20 سال سے بچھڑے سعودی بیٹے کا بالآخر والدین سے ملاپ ہو ہی گیا

سعودی بیٹے کے والد سے ملاپ کی ویڈیو وائرل، ڈی این اے کی وجہ سے سعودی نوجوان اپنے والدین سے ملنے میں کامیاب ہوا ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ فروری 10:46

20 سال سے بچھڑے سعودی بیٹے کا بالآخر والدین سے ملاپ ہو ہی گیا
دمام(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔19فروری 2020ء) کچھ روز قبل ایک خبر سعودی میڈیا کی زینت بنی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ 20 سال قبل دمام کے ایک ہسپتال سے دو مختلف واقعات میں اغوا ہونے والے بچوں کا پتا چل گیا ہے اور انہیں اغوا کر کے پالنے والی 50 سالہ خاتون بھی گرفتار ہو چکی ہے۔ اس مقدمے میں سعودی عوام کی جانب سے گہری دلچسپی کا اظہار کیا گیا تھا۔

بالآخر بچھڑے والدین کا اپنے بیٹے سے پہلی بار مِلن ہو ہی گیا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 20 سال قبل اغوا شدہ ایک لڑکے کی ڈی این اے کی مدد سے شناخت ہوگئی ہے اور اس کا اپنی پیدائش کے بعد پہلی مرتبہ اپنے حیاتیاتی خاندان سے دوبارہ ملاپ ہوگیا ہے۔دمام میں علی الخنیزی کے گھر میں عید کا سماں ہے۔ گھر کے دروازے ہر ایک کے لیے کھلے ہیں۔

(جاری ہے)

موسیٰ کی دادی جو الاحساء کمشنری میں رہتی ہیں اپنے پوتے سے ملنے دمام پہنچ گئیں۔

دوردور سے لوگ اس کے گھر پہنچ رہے ہیں، کچھ لوگ گوگل میپ کے ذریعے ایڈریس تلاش کر رہے ہیں۔ موسیٰ الخنیزی نامی اس لڑکے کو 1999ء میں ایک سعودی عورت نے الدمام میں واقع میٹرنٹی اور چلڈرن اسپتال سے پیدائش سے صرف تین گھنٹے کے بعد ہی اغوا کر لیا تھا۔1990ء کی دہائی میں الدمام میں اسپتال سے اس انداز میں دو لڑکے اغوا ہوئے تھے اور ان وارداتوں سے سعودی عرب بھر میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی تھی۔

اسی عورت نے تین سال قبل 1996ء میں ایک اور عورت کا بچّہ بھی اسی انداز میں اغوا کیا تھا۔اس نامعلوم عورت نے ان دونوں بچوں کی پرورش کی اور انھیں یہ بتایا تھا کہ وہ اس کے ہاں بغیر شادی کے پیدا ہوئے تھے۔پولیس ان دونوں لڑکوں کی بازیابی کے لیے مسلسل تحقیقات کرتی رہی تھی لیکن وہ انھیں کہیں سے برآمد کرنے میں ناکام رہی تھی۔لیکن ان دونوں لڑکوں کے اس طرح پْراسرار انداز میں اغوا کا معما اس عورت نے خود ہی حل کرنے میں مدد دی ہے۔

اس عورت نے ان دونوں لڑکوں کی عمر بیس سال ہونے کے بعد ان کے شناختی کارڈ کے حصول کے لیے درخواست دائر کی لیکن ان کے والد کا نام نہیں لکھا۔اس پر پولیس کو شْبہ ہوا اور اس نے ان دونوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا۔ان کے نمونے اس عورت سے نہیں ملے۔علی الخنیزی کی اہلیہ کا بھی ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا اور اس کے نتائج سے یہ انکشاف ہوا کہ ان میں ایک لڑکا درحقیقت ان کا سگا بیٹا موسیٰ الخنیزی ہے۔

اس کے بڑے بھائی محمد الخینزی نے العربیہ کو بتایا ہے کہ ان کی والدہ نے اسپتال میں ایک اجنبی عورت کو اپنے کمرے میں آنے کی اجازت دی تھی۔تب اس عورت نے کہا کہ وہ نومولود کو نہلانا چاہتی ہے اور وہ یہ کہہ کراس کو باہر لے گئی۔وہ پھرکبھی واپس نہیں آئی اوران کے نومولود بھائی کو لے کر کہیں غائب ہوگئی تھی۔محمد الخینزی کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان نے موسیٰ کی تلاش اور اس کے انتظار میں بیس سال کا طویل عرصہ گزارہ ہے۔

ان کے والد نے تو اپنے بیٹے کی محفوظ واپسی کے لیے کئی مرتبہ انعامات کا بھی اعلان کیا تھا۔ان دونوں لڑکوں کو اغوا کے بعد پالنے پوسنے والی اس سعودی عورت کی عمر اب پچاس سال سے زیادہ ہے۔اس نے پولیس کو بتایا ہے کہ اس نے ان دونوں بچّوں کو بیس پچیس سال قبل لاوارث پایا تھا اور پھر انھیں خود پالنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ پولیس کی حراست میں ہے اور اس سے تحقیقات کی جارہی ہے۔

الدمام میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments