دنیا بھر کی طرح جرمنی کے مختلف شہروں میں بھی کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف مظاہرے کئے جارہے ہیں

اسی سلسلے میں دارلحکومت برلن میں فری کشمیر آرگنائزیشن کی طرف سے ایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا گیا

اتوار اگست 00:38

دنیا بھر کی طرح جرمنی کے مختلف شہروں میں بھی کشمیر میں بھارتی جارحیت ..
برلن (مہوش خان کی رپورٹ، اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 اگست2019ء) جرمنی کے شہر برلن میں برانڈن برگ گیٹ پر کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف ایک احتجاج کی کال دی گئی جس میں نہ صرف پاکستانی کمیونٹی کے افراد نے شرکت کی بلکہ جموں وکشمیر، ہندوستان اور مقامی جرمنز نے بھی شرکت کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ یہ صرف کسی ملک یا سرحدوں کا معاملہ نہیں ہے بلکہ کشمیر میں 370لاء میں تبدیلی انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔

مظاہرے میں مخلتف زبانوں میں تقاریر کی گئیں جن میں اردو ،انگلش، کشمیری، ہندی اور جرمن شامل تھیں ۔اور اس اہم پیغام کو دنیا تک پہنچایا گیا۔۔ احتجاج میں شامل افراد نے اپنے پیغام میں کہا کہ یوں راتوں رات اتنی بڑی تبدیلی ہندوستانی حکومت اور مودی سرکار کے کشمیریوں پر ظلم و ستم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

(جاری ہے)

پچھلے سات دہائیوں سے مظلوم کشمیریوں کا خون پانی کی طرح بہایا جارہا ہے اور یو این او اور دنیا کے مہذب کہلائے جانے والے ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔

۔ جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا تھا کہ 5اگست سے ہمارے ہماری فیملیز سے کشمیر میں رابطے منقطع ہیں۔ پانچ اگست کی رات کو یوں اچانک کرفیو کا نفاز کیا معنی رکھتا ہے ۔ گھروں میں مظلوم کشمیریوں کو محصور کردیاگیا ہے۔جن میں بچے بوڑھے اور خواتین بھی شامل ہیں ۔ہمارا اس مہذب دنیا اور اس میں بسنے والوں سے پر زور مطالبہ ہے کہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کوروکا جائے۔

اور اس خطے میں امن و امان کی بحالی کویقینی بنایا جائے ۔ احتجاج میں وہاں موجود سیاحوں نے خاصی دلچسپی لی اور وہاں موجود افراد سے اس بارے میں آگاہی لی۔ احتجاج میں شریک افراد نے اپنے ہاتھوں میں کشمیری جھنڈے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیر میں ہونے والے بھارتی ظلم و ستم کی کہانی درج تھی۔شرکاء نے ہندوستان اور مودی سرکار کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔

برلن میں پاکستانیوں کا کشمیروں کے حق میں مظاہرہ

برلن میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments