عمان ایک بار پھر طوفانی بارشوں کے بعد سیلاب کی زد میں آگیا

دارالحکومت مسقط اور متعدد صوبے تباہ کن سیلاب میں گھر گئے‘ سلطنت میں نظام زندگی درھم برہم ہو گیا

Sajid Ali ساجد علی بدھ 5 جنوری 2022 14:43

عمان ایک بار پھر طوفانی بارشوں کے بعد سیلاب کی زد میں آگیا
مسقط ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 05 جنوری 2022ء ) عمان ایک بار پھر طوفانی بارشوں کے بعد سیلاب کی زد میں آگیا ، دارالحکومت مسقط اور متعدد صوبے تباہ کن سیلاب میں گھر گئے‘ سلطنت میں نظام زندگی درھم برہم ہو گیا۔ عمانی میڈیا کے مطابق مسقط میں کم از کم 45 افراد کو ریسکیو سروسز نے نکال لیا ، السیب صوبے کے شمالی علاقے الحیل کے سیلاب میں پھنسے ہوئے 5 افراد کو بچالیا گیا ، جب کہ شہری دفاع کی امدادی ٹیموں نے بوشر صوبے کے الغبرۃ مقام پر پھنسے 35 افراد کو بھی نکالا ، الغبرۃ میں پانی کی سطح اچانک بلند ہوگئی تھی جس کی وجہ سے عمانی شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔

عمانی شہری دفاع کے محکمے کی جانب سے مقامی شہریوں اور غیرملکیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر سے کام لیں ، وادیوں اور سیلاب والے مقامات پرجانے کا خطرہ نہ مول لیں کیوں کہ مسقط میں موسلا دھار بارش اور سیلاب کی وجہ سے متعدد رہائشی علاقوں مین پانی بھر گیا ، اس کے علاوہ مسقط کے کئی گاؤں بھی طوفان سے متاثر ہونے کے باعث زیر آب آگئے۔

(جاری ہے)

عمانی محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ غیر مستحکم موسم کا سلسلہ جاری رہے گا ، جس کی وجہ سے بحرعمان اور مسندم صوبے کے ساحلوں پر اونچی لہریں اٹھ رہی ہیں ، سمندر میں طغیانی سے نشیبی ساحلی علاقے مزید ایک روز تک متاثر ہو سکتے ہیں ، اس دوران بارش کے امکانات موجود ہیں اور کبھی کبھار گرج چمک کے ساتھ تیز ہوائیں بھی چلیں گی۔ ادھر رائل عمان پولیس نے موسلا دھار بارش کے دوران عوام کی سلامتی کی خاطر مسقط کے متعدد روڈز بند کردے ، مسقط کی جانب وزارتوں والے علاقے میں جانے والا روڈ بھی بند کردیا گیا ہے ، ملبے سے متاثر ہونے والی سڑکوں میں وادی القحفی کے اوور فلو کی وجہ سے بریمی واجہ روڈ اور وادی عدائی سڑک جو ولایت امارت کی طرف جاتی ہے ، سلطان قابوس اسٹریٹ کے عزیبہ سیکشن کے لیے بھی نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ، جہاں ٹریفک عارضی طور پر روک دی گئی ، ROP نے مشورہ دیا کہ اپنی گاڑی کو نشیبی علاقوں سے دور ایک محفوظ جگہ پر پارک کرنا یقینی بنائیں اور ایسی چیزوں سے بچیں جو تیز ہواؤں کی وجہ سے اڑ سکتی ہیں۔

مسقط میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments