کویت: ’افطار کے لیے تیار کیا جوس فریج میں کیوں نہیں رکھا؟‘

مشتعل خاوند نے بیوی پر چاقو سے حملہ کر دیا

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ مئی 14:04

کویت: ’افطار کے لیے تیار کیا جوس فریج میں کیوں نہیں رکھا؟‘
کویت(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،15 مئی 2019ء) روزہ انسان کو تحمل، برداشت اور نرمی سے کام لینا سکھاتا ہے۔ مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو روزے کی رُوح کو سمجھ نہیں پاتے اور ایسی ایسی حرکات کر بیٹھتے ہیں جسے سُن کر ہر کوئی اُن کی لعنت ملامت کرنے لگتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ کویت میں پیش آیا جب بدمزاج خاوند صرف اتنی سے بات پر طیش میں آ کر بیوی پر حملہ آور ہو گیا کہ اُس نے افطار کے لیے تیار کیا گیا جُوس فریج میں رکھ کر ٹھنڈا کیوں نہیں کیا تھا۔

کویتی اخبار الرائے کی رپورٹ کے مطابق روزہ دار خاوند نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ جُوس فریج میں رکھ دے تاکہ افطار کے وقت تک ٹھنڈا ہو جائے۔ تاہم جب افطار کے وقت بیوی نے اُس کے آگے جُوس لا کر رکھا تو وہ صحیح طرح سے ٹھنڈا نہیں تھا۔

(جاری ہے)

بیوی سے وجہ پُوچھی تو اس نے بتایا کہ وہ جُوس فریج میں رکھنا بھُول گئی تھی۔ بس اتنی سی بات پر خاوند سیخ پا ہو گیا اوربیوی کو بھلا بُرا کہنے لگا۔

جب دِل کی بھڑاس نکالنے کے بعد بھی غصّہ ٹھنڈا نہ ہوا تو وہ کچن سے چاقو اُٹھا لایا اور بیوی کو مارنے کی کوشش کی۔ افطاری تیار کر کے تھکی ہاری بیوی خاوند کی جانب سے اس قدر اشتعال ظاہر کرنے پر پریشان ہو گئی اور جان بچانے کے لیے باہر کی جانب بھاگی۔ خاتون نے گھر سے باہر آکر پولیس کو کال کی اور خاوند کی اس مذموم حرکت کے بارے میں آگاہ کیا۔

جس پر پولیس نے مشتعل مزاج خاوند کو گرفتار کر کے اُسے حوالات منتقل کر دیا۔ بیوی پر مردانگی جھاڑنے والے خاوند کی ساری اکڑ پولیس کی تفتیش کے دوران ندامت کے پسینے میں بہہ گئی۔ خاوند نے پولیس کے رُوبرو اپنی اس اشتعال انگیز حرکت پر معافی مانگ لی۔ جبکہ خاتون نے بھی اپنے مجازی خاوند کو اس تحریری ضمانت پر معافی دے دی کہ وہ آئندہ اس قدر غصّہ نہیں دکھائے گا۔ واضح رہے کہ یہ کویت میں اس رمضان کے دوران اپنی نوعیت کا واحد کیس نہیں ہے۔ 6 مئی 2019ءکو پولیس نے ایک شخص کو اپنی بیوی کو جُوس کی بوتل سے تشدد کا نشانہ بنانے پر گرفتار کیا تھا۔ اس شخص کی بیوی افطاری میں اُس کا پسندیدہ پکوان تیار نہ کر پائی تھی۔ بس یہی معمولی سی غلطی اس کی مار پیٹ کا باعث بن گئی۔

متعلقہ عنوان :

کویت سٹی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments