ایران کا عید کے بعد تمام مذہبی اور مقدس مقامات کھولنے کا اعلان

عید کے بعد تمام مذہبی اور مقدس مقامات کو لوگوں کیلئے کھول دیا جائے گا، تمام مقدس مقامات کو حفاظتی اصولوں کے تحت کھولاجائے گا: صدر حسن روحانی

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ جمعرات مئی 21:30

ایران کا عید کے بعد تمام مذہبی اور مقدس مقامات کھولنے کا اعلان
تہران (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 21 مئی2020ء) ایران کا عید کے بعد تمام مذہبی اور مقدس مقامات کھولنے کا اعلان، ایرانی صدر صدر حسن روحانی نے اعلان کیا ہے کہ عید کے بعد تمام مذہبی اور مقدس مقامات کو لوگوں کیلئے کھول دیا جائے گا، تمام مقدس مقامات کو حفاظتی اصولوں کے تحت کھولاجائے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ حفاظتی اصولوں پر سب کو عمل کرنا ہوگا۔

یاد رہے کہ ایران میں کورونا کیسز بڑھنے پر مارچ میں تمام مزارات اور مقدس مقامات کو بند کر دیا گیا تھا۔ آج بھی ایران میں 2 ہزار 392 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ ایران میں کورونا مریضوں کی مجموعی تعداد 1 لاکھ 29 ہزار سے بڑھ گئی۔ ایرانی وزیرصحت کے مطابق ایران میں 24 گھنٹوں کے دوران 66 اموات بھی سامنے آئیں جس کے بعد مجموعی اموات 7 ہزار249 ہوگئیں۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ دنیا میں کوروناوائرس کے مریضوں کی تعداد 51 لاکھ 9 ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ دنیا کے 3 لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد مہلک وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں اور کورونا کی بیماری سے صحتیاب ہونےوالوٕں کی تعداد 20 لاکھ37 ہزارسے زیادہ ہے۔ کورونا وائرس اب بھی دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور اٹلی کے بعد کورونا وائرس سے سب سے زیادہ اموات فرانس میں ہوئی ہیں۔

امریکہ میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 15لاکھ 93 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے، امریکہ میںگذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے مزید1561 افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 95 ہزار ہوگئی ہے۔ کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کے باعث امریکہ اب دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے، ملک میں وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 1593039تک پہنچ گئی ہے۔ امریکہ اس کے بعد سب سے زیادہ مریض روس، برازیل اور برطانیہ میں ہیں۔ادھر طبی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جنوبی افریقہ میں سال رواںکے آخر تک کورونا وائرس سے 40 ہزار ہلاکتیں ہوسکتی ہیں۔ جنوبی افریقہ میں اب تک کورونا وائرس کے 18000 مصدقہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ وائرس کے باعث339 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

تہران میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments