سعودی کفیل کو مردہ پاکستانی ملازم پر بھی ترس نہ آیا

کفیل نے متوفی کے ویزہ پر خروج اور رہائشی پرمٹ کی تنسیخ کے لیے بھاری رقم کا مطالبہ کر دیا

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر فروری 12:20

سعودی کفیل کو مردہ پاکستانی ملازم پر بھی ترس نہ آیا
دمام(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔25فروری 2019ء ) پاکستان کے شہر گجرات سے تعلق رکھنے والا شاہد علی جو چند ہفتے قبل سعودی مملکت میں انتقال کر گیا تھا۔ اُس کے ورثاء اُس کا آخری دیدار کرنے اور اُسے قریبی قبرستان میں دفنانے کے لیے دِن رات تڑپ رہے تھے، مگر اُن کی اس خواہش کے آگے ایک بے رحم سعودی کفیل دیوار بن گیا۔ 36 سالہ شاہد علی مغربی صوبے میں ایک سعودی کے ہاں ڈرائیور کی نوکری کرتا تھا۔

19 جنوری کو وہ اچانک بیمار پڑا جس پر اُسے دمام کے ایک ہسپتال لے جایا گیا جہاں اُس کا آناً فاناً انتقال ہو گیا۔ متوفی شاہد علی کے گجرات میں مقیم لواحقین نے اُس کی لاش واپس لانے کے لیے گزشتہ ماہ کوششیں شروع کر دی تھیں۔ اس معاملے میں ریاض میں موجود پاکستانی سفارت خانے نے بھی متوفی کے کفیل سے رابطہ کیا کہ وہ اپنے مرحوم ملازم کے پاسپورٹ پر خروج ویزہ کی مہر لگوا دے اور اُس کے رہائشی پرمٹ کی تنسیخ بھی کروا دے کیونکہ اس پراسیس کے بغیر شاہد علی کی لاش کو واپس پاکستان نہیں بھجوایا جا سکتا تھا۔

(جاری ہے)

تاہم اس سخت دِل سعودی نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ جب تک اُسے 10 ہزار سعودی ریال ادا نہیں کیے جائیں گے، وہ یہ کام نہیں کرے گا۔ سعودی سپانسر کا مطالبہ تھا کہ شاہد دراصل کسی اور کے لیے کام کر رہا تھا۔ اس لیے وہ اُس کے خروج ویزہ اور رہائشی پرمٹ کی منسوخی کا خرچہ نہیں اُٹھائے گا۔ جب یہ معاملہ سُلجھتا نظر نہ آیا اور پاکستانی کی لاش کو سعودیہ میں ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا تو آخر دمام میں مقیم ایک پاکستانی سماجی کارکن نیاز منُشی نے مشرقی صوبے کے امیر شہزادہ سعود بن نائف سے رابطہ کیا، جنہوں نے علاقے کی پولیس کو ہدایات جاری کیں اور یوں اس بدنصیب پاکستانی کی لاش کی وطن واپسی ممکن ہو سکی۔

پاکستانی سفارت خانے نے متوفی کی نعش کو کیمیکل لگا کر محفوظ کرنے اور دیگر مراحل کے تمام تر اخراجات خود برداشت کیے جبکہ پی آئی اے کی جانب سے متوفی شاہد علی کے مردہ جسم کو بلا معاوضہ پاکستان منتقل کیا گیا۔ جہاں اُس کی لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔

الدمام میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments