بھارت: ’اِک لڑکی نے میرا دِل چُرایا ہے‘ نوجوان شکایت درج کرانے تھانے پہنچ گیا

چوری کا مقدمہ درج کرنے کے مسلسل اصرار نے تھانے والوں کو مصیبت میں ڈال دیا

Muhammad Irfan محمد عرفان ہفتہ جنوری 17:01

بھارت: ’اِک لڑکی نے میرا دِل چُرایا ہے‘ نوجوان شکایت درج کرانے تھانے ..
دہلی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12 جنوری 2019ء) بھارتی ریاست یُو پی کے شہر ناگ پور کے ایک تھانے میں اُس وقت عجیب و غریب صورتِ حال پیدا ہو گئی جب ایک نوجوان اپنے ’چوری شُدہ‘ دِل کی شکایت درج کروانے پہنچ گیا۔ نوجوان کا کہنا تھا کہ ایک لڑکی نے اُس کا دِل چُرا لیا ہے، لڑکی کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کر کے اُس کا دِل واپس دِلوایا جائے۔ پہلے تو پولیس والے سمجھے کہ نوجوان اُن کے ساتھ مذاق کر رہا ہے۔

مگر نوجوان کا انتہائی سنجیدہ چہرہ دیکھ کر اُنہیں مذاق والی بات حقیقت نہ لگی۔ انہوں نے دِل لُٹانے والے نوجوان کو بہتیرا سمجھایا کہ اس طرح کے رومانی معاملات سے متعلق رپورٹ درج نہیں ہو سکتی۔ مگر نوجوان مسلسل اَڑا رہا کہ جب چوری ہوئی ہے تو چوری کا مقدمہ کیوں درج نہیں ہو سکتا۔

(جاری ہے)

چوری، چوری ہی ہوتی ہے، چاہے دِل کی ہی ہو۔ لاکھ کوشش کے بعد بھی نوجوان رپورٹ درج کروائے بغیر تھانے سے جانے پر تیار نہ ہوا تو تھانے دار نے اس رومانی معاملے پر اپنے افسرانِ بالا سے بات کی۔

انہوں نے بھی تھانے دار کی بات سُن کر پہلے اُسے خوب ڈانٹا، کہ وہ اُن کے مصروفیت بھرے اوقات میں کس طرح کا غیر سنجیدہ معاملہ لے کر بیٹھ گیا ہے۔ لیکن تھانے دار نے اُنہیں ساری صورتِ حال سے آگاہ کیا تو وہ بھی سوچ میں پڑ گئے۔ سینئر پولیس افسران نے لمبی چوڑی بات چیت کے بعد یہ فیصلہ سُنا دیا کہ بھارتی قانون میں ایسی کوئی شق نہیں ہے جس کے مطابق دِل چُرانے والے کے خلاف مقدمے کا اندراج کیا جائے۔

تھانے دار نے کھوئے ہوئے دِل کی واپسی کے منتظر نوجوان کو دو ٹوک الفاظ میں بتا دِیا کہ اُس کے اس پیچیدہ مسئلے کا اُن کے پاس کوئی حل نہیں ہے۔ قانون میں اس نوعیت کے معاملات سے نمٹنے کے کوئی گنجائش نہیں۔ آخر اس عشق کے ہاتھوں بیمار نوجوان کو سِسکیوں اور آہوں کے ساتھ تھانے سے بے مُراد اور ناکام لوٹنا پڑا۔ یہ واقعہ ناگپور پولیس کے کمشنر بھُوشن کمار اُپادھیائے نے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں انعامی رقوم کی تقسیم کے موقع پر سُنایا۔ اُن کا کہنا تھا کہ پولیس والے لُوٹا ہوا مال لوٹا سکتے ہیں، مگر لُوٹا ہوا دِل لوٹانا اُن کے بس سے باہر ہے۔

متعلقہ عنوان :

ناگپور میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments