بند کریں
صحت صحت کی خبریںسائنسدان 10 نابینا افراد کی بینائی بحال کرنے کےلیے بائیونک آئیز لگائیں گے

صحت خبریں

وقت اشاعت: 02/02/2017 - 12:26:07 وقت اشاعت: 26/01/2017 - 23:48:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 23:54:28 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 23:48:27 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 18:49:47 وقت اشاعت: 02/01/2017 - 22:47:14 وقت اشاعت: 30/12/2016 - 18:42:19 وقت اشاعت: 29/12/2016 - 22:23:14 وقت اشاعت: 24/12/2016 - 20:25:38 وقت اشاعت: 19/12/2016 - 15:14:38 وقت اشاعت: 25/11/2016 - 01:38:17

سائنسدان 10 نابینا افراد کی بینائی بحال کرنے کےلیے بائیونک آئیز لگائیں گے

دنیا میں لاکھوں نابینا افراد موجود ہیں۔ نابینا افراد کی بصارت کی بحالی کے لیے سائنسدان مسلسل کام کر رہے ہیں۔ اب سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ ریٹینس پگمنٹوسا(Retinitis pigmentosa) سے متاثر 10 افراد کی بینائی بحال کرنے کے لیے بائیونک آئیز(bionic eyes) لگائیں گے۔ اس طرح کی سائنسی ایجادات اس سے پہلے سائنس فکشن فلموںمیں ہی دکھائی دیتی تھی، جو اب حقیقت بننے جا رہی ہے۔



پراجیکٹ Argus® II Retinal Prosthesis Systemمیں ایک کمپیوٹر اور کیمرہ سنسرز استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کیمرہ اور سنسرز عینک میں لگے ہوتے ہیں۔

اس سسٹم کی ویب سائٹ کےمطابق اس سسٹم میں دو الیکٹرونک سیٹ اپ ایک دوسرے سے رابطہ کر کے نابینا افراد کی بینائی بحال کرنے میں مدد کرتے ہیں۔



اس سسٹم میں عینک پر لگا چھوٹا سا کیمرہ منظر ریکارڈ کرتا ہے اس کے بعد یہ ویڈیو مریض کے پاس موجود چھوٹے کمپیوٹر یونٹ یعنی ویڈیو پراسیسنگ یونٹ کو بھیجی جاتی ہے۔یہاں ویڈیو کو پراسس کر کے انسٹرکشن میں بدل کر کیبل کے ذریعے واپس عینک تک بھیجی جاتی ہیں۔ اس کے بعد یہ انسٹرکشن وائرلیس کے ذریعے ریٹینا میں لگے اینٹینا کو بھیجی جاتی ہے۔

اس کے بعد یہ سگنلز الیکٹروڈ ایرے کو بھیجےجاتے ہیں، جو بجلی کا ہلکا ارتعاش خارج کرتے ہیں۔ یہ ارتعاش ریٹینا کےخراب فوٹو ریسپٹرز کو بائی پاس کرتے ہوئے ریٹینا کے باقی خلیوں میں تحریک پیدا کرتےہیں۔ یہ خلیے آنکھوں کی عصبی نظام کے ذریعےدماغ کو روشنی کےپیٹرن کے ذریعے منظر کی معلومات بھیجتے ہیں۔

Argus II پروگرام سے پہلے ریٹنس پگمنٹوسا کے مریضوں کے لیے علاج کی کوئی امید نہیں تھی۔

ایک رپورٹ کے مطابق اس پروگرام میں مریضوں کو دوگروپس میں تقسیم کر کے علاج کیا جائے گا۔ 5 مریضوں کا علاج مانچسٹر رائل آئی ہوسپیٹل اور 5 مریضوں کا علاج مورفیلڈ آئی ہوسپیٹل میں کیا جائے گا۔ یہ علاج 2017 میں شروع کیا جائے گا۔ اگر علاج کامیاب ہوگیا تو یہ طریقہ برطانیہ کے 16ہزار مریضوں کے لیےدستیاب ہوگا۔ بعد میں اسے دوسرے ممالک میں متعارف کرایا جائے گا۔

02/01/2017 - 22:47:14 :وقت اشاعت