کویت میں غیر مُلکیوں کے ساحلِ سمندر پرجانے اور نہانے پر بھی ٹیکس کا امکان

کویت کی خاتون ممبر پارلیمنٹ نے آبادی میں توازن رکھنے کی خاطر انوکھی تجویز پیش کر دی

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل جون 12:38

کویت میں غیر مُلکیوں کے ساحلِ سمندر پرجانے اور نہانے پر بھی ٹیکس کا ..
کویت(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11جُون 2019ء) کویت کی خاتون ممبر پارلیمنٹ نے غیر مُلکیوں کے ساحلِ سمندر پر نہانے پر بھی ٹیکس لگانے کی تجویز پیش کر دی۔ تفصیلات کے مطابق کویتی خاتون ممبر پارلیمنٹ سفا الہاشم نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تارکین وطن کی جانب سے عوامی مقامات اور عمارات کو استعمال میں لانے پر اُن سے فیس وصول کرے۔ خاتون کے مطابق اس اقدام سے مملکت میں مقامی آبادی کے مقابلے میں غیر مُلکیوں کی آبادی بہت زیادہ ہے۔

اس نوعیت کی فیس کے نفاذ سے آبادی کے توازن کو قائم رکھنے میں کامیابی ہو سکتی ہے۔ سفا الہاشم کویتی پارلیمنٹ کی واحد خاتون ممبر ہیں۔ جو مملکت سے غیر مُلکی کارکنوں کی تعداد کو گھٹانے کے حوالے سے انتہائی سخت گیر موقف رکھتی ہیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر اس حوالے سے آواز اُٹھاتی رہتی ہیں۔

(جاری ہے)

سفا نے کہا کہ حکومت کو ساحلِ سمندر پرجانے والوں سے فیس وصول کرنی چاہیے۔

کیونکہ تمام ممالک سمندر کنارے کے تفریحی مقامات پر آنے والوں سے فیس وصول کرتی ہیں۔ جن ممالک سے تارکین وطن کویت آئے ہیں، وہاں بھی ان سے حکومتیں یہ فیس وصول کرتی ہیں۔سفا نے یہ بات کویت ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہی۔ سفا کا مزید کہنا تھا کہ غیر مُلکیوں کی بڑی تعداد میں کویت پر موجودگی یہاں کے انفراسٹرکچر پر بہت بھاری پڑتی ہے۔ انہوں نے کویت میں حال ہی میں تعمیر کیے گئے دُنیا کے چوتھے طویل ترین پُل شیخ جابر کازوے پر بھی غیر مُلکیوں کی آمد و رفت پر ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سفا کا کہنا تھا”میں نے کئی بار خبردار کیا ہے اور اب بھی کر رہی ہوں کہ کویت میں غیر مُلکیوں کی تعداد تیس لاکھ جبکہ مقامی باشندوں کی گنتی 10 لاکھ سے زائد ہے۔ جو یہاں کے انفراسٹرکچر کے لیے ایک بوجھ ہیں۔ یہ لوگ عید کی چھُٹیوں میں پارکوں اور ساحلی مقامات کا رُخ کرتے ہیں تو کوڑا کرکٹ کی بڑی مقدار اکٹھی ہو جاتی ہے۔ اس لیے ان پر فیس لاگو کی جائے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سفا ہاشم کو اُن کے ایک بیان پر بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تارکین وطن کی جانب سے سانس لینے پر بھی ٹیکس نافذ ہونا چاہیے۔

متعلقہ عنوان :

کویت سٹی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments