ہسپانوی سیستاہ

ہسپانوی تاریخ کئی ادوار سے گزری، کٹرپاپائیت تا آمریت نافذ رہی مگر اسلامی دور کے اثرات انمٹ رہے۔زبان میں عربی حروف ہوں، مقامات کے اسماء ہوں یا عادات سبھی پہ اسلامی تمدن کی تاحال گہری چھاپ ہے

Zazy Khan زازے خان جمعہ فروری

hispanvi sistah
کام زندگی کا حصہ ہے، زندگی نہیں! ایک ان کہی کہاوت قیلولہ نبی کریم کی حیات مبارکہ میں معمول رہا، دوپہرکو کھانے کے بعد کچھ دیراستراحت فرماتے۔ محدثین اکرام کی قیلولہ کے متعین وقت بارے مختلف آراء ہیں، اگرچہ اجماع قبل ازظہر پہ ہے۔ دوپہر کے وقت سونے یا آرام کرنے میں یہ حکمت بیان کی گئی کہ اس سے جسمانی توانائی بحال اور ذہنی تھکاوٹ دور ہوتی ہے۔

توجیح یہ بھی دی گئی کہ چونکہ سرزمین عرب ایک گرم خطہ ہے جہاں قدیم دور سے معاملات زندگی کی شروعات منہ اندھیرے ہوتی اور جب آفتابی تمازت ناقابل برداشت ہوجاتی تو تھکن اتارنے کی غرض سے کارزندگی میں وقفہ دیا جاتا۔ پہرڈھلنے کے بعد معمولات زیست ازسرنو شروع کیے جاتے۔
جنوبی سپین کا خطہ، ہسپانیہ یا اندلسیہ، چونکہ خلافت اسلامیہ کا حصہ رہا ہے تو عرب اور بربر (شمالی افریقہ کے مسلم ممالک) مسلمانوں کی بودوباش اور رہن سہن ہسپانوی معاشرت کا جزلانفیک بن گئی۔

(جاری ہے)

ہسپانوی تاریخ کئی ادوار سے گزری، کٹرپاپائیت تا آمریت نافذ رہی مگر اسلامی دور کے اثرات انمٹ رہے۔زبان میں عربی حروف ہوں، مقامات کے اسماء ہوں یا عادات سبھی پہ اسلامی تمدن کی تاحال گہری چھاپ ہے۔
جدید سپین میں چاہے سرد جاڑے کا موسم ہو یا دھکتی لو پڑتی ہو، دن کا ایک مخصوص پہر آرام کے لیے مختص ہے۔ اس کی کوئی معین مدت نہیں۔ عموماً یہ دن ڈیڑھ بجے تا شام ساڑھے پانچ بجے کے دوران کسی وقت کیا جاتا ہے۔

دفتر اور تعلیمی ادارے ایک گھنٹہ جبکہ کاروبار تین گھنٹے تک بند رہتے ہیں۔ اس دوران خاندان کے سبھی افراد اکٹھے ہوکر دن کا کھانا تناول کرتے ہیں۔ دن کے اس معمول کو ہسپانوی زبان میں" سیستاہ (siesta) " کہا جاتا ہے۔ آرام کے اس قدرے طویل وقفے کا مداوا شب گئے تک کام میں جت کر کیا جاتا ہے، اسی لیے دیگر یورپی ممالک کے برخلاف ہسپانوی رات کے کھانے کے اوقات 9 بجے کے بعد شروع ہوتے ہیں۔

سیستاہ یعنی سپینش قیلولہ کی روایت اس قدر قوی ہے کہ 2007ء میں سپین جب مالی بحران کا شکار ہوا تو حکومت کو تجویز دی گئی کہ سیستاہ کے طویل وقفہ پرپابندی عائد کی جائے، کاروبار کی تادیر سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ کساد بازاری کا خاتمہ ہو۔ صدیوں سے چلی آرہی روایت کا یوں بحکم سرکار ختم ہونا معجزات میں شمار ہوتا مگر عوام نے سختی سے تجویز رد کردی اور حکومت پر واضح کردیا کہ ریاستی احکامات سماجی حرکیات پر اثرانداز نہیں ہوسکتے۔

اس باب میں ہسپانوی عوام یکجا ہے کہ معاشی حالات اور تہذہبی شناخت دو الگ الگ اکائیاں ہیں جنھیں ایک ہی پلڑے میں تولا نہیں جا سکتا۔ اس موقف میں ہسپانوی ہم پاکستانیوں کے بردارشیر واقع ہوئے ہیں جو حکومتی منت سماجت کے باوجود رات کو جلد کاروبار بند کرنے پر آمادہ نا ہوسکے تاکہ کمیاب بجلی کا بہترمصرف ہوسکے۔
یوں تو مسلمان کی زندگی کا مقصد و ماخذ نبی کریم کی سیرت مبارکہ ہونی چاہیے جو سراپا حکمت و دانائی ہے۔

مگرہسپانوی سیستاہ میں بھی ہم پاکستانیوں کے لیے ایک سبق ہے جن کی حالت زندگی کی تیزرفتاری میں یہ ہوچکی ہے کہ بقول شاعر، نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم! کاروبار حیات میں اس قدرمشغول کہ دن دیکھا نہ رات، صحت کی پرواہ نہ رشتہ ناطہ نبھانے کی فکر۔ یوں جن کی ترقی معیار بنا کراپنی زندگیاں اجیرن کر رکھی ہیں وہ بھی اپنے دنیوی معاملات میں اعتدال پرقائم ہیں۔

دولت کی دھن اور مصنوعی چکا چوند میں معاشرہ بحثیت مجموعی اس قدر کھو چکا ہے کہ متوازن زندگی ایک خواب بن رہ گئی ہے۔معاشی تنگدستی اور مہنگائی کے ہاتھوں اگر کوئی کسر باقی تھی تو ہل من مزید کی خواہش نے وہ بھی پوری کردی۔
 ہم جدید دنیا کی سہولتوں بھری زندگی کی طلب میں ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ زندگی فقط کام دھندہ نہیں بلکہ دینی ودنیوی معاملات میں اعتدال کا نام ہے۔زندگی جہاں نعمت ہے وہیں ایک آزمائش بھی۔ اس نعمت خداوندی سے لطف اندوز ہونا سیکھیے، شکر بجا لائیے اور اپنی اصل کی طرف لوٹیے کہ اسی میں دینا وعاقبت کی فلاح پوشیدہ ہے۔

ہسپانوی ٹاؤن کے مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments