سعودی عرب کے بعد اب ایک اور خلیجی ملک میں بھی خواتین ٹیکسی چلاتی نظر آئیں گی

عمان کے دارالحکومت مسقط میں خاتون ٹیکسی پائلٹ منصوبے کا آغاز کیا جائے گا ‘ 20 جنوری سے آزمائشی بنیادوں پر شروع ہونے والی سروس 'فیمیل ٹیکسی' سروس صرف خواتین ڈرائیوروں کے ذریعے چلائی جائے گی

Sajid Ali ساجد علی جمعہ 14 جنوری 2022 13:48

سعودی عرب کے بعد اب ایک اور خلیجی ملک میں بھی خواتین ٹیکسی چلاتی نظر آئیں گی
مسقط ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 14 جنوری 2022ء ) سعودی عرب کے بعد اب ایک اور خلیجی ملک عمان میں بھی خواتین ٹیکسی چلاتی نظر آئیں گی۔ عمانی میڈیا کے مطابق خلیجی سلطنت کے دارالحکومت مسقط میں خاتون ٹیکسی پائلٹ منصوبے کا آغاز کیا جائے گا جس کے تحت ایک 'فیمیل ٹیکسی' سروس صرف خواتین ڈرائیوروں کے ذریعے چلائی جائے گی ، 20 جنوری 2022 سے مسقط گورنریٹ میں آزمائشی بنیادوں پر شروع کی جانے والی اس سروس سے خواتین مسافروں، طلباء اور بچوں کو فائدہ پہنچنے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔

اس سلسلے میں عمان نیوز ایجنسی (ONA) نے ایک بیان میں کہا کہ منسٹری آف ٹرانسپورٹ ، کمیونیکیشنز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی خواتین ٹیکسی سروس کو اوٹیکسی ایپلی کیشن کے لیے لائسنس فراہم کررہی ہے ، چاہے یہ فوری یا ایڈوانس ریزرویشن سسٹم کے ذریعے ہو ، یہ سروس جمعرات 20 جنوری 2022 سے گورنریٹ آف مسقط میں آزمائشی بنیادوں پر شروع کی جائے گی۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ اس سے پہلے سعودی حکومت خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے کے بعد ٹیکسی چلانے کی اجازت بھی دے چکی ہے ، سعودی خواتین کو ڈرائیونگ کا حق ملنے کے چار سال سے بھی کم عرصے کے بعد کہا گیا ہے کہ وہ اب ٹیکسی ڈرائیور بننے کے لیے بھی درخواست دے سکتی ہیں ، اس بات کا اعلان سعودی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ٹریفک نے کیا ، بیان میں کہا گیا ہے کہ خواتین ریاض، جدہ، جازان، عسیر، نجران، جوف، حائل اور طائف سمیت مملکت کے شہروں میں سے کسی بھی 18 ڈرائیونگ اسکولوں میں ''جنرل ٹیکسی لائسنس'' کے لیے درخواست دے سکتی ہیں ، جس کا لائسنس کے لیے درخواست دینے کی قیمت SR200 ($53) ہے ۔

مرد ڈرائیورز کے ساتھ سفر کرنے کے حوالے سے ایک سعودی خاتون نے اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک خاتون کے طور پر مجھے ہمیشہ اس موضوع کے ساتھ ایک مسئلہ درپیش تھا ، میں نے کبھی بھی مرد ڈرائیور کے ساتھ ٹیکسی میں سوار ہونے میں آسانی محسوس نہیں کی ، دنیا بھر میں زیادہ تر ٹیکسی ڈرائیور مرد ہیں لیکن آپ کچھ ممالک میں خواتین ڈرائیوروں کو بھی دیکھتے ہیں ، یقینی طور پر ایک مرد کے مقابلے میں خاتون ڈرائیور کے ساتھ سواری کرنا زیادہ آرام دہ ہے۔

مترجم اسیل عاطف نے کہا کہ اس اعلان سے خواتین کو ملازمتوں کے مواقع ملیں گے ، 2018 میں گاڑی چلانے کا حق ملنے کے بعد سے نقل و حمل کے میدان میں سعودی خواتین کے لیے کئی کیریئر کھل گئے ہیں، جن میں ٹرینیں چلانا، ہوائی جہاز اڑانا اور یہاں تک کہ ریسنگ کاریں شامل ہیں ، اس فیصلے نے خواتین کو اوبر اور کریم جیسی رائیڈ نگ ایپس کے لیے بطور ڈرائیور کام کرنے کی بھی اجازت دے دی ہے۔

مسقط میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments