بند کریں
صحت صحت کی خبریںچترال شدید برف باری ،ایک ہفتہ گزرنے جانے باوجودزمینی و فضائی راستہ بحال نہ ہوسکے ، عوام کو ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 05/01/2009 - 11:57:28 وقت اشاعت: 03/01/2009 - 19:45:59 وقت اشاعت: 02/01/2009 - 12:17:44 وقت اشاعت: 30/12/2008 - 12:40:36 وقت اشاعت: 24/12/2008 - 19:22:47 وقت اشاعت: 22/12/2008 - 15:54:37 وقت اشاعت: 20/12/2008 - 13:06:06 وقت اشاعت: 20/12/2008 - 11:32:02 وقت اشاعت: 19/12/2008 - 20:57:27 وقت اشاعت: 18/12/2008 - 14:26:54 وقت اشاعت: 16/12/2008 - 14:09:28

چترال شدید برف باری ،ایک ہفتہ گزرنے جانے باوجودزمینی و فضائی راستہ بحال نہ ہوسکے ، عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ،کھانے پینے کی اشیاء ، سوختنی لکڑی اورادویات کی قلت پیدا ہوگئی

چترال(اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین22دسمبر2008 ) چترال کے عوام ایک بار شدید مشکلات کی گرفت میں پھنسے ہوئے ہیں زمینی اور فضائی راستے بند ہونے کی وجہ سے چترال قید کا منظر پیش کرتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک ہفتہ سے چترال کو ملک کے دوسرے حصوں سے ملانے والا واحد زمینی راستہ لواری ٹاپ کے مقام پر شدید برف باری کے باعث ہر قسم کے ٹریفک کیلئے بند ہوا ہے جبکہ چترال سے گلگت اور شمالی علاقہ جات جانے والی سڑک بھی شندور پاس کے مقام پر برف باری کی وجہ سے بند پڑا ہے۔

دوسری طرف چترال آنے اور جانے والی PIA کی پروازیں بھی حراب موسم کی وجہ سے مسلسل منسوح ہورہی ہیں اور ہزاروں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں افغانستان کے راستے صوبہ کنڑ سے چترالی لوگوں کو سفر کرنے کی اجازت ابھی نہیں ملی ہے جسکی وجہ سے چترال باالکل ایک قدرتی قید کا منظر پیش کرتا ہے جس سے نہ لوگ باہر جاسکتے ہیں نہ باہر سے چترال آسکتے ہیں۔

سابقہ پوسٹ ماسٹر جنرل صوبہ سرحد جن کا تعلق چترال سے ہے کی اہلیہ کی لاش افغانستان کے راستے چترال پہنچادی گئی۔ مگر عام مسافروں کو ابھی سفر کرنے کی اجازت نہیں ملی ہے۔ چترال اس وقت سردی کی شدید لہر کی گرفت میں ہے جس سے لوگوں کا جینا دوبھر ہوچکا ہے ۔ بازار میں سوختنی لکڑی، کھانے پینے کی چیزوں کی قلت نے عوام کے مشکلات میں اور اضافہ کیا ہے۔

لواری ٹاپ کی بند ہوتے ہی دکاندار چھریاں تیز کرتے ہیں اور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ لیتے ہیں لواری ٹاپ کی بند ہونے کے بعد چیزوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں چیزیں دگنی قیمت پر ملتے ہیں مگر انتظامیہ نے چھپ کی سادھ لی ہوئی ہے ان کے حلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی۔ علاوہ ازیں چترال میں بجلی کی طویل آنکھ مچولی نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی بارہ بارہ گھنٹے پر مشتمل لاؤڈ شیڈنگ نے عوام کو اور بھی پریشان کیا ہے محکمہ واپڈا (پیسکو) کے اہلکار ٹرانسفارمرز کے لنک اتار کر لمبی تھان سوجاتے ہیں اور بارہ گھنٹے کے بعد آکر دوبارہ لگاتے ہیں جبکہ عوام کا مطالبہ ہے کہ لاؤڈ شیڈنگ کو کم کرکے پانچ یا چھ گھنٹے تک جاری رکھے مگر ایسا کرنے سے واپڈا کے اہلکار کو زحمت اٹھانی پڑے گی اور ان کو چھ گھنٹے کے بعد گرم کمرے سے باہر نکل کر بجلی بحال کرنا پڑے گا۔

چترال کے مقامی بجلی گھر جو صرف ایک میگاواٹ بجلی پیدا کرتی ہے اس کی ایک جنریٹر بھی پچھلے دو ماہ سے حراب ہے اور ابھی تک اس کی مرمت کی کوئی اثرات دکھائی نہیں دیتے۔ چترال میں تیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے جبکہ جی ٹی زیڈ سروے کے مطابق 4500 میگا واٹ بجلی گھر نہایت کم خرچے پر اور آسانی سے بنائی جاسکتی ہے مگر اس کیلئے آج تک کسی عملی اقدام نہیں اٹھایا۔

تاجکستان نے پاکستان کو گیس کی پائپ لائن چترال کے راستے لانا والا معاملہ بھی کٹائی میں پڑا ہے چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چترال کی پانی کی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اس پر بجلی گھر تعمیر کی جائے تاکہ یہاں کی جنگلات بے دریغ کٹائی سے بچ سکے اور لوگ بجلی کی ہیٹر استعمال کرے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ چترال اور پشاور کے درمیان سفر کرنے کیلئے لواری ریل سرنگ کو جلد از جلد تعمیر کرکے اس کے اندر سفر کرنے بندوبست کی جائے تاکہ چترالی عوام کا قید جیسے زندگی سے نجات ملے۔
22/12/2008 - 15:54:37 :وقت اشاعت