کویت میں ایک ہی روز میں کورونا کے ریکارڈ 1,073 کیسزسامنے آ گئے

مملکت میں کورونا مریضوں کی مجموعی گنتی 16,764 تک جا پہنچی، مزید تین افراد چل بسے

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ مئی 13:52

کویت میں ایک ہی روز میں کورونا کے ریکارڈ 1,073 کیسزسامنے آ گئے
کویت(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔20مئی 2020ء) خلیجی ریاست کویت میں کورونا مریضوں کی گنتی میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے۔ مملکت میں گزشتہ روز مزید 1,073 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جو مملکت میں کورونا کیسز کا نیا ریکارڈ ہے۔ کویتی وزارت صحت کے مطابق مملکت میں کورونا مریضوں کی مجموعی گنتی 16,764ہو گئی ہے، جن میں غیر ملکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔

وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر عبداللہ السند نے بتایا کہ نئے مریضوں سے رابطے میں رہنے والے افراد کے بھی کورونا ٹیسٹ لیے جا رہے ہیں۔ مملکت میں گزشتہ روز کورونا کے مزید تین مریض دم توڑ گئے جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی گنتی 121 تک جا پہنچی ہے۔اس وقت 179 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ جبکہ کورونا کے 342 مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو لوٹ گئے، جس کے بعد شفا پانے والوں کی کُل گنتی 4,681 ہو گئی ہے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ کویت میں پچھلے کچھ روز سے 24گھنٹے کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جو 30 مئی تک نافذ رہے گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ کویت میں مقیم تمام مسلمانوں کو عید الفطر کی خوشیاں گھروں تک ہی محدود رہ کر منانی ہوں گی۔ کویتی وزارت صحت کے مطابق گز شتہ چند دِنوں میں کویت میں کورونا مریضوں کی گنتی میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کی وجہ کورونا کے ٹیسٹوں کے عمل میں تیزی لانا ہے۔

اب تک مُلک بھر میں 2 لاکھ سے زائد افرادکے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ واضح رہے کہ کویت میں 24 فروری کو کورونا کے ابتدائی کیسز سامنے آئے تھے۔ یہ تین مریض تھے جو ایران سے سفر کر کے واپس آئے تھے، جن کے ملک واپسی پر لیے گئے ٹیسٹ مثبت آئے تھے۔ اس کے بعد کے درجنوں مریض بھی وہی تھے جو ایران سے ہی کویت لوٹے تھے۔ گذشتہ سوموار کو حکومت نے کرفیو کے دورانیے میں مزید پانچ گھنٹے کا اضافہ کردیا ہے اور جمعہ یکم رمضان سے 16 گھنٹے کے اس کرفیو پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ اس کے تحت ریستوران، کیفے ،تمام بڑے تجارتی مراکز، شاپنگ سینٹرز اور بازار بند ہیں۔اس کے علاوہ ریاست میں تمام تفریحی مقامات، کلب اور سیلون بند ہیں اور ان میں خواتین اور بچوں کا داخلہ ممنوع ہے۔

کویت سٹی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments