عمان ؛ اپارٹمنٹ پر غیر اخلاقی حرکات میں ملوث 4 خواتین گرفتار

خواتین کو بشار کے ولایت میں ایک اپارٹمنٹ میں عوامی اخلاقیات کے برعکس کام کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا

Sajid Ali ساجد علی بدھ 22 ستمبر 2021 14:51

عمان ؛ اپارٹمنٹ پر غیر اخلاقی حرکات میں ملوث 4 خواتین گرفتار
مسقط ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 22 ستمبر 2021ء )  خلیجی سلطنت عمان کے ایک اپارٹمنٹ پر غیر اخلاقی حرکات میں ملوث 4 خواتین کو گرفتار کرلیا گیا۔ عمانی میڈیا کے مطابق رائل عمان پولیس نے 4 غیر ملکی خواتین کو غیر اخلاقی حرکتوں میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا ہے ، اس ضمن میں آر او پی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چار غیر ملکی خواتین کو بشار کے ولایت میں ایک اپارٹمنٹ میں عوامی اخلاقیات کے برعکس کام کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ، جنہوں نے غیر ملکیوں کے لیے کام اور رہائش کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے ، اس لیے ان کے خلاف قانونی طریقہ کار اختیار کیا گیا۔

 ادھر عمان میں ہی اسمگلنگ کی ایک کوشش بھی ناکام بنا دی گئی ، عمان کسٹمز کی جانب سے ملک میں اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنائی گئی، اس سلسلے میں عمان کسٹمز کی جانب سے عمل میں لائی گئی کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں ملاوٹ شدہ تمباکو کے مختلف مصنوعات کی اسمگلنگ کو ناکام بنا دیا گیا۔

(جاری ہے)

اس ضمن میں عمان کسٹمز کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ الواجہ پورٹ کسٹمز نے بڑی مقدار میں ملاوٹ شدہ تمباکو کی مصنوعات کی سمگلنگ کو ناکام بنا دیا گیا ہے ، جو ٹرک کے ٹائروں کے اندر سختی سے چھپائی گئی تھیں۔

دوسری طرف متحدہ عرب امارات میں دبئی کسٹم افسران نے سرحدی چیک پوسٹ ’حتا‘ کے راستے نایاب نسل کے 64 فالکنز سمگل کرنے کی کوشش اس وقت ناکام بنادی جب سبزیوں سے بھرا ایک ٹرک حتا سرحدی چیک پوسٹ پر پہنچا ، کسٹم افسران نے شبے کی بنیاد پر اس کی تلاشی لی کیوں کہ ٹرک ڈرائیور چیک پوسٹ پہنچنے کے بعد پریشان نظر آرہا تھا ، تلاشی لینے پر ٹرک میں سبزیوں کے کارٹنز کے نیچے چھپائے گئے فالکنز برآمد ہوئے۔

دبئی کسٹم حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سمگلر نایاب نسل کے جانوروں، پرندوں اور پودوں کے بین الاقوامی قانون اور دبئی میں قرنطینہ قانون کی خلاف ورزی کے بھی مرتکب ہوئے کیوں کہ ملزمان ہیلتھ سرٹیفکٹ اور رسمی دستاویزات کے بغیر فالکن کو لے کر سرحدی چیک پوسٹ کے راستے دبئی میں داخل کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

مسقط میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments