عمان ؛ سمندری طوفان کی سیلابی صورتحال میں معمر شخص کی کشتی رانی کی ویڈیو وائرل

بزرگ شہری اپنے گھر کے باہر جمع پانی میں چھوٹی کشتی پر سوار ہیں جسے وہ چپو سے چلا رہے ہیں اس دوران انہیں ناصرف خود لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھا گیا بلکہ انہوں نے دیگر افراد کو بھی سواری کی دعوت دی

Sajid Ali ساجد علی پیر 4 اکتوبر 2021 16:07

عمان ؛ سمندری طوفان کی سیلابی صورتحال میں معمر شخص کی کشتی رانی کی ویڈیو وائرل
مسقط ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 04 اکتوبر 2021ء ) خلیجی سلطنت عمان میں سمندری طوفان کی وجہ سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال میں معمر شخص کی کشتی رانی کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے ایک بزرگ شہری اپنے گھر کے باہر جمع ہونے والے پانی میں ایک چھوٹی کشتی پر سوار ہیں جسے وہ چپو کی مدد سے چلا رہے ہیں اس دوران انہیں ناصرف خود لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھا گیا بلکہ انہوں نے دیگر افراد کو بھی سواری کی دعوت دی۔

 
 
ویڈیو میں دیکھا گیا کہ معمر شخص سمندری طوفان شاہین کی تباہ کاریوں سے بے نیاز اپنے گھروں کے باہر کھڑے پانی میں کشتی رانی کے مزے لے رہا ہے ، اس دوران بزرگ شہری کو بہت خوش گوار موڈ میں دیکھا جاسکتا ہے حالاں کہ ضعیف شہری کے اپنے گھر کے باہر بارشوں کا پانی جمع ہے لیکن وہ اس سے بالکل بھی پریشان نہیں ہے۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ خلیجی ریاست عمان میں سمندری طوفان شاہین نے تباہی مچادی ، شدید بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق ہوگئے ، تباہی مچانے کے بعد طوفان کا زور تو ٹوٹ چکا ہے لیکن اب بھی محکمہ موسمیات کی جانب سے 100 سے 200 ملی میٹر بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے ، سمندری طوفان شاہین کی وجہ سے مسقط اور ساحلی علاقوں میں 120 سے 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلتی رہیں جس کی وجہ سے دارالحکومت مسقط سے تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

ایئرپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ مسقط سے آنے اور جانے والی کچھ پروازوں کو معطل کیا گیا تاکہ خطرات سے بچا جاسکے اسی لیے عمان میں آج بھی عام تعطیل ہے ، عمان کی قومی کمیٹی برائے ایمرجنسی مینجمنٹ کا کہنا تھا کہ مسقط صوبے کے روسیل انڈسٹریل ایریا میں ایک گھر پر لینڈسلائیڈنگ کے بعد امدادی ٹیموں نے وہاں سے 2 آدمیوں کی لاشیں نکالیں ، اسی صوبے میں فلیش فلڈ کے نتیجے میں ایک بچہ جاں بحق اور ایک شخص لاپتہ ہوگیا۔

مسقط میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments