھ انشورنس ،تعلیمی سہولیات اور خاندانی منصوبہ بندی کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اس موقع پر عطیات دینے والے اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندوں نے پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے ملک سے غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے اس حوالے سے اپنی حمایت کا یقین دلایا۔ پروگرام کی چیئرپرسن فرزانہ راجہ نے اجلاس کو بریفنگ دی قبل ازیں وزیراعظم کی سماجی بہبود بارے خصوصی معاون شہناز وزیر علی نے اجلاس کو بتایاکہ شناخت کے عمل کو نہایت احتیاط سے کیا جا رہا ہے چھانٹی کا عمل یونین کونسل سے شروع ہو گا جس کی نادرا کے ڈیٹا بیس سے تصدیق کی جائے گی۔ مستحقین کی فہرست ویب سائٹ پر جاری کی جائے گی۔

چیئرمین نادرا نے پروگرام کو فول پروف بنانے کی غرض سے اتھارٹی کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بتایا۔ اجلاس میں وزیر نجکاری ، سید نوید قمر، وزیر کشمیر و علاقہ جات قمر زمان کائرہ، وزیر مملکت برائے خزانہ حنا ربانی کھر، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن سلمان فاروقی، امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹر سن جاپانی سفیر چی ہیرو ا ٹ سومی ، جاپان کی اقتصادی ترقی کے ادارے کے سربراہ شو ناکا گاوا ، جرمنی کے سفیر ڈاکٹر مائیکل کوچ ، آسٹریلین سفارتخانے کے نمائندے جیمز این جیری ، آسٹریلیوی سفارتخانے اور ورلڈ بینک ، ایشیائی ترقیاتی بنک سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے بھی شریک ہوئے-
07/11/2008 - 21:12:28 :وقت اشاعت