سوائن فلو وائرس کا زور ٹوٹ گیا ہے،تاہم وائرس کو روکنے کی جدوجہد جاری رہے گی،عالمی ادارہ صحت

نیو یارک (اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔04 مئی 2009 ء) عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ میکسیکو سے شروع ہونے والے سوائن فلو کو انسانوں میں پھیلنے سے روکنے میں کسی طرح کی سستی نہیں برتی جاسکتی ہے، تاہم اب اس مرض کے پھیلنے کا زور ٹوٹ رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ تازہ ترین اعداد و شمار کی رو سے دنیا کے اٹھارہ ملکوں میں نو سو سے کچھ زیادہ لوگ سوائن فلو سے متاثر ہوئے ہیں۔

تاہم شمالی امریکہ کے ممالک کے علاوہ سوائن فلو کے مسلسل پھیلنے کے آثار نہیں ملے ہیں۔

(جاری ہے)

ڈبلیو ایچ آو کے ڈائریکٹر مائیکل رائن نے کہا ہے سوائن فلو کے مسلسل پھیلنے کے کوئی آثار نہیں ملے ہیں اور صورتحال شاید اتنی خراب نہیں جتنا پہلے سوچا جا رہا تھا۔ انہوں نے یورپی ممالک کیسوائن فلو کے خطرے سے نمٹنے کی تعریف کی۔ عالمی ادارہ صحت کے ہی ایک اور اہلکار ڈک ٹومسن کے مطابق شمالی امریکہ سے باہر اس وباء کے پھیلنے کا انداز بکھرا بکھرا سا ہے۔دوسری طرف میکسیکو نے سوائن فلو سے مرنے والے افراد کی تعداد کم کر دی ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ سوائن فلو سے مرنے والوں کی تعداد 101 ہے۔ اس سے پہلے میکسیکو حکومت نے سوائن فلو سے مرنے والوں کی تعداد 176 بتائی تھی۔

Your Thoughts and Comments