اومان میں ملازمت کے خواہش مند غیر مُلکیوں کے لیے پھر سے بُری خبر

ملازمت ویزوں پر پابندی میں مزید 6 ماہ کی توسیع کر دی گئی

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر جون 13:05

اومان میں ملازمت کے خواہش مند غیر مُلکیوں کے لیے پھر سے بُری خبر
مسقط( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،3 جُون2019ء) اومانی حکومت نے اومان میں ملازمت کے خواہش مند غیر مُلکیوں کی اُمیدوں پر ایک بار پھرمایوسی کی اوس بکھیر دی ہے۔ اومانی حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ درجنوں پیشوں اور صنعتوں میں غیر مُلکیوں کی بھرتی پر عائد عارضی پابندی میں مزید چھ ماہ کا اضافہ کیا جا ئے گا۔ اس فیصلے کے تحت یکم جولائی 2019ءسے 31 دسمبر 2019ءتک غیر مُلکیوں کے لیے ورک ویزہ کے اجراءپر پابندی عائد ہو گئی۔

اومانی حکومت کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران مختلف اداروں اور کمپنیوں سے 55ہزار کے قریب غیر مُلکیوں کو نوکریوں سے فارغ کر کے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔ اومانی مملکت میں گزشتہ چند ماہ کے دوران مقامی افراد کی بڑی تعداد کو برسرروزگار کرنے کے حوالے سے خصوصی اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

اومانائزیشن پالیسی کے تحت مملکت میں موجود ہزاروں غیر مملکیوں کی جگہ مقامی افراد کو ملازمتیں دی جا رہی ہیں۔

اس پالیسی کو کامیاب بنانے کی خاطر رواں سال کے آغاز پر جنوری2018ءسے 87 شعبوں میں غیر ملکی افراد کو روزگار ویزہ دینے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔یکم جولائی 2018ءکواس پابندی میں مزید6 ماہ کی توسیع کر دی گئی۔جس کے بعد اب اومان کی وزارت انسانی وسائل نے اپنے تازہ ترین اعلان میں کہا ہے کہ پابندی شدہ شعبوں میں بھرتی کی مدت میں مزید 6 ماہ کا اضافہ کر دیا جائے گا۔

جبکہ مزید شعبوں کو بھی مقامی افراد کے لیے مخصوص کیا جا رہا ہے۔جس کے بعد ان شعبوں میں غیر ملکیوں کی جگہ اومانی نوجوانوں کو بھرتی کیا جائے گا۔وزارت کے مطابق خریداری، سیلز نمائندگان، تعمیراتی مزدور، صفائی اور ورکشاپ کے شعبے بھی مقامی افراد کے لیے مخصوص کر دیئے گئے ہیں۔ اومانائزیشن کے اطلاق کے بعد مذکورہ شعبوں سے منسلک کمپنیوں کو غیر ملکی ملازمین کے حصول کے لیے پرمٹس جاری نہیں کیے جائیں گے۔ وزارت کے مطابق غیر اومانی اشخاص کے لیے نوکریوں کے پرمٹس جاری کرنے پر مزید 6 ماہ کی پابندی برقرار رہے گی تاہم پہلے سے کسی عہدے پر تعینات ملازم کے متبادل کے طور پر غیر ملکی کو ویزہ پرمٹ دیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ عنوان :

مسقط میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments